Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

ڈونلڈ ٹرمپ امریکہ کے 47 ویں صدر بن گئے، عہدے کا حلف اٹھا لیا

امریکہ کے نومنتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ، جنہوں نے دوبارہ منتخب ہونے کے لیے مواخذے، کریمنل کیسز اور قاتلانہ حملوں کا کامیابی سے مقابلہ کیا، پیر کو امریکہ کے 47 ویں صدر کے طور پر اپنے عہدے کا حلف اٹھا لیا۔
صدر ٹرمپ کی حلف برداری کی تقریب، جو کہ شدید سردی کی لہر کے سبب انڈور منتقل کی گئی تھی، پاکستانی وقت کے مطابق رات 10 بجے شروع ہوگئی تھی۔
صدر ٹرمپ نے ایک ہاتھ اپنے والدہ کی جانب سے دیے گئے بائبل پر رکھ کر جب کہ دوسرا ہاتھ ہوا میں لہرا کر حلف لیا۔ صدر ٹرمپ سے حلف امریکی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس جان رابرٹس نے لیا۔
حلف برداری کی تقریب میں نائب صدر جے ڈی وینس نے بھی اپنے عہدے کا حلف اٹھا لیا۔
صدر ٹرمپ کی تقریب حلف برداری  میں پاکستان سے پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور وزیر داخلہ محسن نقوی شریک تھے۔
تقریب میں سبکدوش ہونے والے صدر جو بائیڈن اور نائب صدر کملا ہیرس سمیت امریکہ کے سابق صدور باراک اوبامہ، جارج بش اور  بل کلنٹن بھی موجود تھے۔
اس سے قبل تقریب میں شرکت کے لیے سبکدوش ہونے والے صدر جو بائیڈن اور ڈوبلڈ ٹرمپ نے ایک ساتھ وائٹ ہاؤس سے ایک ہی گاڑی میں کیپیٹل ہل پہنچے۔
اس سے قبل جو بائیڈن اور ٹرمپ اپنی بیگمات کے ساتھ وائٹ ہاؤس میں رایتی چائے پر ملاقات کی۔  وائٹ ہاؤس پہنچنے پر جو بائیڈن اور ان کی بیگم نے ٹرمپ کا استقبال کیا۔ بائیڈن نے ٹرمپ کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ ’گھر واپسی پر خوش آمدید۔‘
خیال رہے 2017 میں صدر ٹرمپ اپنی پہلی مدت کی حلف برداری میں ایک ’سیاسی اجنبی‘ کے طور پر موجود تھے تاہم آج ان کی حلف برداری میں ان کے اردگرد امریکہ اور دنیا کے امیر ترین افراد، ٹیکنالوجی کمپنیوں کے مالکان، سی ای اوز اور بااثر افراد کا جمگٹھا لگا ہوا تھا۔   
 امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق حلف برداری کی باضابطہ تقریب شروع ہونے سے پہلے ہی گہما گہمی اس وقت شروع ہوگئی تھی جب ڈونلڈ ٹرمپ اپنی شریک حیات کے ساتھ ایس ٹی جونز چرچ دعائیہ تقریب میں شرکت کے لیے پہنچے
کیپٹل پر امریکی جھنڈا ٹرمپ کی حلف برداری تقریب کے لیے فل لہرایا گیا، حالانہ سبکدوش ہونے والے صدر جو بائیڈن نے سابق امریکی صدر جمی کارٹر کی وفات پر امریکی جھنڈا 30 دن کے لیے سرنگوں کرنے کا حکم دیا تھا۔
اتوار کو واشنگن کے کیپیٹل ون ارینا میں بڑے مجمع سے خطاب کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی انتخابی مہم کے دوران کیے جانے والے بیانات اور اعلانات کو دہرایا تھا۔
انہوں نے بائیڈن کی ’ناکام انتظامیہ‘ کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا تھا کہ وہ ’کرپٹ سیاسی اسٹبلشمنٹ‘ کی اجارہ داری ختم کریں گے۔
ٹرمپ نے اپنے حامیوں کو بتایا تھا کہ ’کل  دن 12 بجے امریکہ کی تنزلی کے چار سالوں کا اختتام ہوگا اور ہم امریکہ کی طاقت، خوشحالی، عزت اور احترام کے ایک نئے دن کا آغاز کریں گے۔‘
ریلی سے خطاب میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ لاکھوں کی تعداد میں تارکین وطن کو نکالنے کے لیے اقدامات کریں گے جو امریکہ کی تاریخ میں ملک بدری کی سب سے بڑی کوشش ہو گی۔ 
ٹرمپ نے کہا کہ ’امریکی تاریخ کی یہ سب سے بڑی سیاسی تحریک ہے اور 75 روز قبل ہمیں ایک اہم سیاسی جیت حاصل ہوئی جو اس سے پہلے ہمارے ملک نے کبھی نہیں دیکھی تھی۔‘
انہوں نے عہدہ سنبھالتے ہی ’تاریخی رفتار‘ کے ساتھ کام کرنے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ  ’ہمارے ملک کو درپیش ہر ایک بحران کو حل کروں گا۔‘
ٹرمپ کے ساتھ سٹیج پر دنیا کے امیر ترین شخص اور سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس کے مالک ایلون مسک بھی موجود تھے جن کو ٹرمپ نے حکومتی بیروکریسی کی اجارہ داری ختم کرنے اور انتظامیہ کے اضافی اخراجات میں کمی لانے کی ذمہ داری سونپی ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ صدر منتخب ہونے کے بعد سے ہی ایسے بیانات دیتے آئے ہیں جس سے یہ عندیہ ملتا ہے کہ آئندہ چار سالوں میں امریکہ کی اندرونی اور خارجہ پالیسی کیا رخ اختیار کرنے جا رہی ہے۔
حالیہ چند ہفتوں میں ٹرمپ نے گرین لینڈ اور پاناما کنال پر قبضے کے علاوہ کینیڈا کو امریکہ کا حصہ بنانے کے حوالے سے بیانات پر اپنے اتحادیوں کو تشویش میں مبتلا کر رکھا ہے۔
ٹرمپ نے کہا کہ وہ صدارتی منصب سنبھالنے کے چند گھنٹوں میں ہی ’بائیڈن انتظامیہ کا ہر انتہا پسند اور بیوقانہ ایگزیکٹیو آرڈر‘ منسوخ کریں گے۔

 

شیئر: