Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

ڈکیت گروہ کو 37 برس قید اور کوڑوں کی سزا   

مجرموں کے خلاف 10 ٹھوس ثبوت فراہم کیے.فوٹو ۔ اخبار 24
مکہ مکرمہ کی اپیل کورٹ نے 6رکنی ڈکیت گروہ کو مجموعی طور پر 37 برس قید اور کوڑوں کی سزا کا حکم سنا دیا ۔مجرموں نے 15 گھرو ں میں ڈکیتی کی واردات کی تھی ۔
عربی روزنامے عکاظ کے مطابق مجرموں نے مختلف اوقات میں جدہ کے رہائشی کمپائونڈ کے 15 بنگلوں میں ڈکیتی کی وارداتیں کی جہاں سے سونے کے زیورات ، نقدی ، قیمتی اشیاء کے علاوہ ایک مکان کی تجوری بھی اپنے ساتھ لے گئے جس میں 10 لاکھ ریال کے قریب رقم موجود تھی ۔
اخبار کا کہنا ہے کہ دوران تحقیقات معلوم ہوا کہ مجرموں نے ایک لیڈی ڈاکٹر کے گھر سے لیپ ٹاپ اور دیگر قیمتی اشیاء بھی چرائی تھیں ۔
پراسیکیوشن کے ادارے نے جب گرفتار گروہ کے ابتدائی ارکان سے تحقیقات کی تو انہو ںنے اپنے ساتھیوں کے بارے میں معلومات نہیں دیں جس کی وجہ سے ان پرساتھیوں کو چھپانے کا الزام بھی عائد کردیا گیا ۔
عدالت نے جرم کی سنگینی دیکھتے ہوئے پہلے ،دوسرے  اور تیسرے مجرم کو 8 برس قید اور 800 کوڑوں کی سزا کا اعلان کیا جبکہ چوتھے ، پانچویں مجرم کو 5 برس قید اور 500کوڑے اور چھٹے مجرم کو 3 برس قید اور 300 کوڑوںکی سزا کا حکم سنایا گیا ۔
عدالت میں پراسیکیوشن جنرل کے ادارے کی جانب سے مجرموں کے خلاف 10 انتہائی ٹھوس ثبوت بھی فراہم کیے تھے جس کے بعد انکی جانب سے انکار کی کوئی گنجائش ہی نہیں رہی ۔
مجرموں کے خلا ف ثبوتوں کے بعد عدالت نے انہیں قید اورجرمانے کی سزا سنادی ۔ 
واضح رہے سعودی عرب میں کوڑوں کی سزا سرعام دی جاتی ہے ۔ سزا پر عمل درآمد سے قبل اعلان کرنے والا مجرم کے جرم کے بارے میں تفصیل سے حاضرین کو آگاہ کرتا ہے اور عدالتی فیصلے کے بارے میں بھی بتاتا ہے ۔
کوڑوں کی سزا اسی مقام پر دی جاتی ہے جہاں مجرم نے جرم کیا تھا ۔ اس حوالے سے ماہرین سماجی امور کا کہنا ہے کہ سرعام سزا پر عمل درآمد کا بنیادی مقصد معاشرے کو برائیوں سے روکنا ہے تاکہ دوسرے بھی عبرت حاصل کریں جبکہ مجرم بھی آئندہ کے لیے تائب ہو جائے۔
واٹس ایپ پر سعودی عرب کی خبروں کے لیے ”اردو نیوز“ گروپ جوائن کریں

شیئر: