خیبرپختونخوا کے ضلع سوات کے علاقے بنڑ میں پیر کی شب پولیس سٹیشن کے اندر ایک نوجوان کی ہلاکت نے سوالات اٹھا دیے ہیں۔
اس واقعے کے مدعی اور گواہ مقتول نوجوان کے ماموں فریدون خان ہیں جن کی مدعیت میں ایف آئی آر درج ہوئی ہے۔
مزید پڑھیں
اس حوالے سے اُردو نیوز نے ماموں فریدون خان سے گفتگو کی جنہوں نے بتایا کہ ’وہ 23 جنوری کو شام کے وقت حجرے میں بیٹھے ہوئے تھے کہ ان کا بھانجا عبید خان آیا اور انہوں نے بتایا کہ کچھ لوگوں سے میری تکرار ہوئی جس کے بعد انہوں نے مجھے مارا پیٹا۔‘
’جب میں دیکھنے کے لیے بھانجے کے ساتھ باہر نکلا تو وہاں پر پانچ افراد کھڑے تھے۔ جیسے ہی ہم قریب پہنچے انہوں نے بغیر بات کیے میرے بھانجے عبید کو پکڑ کر گاڑی میں ڈالا اور مجھے بھی ساتھ لے گئے۔ راستے میں مجھے معلوم ہوا کہ یہ پولیس اہلکار ہیں جو سادہ کپڑوں میں ملبوس ہیں۔‘
’عبید کو الگ کمرے میں مارا پیٹا جا رہا تھا‘
’پولیس سٹیشن بنڑ پہنچ کر مجھے الگ حوالات میں رکھا گیا جبکہ عبید کو الگ کمرے میں لے گئے جہاں اسے مارا پیٹا جا رہا تھا۔‘
مقتول نوجوان(عبید) کے ماموں نے بتایا کہ ’میں اس وقت بہت چیخا چِلایا اور بھانجے کی طرف سے پولیس اہلکاروں سے معافی مانگی تاکہ وہ اسے چھوڑ دیں مگر میری ایک نہ سنی گئی۔‘
’کچھ دیر بعد گولی چلنے کی آواز آئی۔ مجھے پولیس اہلکار نے بتایا کہ بھانجے کو گولی لگی ہے، میں بھاگ کر اندر گیا تو عبید خان شدید زخمی تھا اور قریب پستول بھی پڑا ہوا تھا۔‘
’میں نے دیگر پولیس اہلکاروں کے ہمراہ اسے ہسپتال پہنچانے کی کوشش کی مگر وہ زخموں کی تاب نہ لا سکا۔‘
مقتول کے ماموں فریدون کے مطابق ’عبید بہت خوش اخلاق لڑکا تھا اور گاؤں میں سب کی عزت کرنے والا تھا۔‘
’عبید خان اپنے والد کا بڑا بیٹا تھا۔ وہ کالج میں تعلیم مکمل کرنے کے بعد یونیورسٹی میں جانے کی خواہش رکھتا تھا۔‘
