Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

’جینا مرنا پاکستان‘، قانونی طور پر مقیم افغانوں کے خدشات

اعظم خان کا کہنا ہے کہ ہمارے گھر کے تمام افراد کے پاس پاکستانی شناختی کارڈ ہیں۔ (فوٹو: اعظم خان)
پاکستان کے صوبہ پنجاب میں جی ٹی روڈ اور مختلف اضلاع اور دیہات کو جانے والی شاہراؤں کے ساتھ ساتھ چھوٹی چھوٹی کچی بستیاں نظر آتی ہیں۔ان بستیوں میں وہ افغان خاندان مقیم ہیں جو غالباً پاکستان بننے سے بھی پہلے یہاں آئے تھے۔ 
ان سب کو بھی عموماً افغان مہاجرین ہی سمجھا جاتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ انہوں نے اتنا طویل عرصہ گزر جانے کے باوجود اپنی الگ شناخت، رہن سہن اور ذرائع معاش کو برقرار رکھا ہوا ہے۔ 
افغان مہاجرین کو جب کبھی واپس بھیجنے کی بات ہوتی ہے تو کئی دہائیوں سے پاکستان میں مقیم ان افغان خاندانوں کو بھی خدشہ محسوس ہونے لگتا ہے کہ کہیں ان کو بھی ملک سے بے دخل نہ کر دیا جائے۔ ایسے ہی خاندانوں میں ایک خاندان صوبہ پنجاب کے ضلع گجرات کی تحصیل کھاریاں کے کئی دیہات میں آباد ہے۔ 
پاکستان میں غیرقانونی طور پر مقیم غیرملکیوں کو نکالنے کے لیے حالیہ آپریشن کے آغاز کے ساتھ ہی افغان خاندانوں کو بھی خدشات لاحق ہو گئے ہیں کہ کہیں حکومت ان کے خلاف کوئی کارروائی نہ کرے۔ 
اعظم خان کے دادا نے پاکستان بننے سے پہلے افغانستان کے صوبہ قندھار سے ہجرت کی اور متحدہ ہندوستان آئے۔ پاکستان کے مختلف شہروں میں رہے۔1941 میں اعظم خان کے والد حاجی خان پاکستان میں ہی پیدا ہوئے۔ 
اردو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے اعظم خان نے بتایا کہ ’میرے والد حاجی خان کے پاس پہلی قانونی دستاویز 1958 میں لاہور سے بننے والا ڈرائیونگ لائسنس تھا جس کی ان کی وفات تک تجدید کروائی جاتی رہی۔ وہ جس کمپنی کے ساتھ ڈرائیونگ کرتے تھے، ہمارا ان کے ساتھ اب بھی رابطہ برقرار ہے۔‘
ان کے مطابق ’بھٹو دور میں شناختی کارڈ بننا شروع ہوئے تو میرے والد اور چچا نے شناختی کارڈ بھی بنوائے۔ 80 کی دہائی کے آغاز پر وہ پاکستانی پاسپورٹ پر ملازمت کے لیے سعودی عرب بھی گئے اور کافی عرصے وہاں مقیم رہے۔‘

اعظم خان کا کہنا ہے کہ ہمیں خدشہ ہے کہ کہیں افغانوں کو نکالنے کے آپریشن میں ہمیں بھی یہاں سے نہ نکال دیا جائے۔ (فوٹو: اعظم خان)

انھوں نے بتایا کہ ’پاکستان بننے سے پہلے ہمارا خاندان پنجاب میں نہریں اور نالے کھودنے کے لیے ٹھیکے لیا کرتا تھا۔ اس لیے جہاں کام ہوتا تھا خانہ بدوشوں کی طرح وہیں پر ڈیرے ڈال لیا کرتے تھے۔ ہم نے تقریباً 60 سال پہلے ایک ہی جگہ رکنے کا فیصلہ کیا۔ ہمارا خاندان تحصیل کے دیہات نورجمال، فتہ بھنڈ، چھمبر، چنن، گکھڑ، دھنی، دھوریاں، ڈھلیان اور امرہ کلاں میں آباد ہے۔ ہم میں سے اکثر انتہائی قریبی رشتہ دار ہیں جب کہ کچھ برادری کے لوگ ہیں۔‘
اعظم خان نے پرانی یادوں کو تازہ کرتے ہوئے کہا کہ ’ایک زمانے میں ہم گدھوں کے ذریعے بھرتی ڈالنے کا کام کرتے تھے اور ساتھ میں کوئی بھی مزدوری مل جاتی تو کر لیا کرتے تھے۔ پھر ٹریکٹر ٹرالی کا کام شروع کیا۔ ہمارے پاس اب ٹریکٹر، ٹرالی اور ایکسکیویٹرز ہیں جب کہ علاقے کے بڑے بڑے کاموں کے ٹھیکے بھی ہم ہی لیتے ہیں۔‘
انھوں نے بتایا کہ ’ہمارے گھر کے تمام افراد کے پاس پاکستانی شناختی کارڈ ہیں۔ اب تو ہم کچھ عرصے سے ووٹ بھی کاسٹ کرتے ہیں۔ کچھ کے پاس پاکستانی پاسپورٹ بھی ہیں۔ میرا چھوٹا بھائی اب بھی سعودی عرب میں کام کر رہا ہے۔‘
اتنا عرصہ پاکستان میں رہنے کے باوجود مکانات تعمیر نہ کرنے اور کچے مکانوں میں رہنے کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں اعظم خان نے کہا کہ ’پہلے غربت اتنی تھی کہ مکان بنانے کا کبھی سوچا ہی نہیں تھا۔ شروع سے ہمارا رہن سہن ہی کچے مکانات میں ہے تو کبھی خیال ہی نہیں آیا کہ مکان بنایا جائے۔ زمین خریدنے کا بھی کبھی نہیں سوچا کہ ہماری توجہ ہمیشہ کاروبار پر ہی رہی ہے۔ اب گاؤں کے ایک بندے نے ہمیں مکان بنانے کے لیے کچھ زمین دی ہے۔ شاید مکان بنا لیں۔‘
 انھوں نے بتایا کہ ’اب جب ملک میں غیر قانونی طور پر غیر ملکیوں کو نکالنے کا فیصلہ ہوا ہے تو ہمیں خدشہ ہے کہ کہیں اس آپریشن میں ہمیں بھی یہاں سے نہ نکال دیا جائے۔ ہمارا جینا مرنا پاکستان ہے۔ میرے تو باپ کو بھی معلوم نہیں تھا کہ افغانستان میں ہمارا گھر کہاں ہے۔ میں یا میرے بھائیوں اور بچوں میں سے کسی نے قندھار دیکھا بھی نہیں۔‘

اعظم خان نے بتایا کہ ان کے والد 88 سال کی عمر میں فوت ہوئے تھے۔ (فوٹو: اعظم خان)

اعظم خان جب یہ بات کر رہے تھے تو انہوں نے جذباتی ہوتے ہوئے کہا کہ ’میرا باپ 88 سال کی عمر میں فوت ہوا۔ اس دوران وہ ایک دو بار ہی افغانستان گیا ہو گا۔ میرے ماں باپ کی قبریں نورجمال میں ہیں۔ میں بھی 55 کا ہوگیا ہوں اب اگر مجھے واپس افغانستان بھیجا جائے تو میرے پلے تو کچھ بھی نہیں بچتا۔‘
انھوں نے کہا کہ ’اگرچہ ہم گاؤں سے ہٹ کر رہتے ہیں لیکن علاقے کے تمام دیہات کے تمام گھروں کے ایک ایک فرد کے ساتھ ہمارا رابطہ ہے۔ ہم ان کی غمی خوشی میں خاندان کے افراد کی طرح شامل ہوتے ہیں۔ ہماری دوستیوں کی لوگ مثالیں دیتے ہیں۔‘
انھوں نے کہا کہ ’ہماری حکومت سے اپیل ہے کہ ہمارے پاس 1958 سے اب تک کی تمام قانونی اور شناختی دستاویزات موجود ہیں۔ وہ چاہیں تو تصدیق کر سکتے ہیں۔ لیکن یہ یاد رکھیں کہ پاکستان سے تعلق ہماری زندگی ہے۔ ہماری سانسیں پاکستان کے دم سے ہیں۔ اب پاکستان تب ہی چھوڑیں گے جب سانسیں ہمارا ساتھ چھوڑیں گی۔‘

اعظم خان کے مطابق ان کے پاس 1958 سے اب تک کی تمام قانونی اور شناختی دستاویزات موجود ہیں۔ (فوٹو: اعظم خان)

اس حوالے سے پنجاب افغان مہاجرین کمشنریٹ کا کہنا ہے کہ ’موجودہ آپریشن صرف اور صرف غیر قانونی طور پر مقیم غیر ملکیوں کے خلاف ہے چاہے ان کا تعلق افغانستان سے ہو یا کسی اور ملک سے اس لیے جو افغان مہاجرین قانونی طور پر موجود ہیں اور ان کے پاس دستاویزات موجود ہیں تو انھیں پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔‘
پنجاب میں آباد اعظم خان کے خاندان جیسے افغان خاندانوں کے بارے میں کمشنریٹ نے وضاحت کی ہے کہ پالیسی اور قانون کے تحت وہ تمام افراد جن کے پاس 1978 سے پہلے پاکستان میں رہنے کا کوئی قانونی ثبوت موجود ہے تو وہ پاکستانی ہیں۔ انھیں مہاجر نہیں کہا جا سکتا۔ وہ پاکستانی ہیں اور نادرا سے شناختی کارڈ بنوانے کے اہل ہیں۔ جن افغان شہریوں کو پاکستانی شناختی کارڈ ملے ہیں انھیں اسی قانون کے تحت ہی ملے ہیں۔ اس لیے ایسے خاندان مہاجرین کی کیٹگری میں بھی نہیں آتے اور ان کے خلاف کوئی کارروائی بھی نہیں کی جا رہی۔‘

شیئر: