سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر نے موبائل نمبرز کے ذریعے ٹوئٹر صارفین کا کھوج لگانے والے ’فیک اکاؤنٹس‘ کے ایک بہت بڑے نیٹ ورک کا پتا چلا کر اسے ختم کر دیا ہے۔
فیک اکاؤنٹس کا یہ نیٹ ورک لوگوں کے موبائل نمبرز کے ایک ڈیٹا بیس ’اے پی آئی‘ کا غلط استعمال کرتے ہوئے ان موبائل نمبرز سے منسلک ٹوئٹر اکاؤنٹس اور انہیں چلانے والے شہریوں کا پتا چلا رہا تھا، جس سے بہت سے شہریوں کی سکیورٹی کو شدید خطرات لاحق ہو گئے تھے۔
یہاں اس بات قابل ذکر ہے کہ بہت سے ٹوئٹر صارفین سماجی رابطوں کی اس ویب سائٹ پر اپنی شناخت ظاہر نہیں کرتے اور ٹوئٹر ان کے اس حق کو تسلیم کرتا ہے۔
مزید پڑھیں
-
فون چوری ہونے پر ڈیٹا کی حفاظت کیسے؟Node ID: 445861
-
فون کے لیے سکرین پروٹیکٹرNode ID: 455026
-
ای میل میں بڑے سائز کی فائل کیسے بھیجی جائے؟Node ID: 456361
ٹوئٹر نے تین فروری کے ایک اعلامیہ میں یہ تو بتا دیا کہ ادارے نے ان سب فیک اکاؤنٹس کو معطل کر دیا ہے اور یہ کہ اس حوالے سے ہونے والی تحقیقات کی تفصیلات جاری کی جارہی ہیں تا کہ صارفین کو پتا چل سکے کہ ’کیا ہوا اور ہم نے اس مسئلے کو کیسے حل کیا۔‘
تاہم سماجی رابطوں کی اس بڑی ویب سائٹ نے یہ تفصیلات جاری نہیں کیں۔ نہ تو فیک اکاؤنٹس کے اس بڑے نیٹ ورک کے بارے میں تفصیلات بتائیں اور نہ ہی یہ بتایا کہ یہ نیٹ ورک کس ملک سے آپریٹ کر رہا تھا۔
اردو نیوز کے رابطہ کرنے پر ٹوئٹر کے ’ڈیٹا پروٹیکشن ڈیپارٹمنٹ‘ نے جواب دیا کہ ادارہ اس وقت کوئی تبصرہ نہیں کر سکتا۔ ٹوئٹر کے پریس سیکشن کی لنڈسے میک کالم نے بھی یہی جواب دیا کہ وہ اس حوالے جاری کی گئی معلومات میں کوئی اضافہ نہیں کر سکتیں۔
حیرت انگیز طور پر ٹوئٹر نے اس حوالے سے مزید تحقیقات بھی کیں اور ان مزید تحقیقات کی تفصیلات جاری کر دیں مگر ابتدائی طور پر سامنے آنے والے فیک اکاؤنٹس کے ایک بہت بڑے نیٹ ورک کے بارے میں نہیں بتایا۔

ٹوئٹر نے یہ بتا دیا کہ اس حوالے سے جب مزید تحقیقات کی گئیں تو ایسے بہت سے مزید اکاؤنٹس بھی سامنے آئے جن کے بارے میں سماجی رابطوں کی یہ ویب سائٹ سمجھتی ہے کہ وہ بھی ٹوئٹر کی اِسی ’اے پی آئی‘ کے اصل مقصد کے بجائے اس کا غلط استعمال کرتے ہوئے موبائل نمبرز سے منسلک ٹوئٹر اکائونٹس کا پتا چلا رہے تھے۔
ایک اعلامیہ کے مطابق انفرادی ’آئی پی ایڈریسز‘ سے بہت ہی بڑی تعداد میں لوگوں کے موبائل نمبر درج کر کے ان نمبرز سے منسلک ٹوئٹر اکاؤنٹس کا پتا چلانے کی کوشش کی کی گئی۔
ٹوئٹر کے مطابق ابتدائی نیٹ ورک کے سامنے آنے کے بعد کی جانے والی تحقیقات کے نتیجے میں مزید مشکوک اکاؤنٹس، جو اس غیر معمولی سرگرمی میں ملوث تھے، کا تعلق بہت سے ممالک کے آئی پی ایڈریسز سے تھا مگر اس طرح کی زیادہ تر ’ریکوسٹس‘ ایران، اسرائیل اور ملائیشیا سے کی گئیں۔
ٹوئٹر نے اس حوالے سے یہ تک بتا دیا کہ یہ ممکن ہے کہ انفرادی ’آئی پی ایڈریسز‘ جو موبائل نمبرز سے منسلک ٹوئٹراکاؤنٹس کا کھوج لگانے کی مشکوک سرگرمی میں ملوث تھے ان کا ریاستوں کی پشت پناہی رکھنے والے کرداروں سے تعلق ہو۔
ٹوئٹرنے کہا کہ وہ یہ معلومات صارفین کو احتیاط کرنے اور محتاط ہو جانے کے لیے اپنے اصول کے تحت جاری کر رہا ہے۔

’اے پی آئی‘ بنیادی طور پر مختلف فنگشنز اور پراسز کا مجموعہ ہوتا ہے جو مل کر ایک ایپلیکیشن بناتے ہیں جس سے کسی بھی آپریٹنگ سسٹم کی بہت سی خصوصیات اور ڈیٹا تک رسائی حاصل ہوتی ہے۔
’جن لوگوں کے پاس آپ کا موبائل نمبر ہے انہیں اس کے ذریعے آپ کو تلاش کرنے کی اجازت دیجیے۔‘
یہ دراصل ٹوئٹر کا ایک فنگشن ہے جس کا اصل مقصد نئے آنے والے صارفین کو یہ سہولت دینا ہے کہ وہ اپنے جاننے والوں کو ان کے موبائل نمبر کے ذریعے سماجی رابطے کی اس ویب سائٹ پر تلاش کر سکیں۔
جو صارفین اس آپشن کو ’اوکے‘ کرتے ہیں انہیں ان کے موبائل نمبر کے ذریعے تلاش کیا جا سکتا ہے۔ بنیادی طور پر یہ ایک اچھا فنگشن ہے مگر اس معاملے میں غلط نیت سے چند غلط مفادات رکھنے والے لوگوں نے شہریوں کے موبائل فون معلوم کرکے ان کے زیراستعمال ایسے ممکنہ ٹوئٹراکاؤنٹس تلاش کرنے کی کوشش کی جس پر وہ اپنی شناخت ظاہر نہیں کرنا چاہتے تھے۔
یہ ان شہریوں کے راز افشا نہ ہونے کے بنیادی حق اور اصول کی واضح اور بہت بڑی خلاف ورزی تھی۔
ٹوئٹر کے پرائیویسی کے قوانین بہت واضح اور پراثر ہیں جن پر سختی سے عمل درآمد کیا جاتا ہے۔
