اوورسیز پاکستانیز فاؤنڈیشن کی اسلام آباد کے زون فائیو میں بنائی گئی ہاؤسنگ سکیم کے کل دو ہزار 225 پلاٹس میں سے تین دہائیوں بعد 1100 کا قبضہ اصل مالکان کو دے دیا گیا ہے۔
اوورسیز پاکستانیوں کے لیے 30 سال پہلے شروع کیا گیا یہ منصوبہ ایک عرصے سے کھٹائی میں پڑا ہوا تھا۔ اربوں روپے کی سرمایہ کاری کے باوجود الاٹیز کو پلاٹس کا قبضہ نہیں دیا جا رہا تھا۔ اس کی بڑی وجہ قبضہ مافیا اور حکومتی بد انتظامی بتائی جاتی ہے۔
پاکستان میں گزشتہ دو دہائیوں کے دوران تعمیرات بالخصوص ہاؤسنگ کالونیوں کے شعبے میں بہت تیز رفتاری سے کام ہوا ہے۔ دیکھتے ہی دیکھتے ایک شہر میں کئی شہر آباد ہو گئے ہیں۔
مزید پڑھیں
-
اوورسیز پاکستانی، کن شعبوں میں سرمایہ کاری کے مواقع؟Node ID: 504376
-
اوورسیز پاکستانیز کمیشن ساؤتھ پنجاب کا قیامNode ID: 507656
-
’اوورسیز پاکستانیوں کی حفاظت کے لیے بھی ایڈوائزری‘Node ID: 508531
ملک کی بڑی شاہراہوں کے آس پاس جہاں کبھی جنگل بیابان یا زرعی زمیںیں تھیں اب وہاں شہر کے شہر بس چکے ہیں۔ جس سے نہ صرف شہریوں کو اپنے گھر بنانے کا موقع ملا ہے بلکہ سرمایہ کاری کرکے لوگوں نے لاکھوں کروڑوں روپے کمائے ہیں۔
اسی رجحان کو دیکھتے ہوئے پاکستان کے کئی ایک سرکاری، نیم سرکاری اور خود مختار اداروں نے بھی ہاؤسنگ سوسائٹیاں بنائی ہیں۔ جن میں سے اکثر و بیشتر کے بارے شکایت رہتی ہے کہ وہ سست روی کا شکار ہیں۔
بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی فلاح و بہبود کے لیے قائم ادارے اوورسیز پاکستانیز فاونڈیشن (او پی ایف) نے بھی بیرون ملک پاکستانیوں کی ضروریات کو مد نظر رکھتے ہوئے ملک کے کئی شہروں اسلام آباد، لاہور، پشاور، گجرات، دادو، لاڑکانہ اور میرپور میں او پی ایف ہاؤسنگ سکیمز متعارف کروائیں۔
ہزاروں کی تعداد میں بیرون ملک مقیم پاکستانیوں نے ان سکیموں میں اربوں روپے کی سرمایہ کاری کی۔ 20 سے تیس سال گزر جانے کے باجود یہ سوسائیٹیاں مکمل طور پر آباد نہیں ہو سکیں۔

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے سمندر پار پاکستانیز نے اس صورت حال کا نوٹس لیتے ہوئے رکن قومی اسمبلی مہرین رزاق بھٹو کی سربراہی میں ذیلی کمیٹی تشکیل دی ہے۔ او پی ایف کی جانب سے کمیٹی کو دی جانے والے بریفنگ پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے اب سکیموں کا سائٹ وزٹ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
موجودہ حکومت اس ضمن میں سابق حکومتوں کو مورد الزام ٹھہراتی ہے۔ وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے سمندر پار پاکستانیز زولفی بخاری کا کہنا ہے کہ ’لوگ پوچھتے ہیں کہ حکومت کیا کر رہی ہے؟ ہم بیس سال کا گند صاف صاف کر رہے ہیں۔ 1994 میں زمین خریدی جاتی ہے اور 2008 میں کنٹریکٹ ایوارڈ کیا جاتا ہے۔‘
اردو نیوز سے گفتگو میں اس معاملے کی تحقیقات کرنے والی کمیٹی کی کنوینئیر مہرین رزاق بھٹو نے کہا کہ ’ہم نے او پی ایف کی لاہور، پشاور، لاڑکانہ اور دادو میں سکیموں کے بارے میں بریفنگ لی۔ ہم اس سے مطمئن نہیں ہوئے۔ یہ بہت پرانی سکیمیں ہیں۔ دادو میں 88 میں سکیم بنی تو ابھی تک وہاں سکول نہیں۔ بہت سی سکیموں میں ترقیاتی کام نامکمل ہیں۔‘
انھوں نے کہا کہ ’ہم نے ان وزارت سے کہا ہے کہ ان اوورسیز الاٹیز کو بلائیں جنھوں نے سرمایہ کاری کر رکھی ہے۔ ہم سیل پرچیز والے مافیا کی بات نہیں سنیں گے لیکن وزارت ان کو بلا نہیں رہی لیکن متاثرین میں اگر کوئی رابطہ کرے گا تو اس کو اپنے اجلاس میں بلائیں گے۔‘
او پی ایف کی سات ہاؤسنگ سکیمیں ہیں۔ یہ کب شروع ہوئیں؟ اس وقت ان کی کیا حالت ہے؟ او پی ایف کی اپنی ویب سائٹ پر موجود معلومات کی روشنی میں ان کا ایک ایک کر کے جائزہ لیتے ہیں۔

اسلام آباد زون فائیو سکیم
زون فائیو جاپان روڈ پر واقع یہ سکیم پانچ ہزار کنال پر مشتمل ہے۔ یہ منصوبہ 1994 میں شروع ہوا لیکن 26 سالوں میں وہاں پر ایک گھر بھی تعمیر نہیں ہوسکا۔ 99 فیصد ترقیاتی کام مکمل ہونے کا دعویٰ کیا جا رہا ہے تاہم صرف نصف پلاٹوں کا قبضہ دیا گیا ہے۔ پانی کی فراہمی مجوذہ ذخیرے سے ممکن نہیں ہو پا رہی تاہم ٹیوب ویل کے ذریعے عارضی سپلائی اور اسی طرح بجلی کی عارضی سپلائی کا انتطام کیا گیا ہے۔ زمین کو ہموار کرنے کا کام بھی باقی ہے۔
2015 میں گلبرگ گرین سے راستے کی منطوری ہوئی تھی اور اس پر کام سے جاری ہے۔ ہاؤسنگ سکیم کی چار دیواری پر بھی کام شروع نہیں ہوسکا۔ دو کنٹری ہومز اور ماڈرن لگژری اپارٹمنٹس کی بکنگ بھی شروع کر دی گئی ہے۔
اس سکیم میں 100 کمرشل پلاٹوں میں ایک پلاٹ بھی کسی کو الاٹ نہیں کیا جا سکا۔
لاہور
لاہور میں او پی ایف کے تین ہاؤسنگ منصوبے ہیں۔ جن کو فیز ون، فیز ون ایکسٹینشن اور فیز ٹو کا نام دیا گیا ہے۔
فیز ون
ٹھوکر نیاز بیگ سے چھ کلومیٹر دور رائے ونڈ روڈ پر واقع یہ منصوبہ 2316 کنال پر محیط ہے۔ جو 1996 میں شروع کیا گیا اور یہ منصوبہ مکمل ہو چکا ہے۔
اس کے 1783 میں 1735 پلاٹ الاٹ ہوئے جبکہ 48 پلاٹ خالی ہیں۔ 93 کمرشل پلاٹ بنائے گئے جن میں 24 کی الاٹمنٹ ہو چکی ہے جبکہ 69 خالی ہیں۔

بجلی پانی سڑکوں اور باونڈری وال سمیت تمام ترقیاتی کام مکمل ہیں۔ 261 گھر بن چکے ہیں جبکہ 76 زیر تعمیر ہیں۔ قبضہ دیے جانے کے باوجود 1600 سے زائد پلاٹوں پر مکانات بننا شروع نہیں ہوئے۔
فیز ون ایکسٹینشن
شوکت خانم ہسپتال سے دو کلومیٹر دو رائے ونڈ روڈ پر واقع یہ منصوبہ 1990 میں شروع کیا گیا۔ 728 کنال پر محیط اس ہاؤسنگ سکیم میں بجلی اور گیس کی فراہمی کے علاوہ تمام ترقیاتی کام مکمل کر لیے گئے ہیں۔
تمام 485 پلاٹس الاٹ کیے جا چکے ہیں تاہم ساڑھے 36 کنال کمرشل اراضی ابھی تک تجارتی مقاصد کے استعمال کے قابل نہیں بنائی جا سکی اور نہ ہی کسی کو الاٹمنٹ ہوئی ہے۔
فیز ٹو
558 کنال پر مشتمل یہ منصوبہ بھی 1990 میں ہی شروع کیا گیا تھا۔ ایل ڈی اے سے فارم ہاؤسنگ کے لیے ماسٹر پلان کی منظوری حاصل کر لی گئی ہے۔
یہاں ترقیاتی کام جاری ہیں اور منصوبے کی پلاننگ اور ڈیزائننگ مکمل کر لی گئی اور جلد ہی اس کے ٹینڈرز جاری کر دیے جائیں گے۔
پشاور
بدھنی روڈ پشاور پر واقع 1990 میں شروع ہونے والی اس سکیم کا رقبہ 991 کنال ہے جس میں 681 رہائشی جبکہ 74 کمرشل پلاٹس رکھے گئے ہیں۔ تمام رہائشی پلاٹس الاٹ کیے جا چکے ہیں جبکہ 74 میں سے 64 تجارتی پلاٹوں کی نیلامی ہونا باقی ہے۔
او پی ایف کے مطابق 2005 میں یہ منصوبہ مکمل ہوا تھا۔ ترقیاتی کام بھی مکمل ہیں تاہم یہاں پر سکول اور مسجد زیر تعمیر ہیں۔ اس کے علاوہ 95 گھر بھی بن چکے ہیں جبکہ 45 زیر تعمیر ہیں۔
گجرات
بھمبر روڈ گجرات پر 296 کنال پر مشتمل ہاؤسنگ سکیم 1987 میں شروع کی گئی اور 1995 میں مکمل ہوئی۔ 211 رہائشی جبکہ 57 کمرشل پلاٹوں کی الاٹمنٹ ہو چکی ہے۔
یہاں پر سکول کی تعمیر جاری ہے جس کا 70 فیصد کام مکمل ہو چکا ہے۔
