Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

’جلد بازی کی وجہ سے چوہدری سرور بار بار سیاسی ٹریک بدلتے ہیں‘

چوہدری سرور کے سیاسی سفر کا آغاز پیپلزپارٹی کے پلیٹ فارم سے ہوا (فائل فوٹو: سکرین گریب)
لاہور کے ایک مقامی ہوٹل میں منعقد ایک تقریب میں چوہدری سرور سے ق لیگ کی سیاسی حکمت عملی سے متعلق سوال کیا تو انہوں نے برجستہ کہا ’چوہدری شافع سے پوچھیں۔ میرے پاس کچھ نہیں ہے۔‘
یہ ان دنوں کی بات ہے جب ان کے خلاف کوئی سوشل میڈیا کمپین چل رہی تھی اور نہ ہی ان کی ق لیگ سے دوری زبان زد عام تھی۔
گزشتہ ہفتے وہ برطانیہ روانہ ہوئے تو سوشل میڈیا پر تحریک انصاف سے وابستہ اکاؤنٹس سے یہ سوال پوچھا جانے لگا کہ کیا تحریک انصاف چوہدری سرور کو واپس لے گی؟
ایسے ہی کسی سوال کا جواب دیتے ہوئے تحریک انصاف کے رہنما مونس الٰہی نے کہا کہ ’انہوں (چوہدری سرور) نے ہمیں اس وقت کہا تھا کہ چپ رہیں اور تحریک انصاف کے ساتھ نہ جائیں اور ہمیں پی ڈی ایم اور پی ٹی آئی کا مشترکہ امیدوار بنائیں گے۔ انہوں نے کاغذات نامزدگی میں تاخیر کروائی اور پھر وزیراعظم عمران خان نے انہیں برطرف کیا۔‘
سوشل میڈیا پر تحریک انصاف کے حامی اپنی قیادت کو بار بار اس بات پر متنبہ کرتے دکھائی دے رہے ہیں کہ وہ چوہدری سرور کو پارٹی میں واپس نہ لیں۔
چوہدری سرور کی تحریک انصاف میں واپسی کی باتیں اس وقت ہونا شروع ہوئیں جب ان کے سگے بھائی چوہدری رمضان کی وفات کی خبر سامنے آئی۔
چوہدری رمضان ٹوبہ ٹیک سنگھ میں تحریک انصاف کے سرگرم رہنما اور ٹکٹ ہولڈر بھی رہے ہیں۔
سیاسی مبصرین کے مطابق یہی وہ وجہ ہے جس کے بعد چوہدری سرور اپنی گھر کی سیٹ کو اپنے پاس رکھنے کے لیے سرگرم ہوئے ہیں۔
چوہدری سرور کا شمار ان سیاسی رہنماؤں میں کیا جا سکتا ہے جنہوں نے تقریباً سبھی بڑی پارٹیوں میں جس تیزی سے شمولیت کی اسی تیزی سے انہیں چھوڑ بھی دیا۔
ان کے سیاسی سفر کا آغاز پیپلزپارٹی سے ہوا لیکن وہ باقاعدہ طور پر سیاسی منظرنامے پر اس وقت نمودار ہوئے جب 2013 میں مسلم لیگ ن نے انہیں پنجاب کا گورنر تعینات کیا۔
تحریک انصاف کا دھرنا شروع ہوتے ہی ان کا جھکاؤ اس طرف ہو گیا اور بالآخر انہوں نے گورنرشپ سے استعفیٰ دیا اور باقاعدہ طور پر تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کی ، بعد میں ایک مرتبہ پھر انہیں پنجاب کی گورنری سونپ دی گئی۔
سال 2022 میں جب اس وقت کے وزیر اعظم عمران خان نے انہیں اس وقت برطرف کیا جب انہوں نے اپنی لیڈر شپ کے خلاف پریس کانفرنس کی تو اس کے بعد انہوں نے مسلم ق میں شمولیت اختیار کر لی۔
سیاسی تجزیہ کار سلمان غنی کہتے ہیں کہ ’چوہدری سرور کی سیاسی جلدبازی کے باعث انہیں بار بار ٹریک بدلنا پڑتا ہے۔ میری ان سے تفصیلی بات ہوئی ہے اور وہ اس وقت تک تحریک انصاف میں جا رہے ہیں اور اس کی منظوری عمران خان کی طرف سے بھی ہو گئی ہے۔ یہ خود انہوں نے مجھے بتایا۔ اس کی بڑی وجہ خاندان ہے۔‘
 انہوں نے مزید بتایا کہ ’چوہدری رمضان کی سیٹ بڑی تگڑی ہے اور ان کا بڑا نام ہے وہاں ۔ چوہدری سرور یہ سمجھتے ہیں کہ ابھی بھی سیاسی طور پر تحریک انصاف ہی اہم ہے۔ لیکن اس بار وہ جلدی واپس نہیں آئیں گے بلکہ گلاسگو اور سکاٹ لینڈ میں تحریک انصاف کی برطانوی تنظیم میں اپنا اثر و رسوخ بنائیں گے۔‘
تجزیہ کار سہیل وڑائچ کہتے ہیں کہ چوہدری سرور چاہتے تھے کہ وہ سیاسی طور پر کوئی بڑا کردار ادا کریں ’انہیں عہدہ تو دیا گیا لیکن سیاست میں وہ اس طرح سے متحرک نہیں ہو سکے۔‘
’اگر وہ ٹوبہ ٹیک سنگھ کی سیٹ پر آزاد حیثیت میں انتخابات میں حصہ لیں گے تو بھی ان کے پاس فیصلہ کرنے کا وقت ہو گا۔وہ ہمیشہ چاہتے تھے کہ منتخب ہو کر اسمبلی پہنچیں تو میرا خیال ہے اب وہ سوچ سمجھ کر ہی کوئی قدم اٹھائیں گے۔‘

شیئر: