Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

کیا مریم نواز کے چیف آرگنائزر بننے سے ن لیگ کو فائدہ ہوا؟

گزشتہ تین ہفتوں میں مریم نواز نے پارٹی میں کئی تبدیلیاں کی ہیں۔ (فوٹو: مریم نواز فیس بک)
مسلم لیگ ن ان دنوں اپنی اتحادی جماعتوں کے ساتھ اقتدار میں ہے۔ پارٹی کے قائد نواز شریف علاج کی غرض سے لندن میں مقیم ہیں جبکہ ان کی صاحبزادی مریم نواز عملی طور پر پارٹی کی چیف آرگنائزر کے طور پر پارٹی چلا رہی ہیں۔
تین ہفتے قبل جب وہ ملک میں واپس آئیں تو سیاسی مبصرین کا خیال تھا کہ مہنگائی کی وجہ سے مسلم لیگ ن کو حکومت میں رہتے ہوئے جن مسائل کا سامنا ہے، مریم نواز پارٹی کے ان مسائل کو دور کرنے میں کردار ادا کر سکتی ہیں۔
گزشتہ تین ہفتوں میں مریم نواز نے پارٹی میں کئی تبدیلیاں کی ہیں۔ لاہور کی صدارت سیف الملوک کھوکھر کو دینے کے ساتھ ساتھ خواتین کی تنظیم اور سوشل میڈیا کی ٹیموں کو آرگنائز کیا ہے۔ انہوں نے پارٹی کے کئی کنونشنز کی بھی صدارت کی۔
سیاسی مبصرین کا خیال ہے کہ مریم نواز چیف آرگنائزر بننے کے بعد پارٹی کو کوئی خاطر خواہ فائدہ نہیں پہنچا سکی ہیں۔
سینئر تجزیہ کار سہیل وڑائچ نے اردو نیوز سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ’اگر تو آپ یہ پوچھنا چاہتے ہیں کہ کیا مسلم لیگ ن کے مسائل مریم نواز حل کر سکتی ہیں؟ تو میرا جواب ہے کہ سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔‘
انہوں نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ ’اس وقت صرف اور صرف نواز شریف ہی اپنی پارٹی کو سیاسی بھنور سے نکال سکتے ہیں۔ میرے خیال میں انہوں نے پہلے ہی بہت تاخیر کر دی ہے۔ ان کو اس وقت ملک میں ہونا چاہیے تھا۔‘
’مریم نواز تو میرے خیال میں ان کے آنے سے پہلے ذرا میدان ہموار کر رہی ہیں۔ پارٹی پر ان کی گرفت ویسی نہیں ہو سکتی جیسی نواز شریف کی ہے۔

سہیل وڑائچ کے مطابق ’مریم نواز کی پارٹی پر گرفت ویسی نہیں ہو سکتی جیسی نواز شریف کی ہے۔‘ (فوٹو: روئٹرز)

چند روز قبل راولپنڈی کنونشن میں صحافیوں کے ساتھ غیر رسمی ملاقات نے انہوں نے اس سوال کا جواب، کہ ان کے پارٹی کی چیف آرگنائزر بننے کے بعد بڑا فائدہ کیا سامنے آیا ہے، یوں دیا کہ ’میں ابھی تک صرف پارٹی کو ری آرگنائز کر رہی ہوں اور ایک ایک ورکر تک خود پہنچ رہی ہوں، ابھی میدان کی سیاست شروع ہی نہیں کی ہے۔ ہماری لیڈر شب اس وقت حکومت میں ہے اور وزرا ہیں تو وہ اس وقت ملک کو معاشی مسئلے سے نکالنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ جب سیاسی میدان سجے گا توصورت حال مختلف ہو گی۔‘
خیال رہے کہ مریم نواز کو پارٹی کے اندر سے بھی مخالفت کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ شاہد خاقان عباسی نے دبے الفاظ میں مریم نواز کو چیف آرگنائرز بنائے جانے پر نہ صرف اعتراض کیا بلکہ انہوں نے سینیئر نائب صدر کے عہدے سے بھی استعفٰی دے دیا۔
مسلم لیگ ن کی پنجاب کی ترجمان عظمی بخاری کہتی ہیں کہ ’مریم نواز نے جس طریقےسے پارٹی کو دوبارہ منظم کرنا شروع کیا ہے وہ حیرت انگیز ہے۔ ان کی ساری توجہ نوجوانوں پر ہے اور وہ پارٹی کی سوشل میڈیا پر موجودگی پر بھی بڑا کام کر رہی ہیں۔ ان کے ذمہ جو کام لگائے گئے ہیں وہ بخوبی نبھا رہی ہیں۔‘
مریم نواز کامیاب ہو رہی ہیں یا ناکام اس سوال کا جواب دیتے ہوئے سہیل وڑائچ کا کہنا تھا کہ ’یہ سوال ابھی قبل از وقت ہے یہ بات درست ہے کہ اس وقت ان کا کام آرگنائزیشنل موڈ میں ہے۔ ان کے کنونشن ہوئے ہیں کوئی بہت بڑے مجمے نہیں تھے۔ اب دیکھنا یہ ہو گا کہ جب الیکشن کی سیاست شروع ہو گی تو جلسے ہوں گے تو اس وقت وہ کتنا کراؤڈ اکھٹا کرتی ہیں۔‘

مریم نواز کو پارٹی کے اندر سے بھی مخالفت کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ (فوٹو: مریم نواز فیس بک)

انہوں نے مزید کہا کہ ’ان کا سیاسی تجربہ بھی ابھی بہت کم ہے لیکن بھی انہوں نے اپنے آپ کو منوایا ہے۔ یہ سب کو نظر آ رہا تھا کہ اگر پارٹی کی ساکھ بچانی ہے تو نواز شریف کو اب واپس آنا ہو گا۔ شاہد خاقان ہوں خواجہ آصف ہوں یا دیگر لیڈر سب اس بات کا اظہار کر چکے ہیں۔‘

شیئر: