پاکستان کے صوبے خیبرپختنوخوا کے صوبائی دارالحکومت پشاورمیں 25 سالہ سکھ نوجوان پروندر سنگھ کو گولی مار کر قتل کر دیا گیا۔
پشاور پولیس کے مطابق پروندرسنگھ کی لاش جی ٹی روڈ پر تھانہ چمکنی کی حدود سے برآمد کی گئی ہے۔
تفتیشی افسر ریاض خان نے اردو نیوز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’اتوار کو رات پونے ایک بجے مقتول کے موبائل فون سے اس کے بھائیوں کو کال کر کے اطلاع دی گئی کہ آپ کے بھائی کو قتل کر کے کے پھینک دیا ہے۔‘
مزید پڑھیں
-
سکھوں کی افطاری کیونکہ 'محبت ہر مرض کی دوا ہے'Node ID: 420461
-
گردوارہ ننکانہ کے باہر احتجاج کے بعد اب حالات قابو میںNode ID: 451276
-
’سکھ برادری کی دل آزاری کرنے پر معذرت خواہ ہوں‘Node ID: 451416
ریاض خان کے مطابق پوسٹ مارٹم مکمل ہونے کے بعد لاش کو لواحقین کے حوالے کر دیا گیا ہے۔
پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق پروندر سنگھ کی ہلاکت سر پر گولی لگنے سے ہوئی۔ پولیس کا کہنا ہے کہ مقتول کے جسم پر کسی قسم کے تشدد کے نشانات نہیں پائے گئے ہیں۔‘
پولیس کے مطابق ’ابھی تک واقعے کی جگہ کا تعین نہیں ہو سکا۔ ملزمان نے قتل کرنے کے بعد لاش جی ٹی روڈ پر پھینک دی، جہاں وقوعہ پیش آیا ابھی اس مقام کا تعین کیا جا رہا ہے۔‘
پروندر سنگھ کے بھائی ہرمیت سنگھ صحافی ہیں اور وہ اسلام آباد میں ایک نجی ٹی وی چینل کے ساتھ منسلک ہیں۔
ہرمیت سنگھ نے پشاور پریس کلب کے باہر میڈیا سے گفتگو میں بتایا کہ ’پروندر سنگھ ملائیشیا میں کاروبار کرتے تھے اور چند روز قبل ہی پاکستان آئے تھے۔‘

’پروندر سنگھ کی فروری میں شادی طے پا چکی تھی اور وہ اسی سلسلے میں خریداری کے لیے پشاور آئے تھے۔‘
ہرمیت سنگھ کے مطابق ’ان کی کسی سے کوئی دشمنی نہیں ہے۔‘ انہوں نے پاکستان میں اقلیتوں کے تحفظ پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’اقلتیوں کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے پاکستان کو بیرونی ممالک سے فنڈنگ بھی ملتی ہے، لیکن حکومت اقلیتوں کو تحفظ فراہم کرنے میں ناکام ہے۔‘
’اقلتیوں کا ڈھنڈورا تو آپ پیٹتے ہیں لیکن ہر سال ہمیں لاشیں اٹھانا پڑتی ہیں۔‘
انہوں نے مطالبہ کیا کہ ’ان کے بھائی کے قاتلوں کو سامنے لایا جائے اور ان کو سزا دی جائے۔‘
