آج کالم کی ابتدا ایک کہانی سے کرتے ہیں، میں نے یہ کہانی لگ بھگ27 سال پہلے سنی اور تب سے دل میں کھپ گئی۔ اس سے بہت متاثر ہوا اور یہ بات سمجھ آ گئی کہ اپنے شعبے میں نمایاں ہونے اور بہتر پرفارم کرنے کے لیے کیا کرنا چاہیے؟
برسوں کے غور کے بعد یہ بھی سمجھ آئی کہ فرد کی مثال قوم کی طرح ہے۔ ایک طرح سے یہ فرد کے ساتھ قوم کی ترقی کا فارمولا بھی ہے۔ ہم نے پچھلے چند برسوں میں اپنے آس پاس کے ممالک میں سے بعض کا نمایاں ہونا دیکھ لیا ہے۔غور کریں گے تو اس کے پیچھے بھی یہی کہانی نظر آئے گی۔ خیر کہانی کی طرف آتے ہیں:
کہتے ہیں کہ قدیم یونان میں ایک چھوٹی سی ریاست تھی۔ ریاست کا جانشین ایک حساس اور دردمند انسان تھا۔ اسے یہ بڑا عجیب لگتا کہ عوام میں معاشی اعتبارسے بہت تفاوت ہے۔ اس نے سوچا کہ انہیں معاشی اعتبار سے مساوی کر دینا چاہیے۔ اس نے اپنے والد سے یہ ذکر کیا۔ جہاندیدہ باپ نے بیٹے کو سمجھایا کہ دنیا میں کبھی بھی سب لوگ ایک جیسے نہیں ہوسکتے کہ ان کی صلاحیتوں اوراستعداد کار میں بڑا فرق ہے۔ جو اپنی صلاحیتوں کا بہتر استعمال کرے گا، اسے دوسروں پر برتری حاصل ہوجائے گی۔
مزید پڑھیں
-
دودھ کے پیالے میں تیرتی گلاب کی پتیاں: عامر خاکوانی کا کالمNode ID: 849071
-
نظر آتی ہی نہیں صورتِ حالات کوئی، عامر خاکوانی کا کالمNode ID: 855441
ان کو ایک جیسا دیکھنے کی خواہش بچگانہ ہی ہے۔ نوجوان بیٹا یہ سن کر خاموش تو ہوگیا، مگر اس کا اضطراب ختم نہ ہوا۔
کچھ عرصہ گزرا تو بیٹے نےعوام میں موجود معاشی تفریق ختم کرنے کا سوچا۔ اعلان کرایا گیا کہ آج سے شہریوں کے تمام اثاثے ریاست کی ملکیت ہیں۔ اس کے بعد وہ اثاثے برابری کی بنیاد پر ان میں بانٹ دیے گئے۔ آہستہ آہستہ پتہ چلا کہ لوگوں میں وہی پرانی حالت لوٹ آئی ہے۔ ان میں سے چند امیر، کچھ لوگ درمیانےاور کچھ غریب ہوچکے ہیں۔
اس نے وجہ جاننے کے لیے چند داناؤں پر مشتمل ایک کمیٹی تشکیل دی جس کا سربراہ ریاست کے سب سے بڑے ریاضی دان اور فلسفی کو بنایا گیا۔ دو مہینے بعد کمیٹی نے تفصیلی رپورٹ پیش کی۔
یونانی دانش وروں نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ دولت کی تقسیم اور اس کے ارتکاز کے پیچھے ایک خاص قسم کا تناسب موجود ہے۔ کمیٹی کی تحقیق کے مطابق اگر سو افراد میں مساوی طور پر سو ایکڑ زمین تقسیم کر دی جائے تو کچھ عرصے کے بعد 20 افراد کے پاس 80 ایکڑ آجائیں گے یعنی 20 فی صد افراد کل اثاثوں کے80 فیصد کے مالک بن جائیں گے۔
باقی ماندہ اسی افراد کے پاس صرف 20 ایکڑ رہ جائیں گے یعنی ہر ایک کے حصے میں ایک چوتھائی ایکڑ آئے گا۔ کچھ مزیدعرصہ گزرنے کے بعد ایک اور تبدیلی آجاتی ہے ۔اس بار طبقہ امرا کے 20 میں سے چار افراد 64 ایکڑز (یعنی کل اثاثے کے اسی فیصد) کے مالک بن جاتے ہیں۔ جب کہ 16 افراد کے پاس صرف ایک ایک ایکڑ رہ جاتا ہے۔ اسی طرح نچلے طبقے کے 80 افراد میں سے کئی اب اپنے ایک چوتھائی ایکڑ سے بھی ہاتھ دھوبیٹھتے ہیں۔ ان کا گزارہ اب بھیک مانگ کر ہی ہوسکتا ہے۔
دانش وروں کی کمیٹی نے ریاست کے لاتعداد لوگوں سے گفتگو کر کے یہ نتیجہ بھی اخذ کیا کہ تقریباً سب کامیاب لوگوں میں تین اہم خصوصیات مشترک ہیں۔ پہلی یہ کہ ان کی زندگی میں ایک واضح مقصد ہوتا ہے۔ دوسرا وہ اپنے ہدف کےحصول کے لیے پوری یکسوئی کے ساتھ مصروف عمل رہتے ہیں۔ تیسرا وہ اپنی غلطیوں سے سبق سیکھتے اورانہیں دہراتے نہیں۔

یہ کہانی یا یونانی حکایت ممکن ہے کسی کو مبالغہ آمیز لگے اور وہ اسے موٹیویشنل سپیکرز کی تقریروں کا کرشمہ قرار دیں۔ ہمارے ہاں ویسے بھی اب فیشن آ گیا ہے کہ موٹیویشنل سپیکرز کے رد میں پورا زور لگا دیا جائے۔ شاید ان سے ہمیں شکوہ یہ ہے کہ اس منفی دنیا میں وہ مثبت باتیں کیوں کرتے ہیں؟
ایسے ناقد ایک اور دلچسپ حقیقت جان لیں کہ ایک صدی قبل اطالوی نژاد فرانسیسی ماہر عمرانیات اور ماہر معاشیات تقریباً اسی نتیجے پر پہنچا تھا۔ یہ دانشور ولفریڈو پریٹو تھے۔
1948 کو پیرس میں مقیم ایک اطالوی گھرانے میں جنم والے پریٹو نے ریاضی اور معاشیات کی اعلیٰ تعلیم حاصل کی۔ وہ فلورنس، اٹلی کی یونیورسٹی میں معاشیات اورمینیجمنٹ پڑھاتے رہے۔ انہیں اٹلی چھوڑ کر سوئٹزرلینڈ جانا پڑا اور وہ باقی عمر وہاں کی ایک یونیورسٹی میں معلم رہے۔
ان کا سوشیالوجی میں ایک اہم کام ’فرسٹ سوشل سائیکل تھیوری‘ ہے۔ ان کا یہ فقرہ بھی خاصا مشہور ہے، ’تاریخ اشرافیہ کا قبرستان ہے۔‘ پریٹو کے بہت سے نظریے ماڈرن معاشیات، تاریخ اورسوشیالوجی میں آج تک استعمال ہو رہے ہیں۔
پریٹو نے 1906 میں یہ تجزیہ پیش کی کہ اٹلی کے 20 فیصد لوگ کُل ملکی دولت کے 80 فیصد کے مالک ہیں جب کہ باقی 80 فیصد لوگوں کے پاس صرف 20 فیصد دولت ہے۔ بعد میں انہوں نے مختلف ممالک کے تحقیقی دورے کیے۔ اطالوی فلسفی کو حیرت ہوئی کہ دنیا بھر میں دولت کی تقریباً ایسی ہی تقسیم ہوئی ہے۔
پریٹو کی اس تھیوری کو 80-20 لاء بھی کہا جاتا ہے۔ اس تھیوری کومزید آگے بڑھایا جائے تو یہ کم وبیش اسی نتیجے پر پہنچتی ہے جس پر صدیوں پہلے کے یونانی فلسفی پہنچے تھے۔
