Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

فیس بک: ’اب صحافیوں کی خدمات لی جائیں گی‘

صحافیوں کی ٹیم مصدقہ اور بڑی خبروں کو منتخب کرے گی۔ (فوٹو:اے ایف پی)
سوشل میڈیا نہ صرف دوستوں سے رابطے کا ذریعہ ہے بلکہ اب تو اسے معلومات کا اہم ٹول بھی سمجھا جاتا ہے۔ ایک وقت تھا کہ جب خبروں کے لیے ٹیلی ویژن اور اخبارات پر ہی انحصار کیا جاتا تھا لیکن اب دنیا کے کسی بھی کونے میں کوئی بھی واقعہ ہو سوشل میڈیا خصوصاً فیس بک پر وہ خبر یوں پھیلتی ہے جیسے جنگل میں آگ۔
لیکن فیس بک جہاں خبروں سے فوری آگاہ رہنے کا ذریعہ ہے وہیں اس کا ایک منفی پہلو یہ بھی ہے کہ اکثراوقات اس  پلیٹ فارم سے کچھ ایسی خبریں بھی وائرل ہوتی ہیں جن کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ ایسی خبروں کو عام اصطلاح میں فیک نیوز کہا جاتا ہے۔
فیک نیوز یعنی جعلی خبروں نے صارفین کو جھنجھٹ میں بھی مبتلا کر رکھا ہے اور اس کی روک تھام کے لیے فیس بک انتظامیہ کی طرف سے کئی برس سے کوششیں کی جا رہی تھیں۔ لیکن بالآخر اب فیس بک نے اپنے صارفین تک مصدقہ اور معیاری خبریں پہنچانے کے لیے ایک نیا منصوبہ تیار کرلیا ہے۔

مارک زکربرگ نے فیس بک پر جعلی خبروں کو روکنے کے لیے ایک نئے منصوبے کا اعلان کیا تھا۔ (فوٹو:اے ایف پی)

فرانسیسی خبررساں ادارے اے ایف پی کے مطابق فیس بک نے منگل کو تصدیق کی ہے کہ وہ ’نیوز ٹیب‘ متعارف کروانے جارہی ہے جسے تجربہ کار صحافی چلائیں گے۔ اس مقصد کے لیے صحافیوں کی ایک ٹیم کی خدمات لی جائیں گی جو متعلقہ، مصدقہ اور بڑی خبروں کو منتخب کرے گی۔
واضح رہے کہ فیس بک کے سربراہ مارک زکربرگ نے فیس بک پر جعلی خبروں کی اشاعت کو روکنے کے لیے ایک نئے منصوبے کا اعلان کیا تھا۔انھوں نے غلط خبروں کو سنجیدگی سے لینے اور ان کی جانچ اور تصدیق کرنے پر زور دیا تھا۔
فیس بک کے نیوز سیکشن کے سربراہ کیمپبیل براؤن نے اے ایف پی کو بتایا کہ ’نیوز ٹیب کا مقصد انتہائی متعلقہ اور مصدقہ خبروں کو سامنے لانا ہے۔ نیوز ٹیب کے لیے ہم صحافیوں کی ایک ٹیم کو اکٹھا کر رہے ہیں تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ ہم درست خبریں اور معلومات فراہم کررہے ہیں۔‘
تاہم  براؤن کا کہنا تھا کہ زیادہ تر خبریں جو صارفین دیکھ سکیں گے ان کا جائزہ سافٹ ویئر لے گا۔

فیس بک انتظامیہ اس حوالے سے کچھ پبلشرز کو معیاری خبروں سے متعلق مواد سامنے لانے کا معاوضہ بھی ادا کرے گی۔ (فوٹو:اے ایف پی)

یہ ٹیب اس فیس بک کی اس نیوز فیڈ سے مختلف ہوگی جس میں صارفین اپنے دوستوں کا شیئر کیا گیا مواد اور دیگر تازہ ترین معلومات دیکھتے ہیں۔
فیس بک واچ نامی سروس پہلے سے ہی موجود ہے جس کے ذریعے صارفین نیوز شوز دیکھ سکتے ہیں۔
براؤن نے رواں ماہ اپنی ایک ٹویٹ میں کہا تھا کہ ’ہم فیس بک کے نیوز ٹیب کے لیے میڈیا انڈسٹری کے ساتھ کام کر رہے ہیں،اس سال ہماری تمام تر توجہ یہی ہے۔ میرا خیال ہے کہ ہم فیس بک صارفین کو خبروں سے متعلق بہترین تجربہ دے سکتے ہیں۔‘
فیس بک اس حوالے سے کچھ پبلشرز کو معیاری خبروں سے متعلق مواد سامنے لانے کا معاوضہ بھی ادا کرے گی۔

شیئر: