لکھنؤ کے میونسپل کمشنر اندرجیت سنگھ کا کہنا ہے کہ ’ایک مطالعے سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ کوئلے اور لکڑی کے کم استعمال سے ایئر کوالٹی انڈیکس میں بھی کمی آئی ہے اس وجہ سے لوگوں کو کوئلے اور لکڑی کے بجائے گیس کا استعمال کرنے کی ترغیب دی گئی ہے۔‘
این ڈی ٹی وی کے مطابق اندرجیت سنگھ نے کہا ہے کہ ’لکھنؤ میں دو ہزار سے زائد تندور ہیں، ہم نے ٹیرا (انرجی اینڈ ریسورسز انسٹی ٹیوٹ) کے ساتھ ایک تحقیق میں یہ معلوم کیا ہے کہ ایئر کوالٹی انڈیکس میں کمی آرہی ہے اور ہم نان بائیوں سے بھی یہ گزارش کر رہے ہیں کہ وہ تندوروں میں کوئلے کے بجائے گیس کا استعمال کریں۔‘
یہ تبدیلی ریستورانوں کے مالکان کے لیے بھی اہمیت کی حامل ہے۔ مالکان کا کہنا ہے کہ اس تبدیلی کو سب کو اپنانا چاہیے۔
تقریباً 120 سال سے قائم ’ٹُنڈے کبابی‘ ریستوران کے مالک مہد عثمان کا خیال ہے کہ حکومت کے اس فیصلے پر عمل درآمد ہونا چاہیے۔
وہ کہتے ہیں کہ ’اس میں کوئی شک والی بات نہیں ہے کہ کوئلے کی اپنی ایک خصوصیت ہے لیکن اگر حکومت نے اسے تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا ہے تو ہمیں بھی اس فیصلے پر عمل درآمد کرنا ہو گا۔‘
دوسری جانب اترپردیش کے احمد آباد کی 90 سال سے قائم شدہ کباب کی ایک دکان کے مالک کا کہنا ہے کہ گیس سے کباب اندر سے اس طرح نہیں پک سکتے جیسے کوئلے اور لکڑی سے پکتے ہیں۔
وہ کہتے ہیں کہ ’کوئلہ کباب کو پرسکون انداز میں ہلکی آنچ پر پوری طرح سے پکاتا ہے، گیس ایسا نہیں کر سکتی اور کوئلے سے پکے کباب کا ذائقہ بھی بالکل مختلف ہوتا ہے۔‘
ایک اور ریسٹورنٹ کے مالک نے کہا کہ حکومت کے اس فیصلے کی وجہ سے لکھنؤ کے کباب کی پہچان خراب ہو جائے گی۔
وہ کہتے ہیں کہ ’یہاں کے کلچے اور شیرمال بہت پسند کیے جاتے ہیں، شیرمال گیس پر نہیں پکایا جا سکتا، اس فیصلے سے لکھنؤ کے کھانوں کی پہچان ختم ہو جائے گی۔‘
گاہکوں کا بھی یہ خیال ہے کہ یہ فیصلہ کھانوں کے ذائقوں میں تبدیلی لا سکتا ہے۔ دوسری جانب کچھ افراد کا یہ خیال بھی ہے کہ ماحولیات کے تحفظ کے لیے اس قسم کے اقدامات ضروری ہیں۔