’موجودہ حالات میں پاکستان ریلوے نہیں چلا سکتے، کچھ حصے آؤٹ سورس کرنا پڑیں گے‘، گذشتہ روز نئے نکور وزیر ریلوے اعظم سواتی کا یہ بیان سن کر ایک جھٹکا سا لگا کیونکہ دو سال شیخ رشید صاحب ہر ہفتے کے روز پریس کانفرنس کرکے قوم کو نئی ٹرینیں چلانے کی نوید سنایا کرتے تھے۔ کابینہ میں حالیہ ردو بدل کے بعد وزرا اپنے اپنے قلمدان سنبھالنے سے فارغ ہوئے تو اپنے اپنی وزارت کے حوالے سے میڈیا میں بیانیہ بنانے میں جت چکے ہیں۔
میڈیا میں بیانیہ کے حوالے سے اگر پرکھا جائے تو پی ٹی آئی حکومت سیاسی طور پر نسبتاً محفوظ اور مطمئن نظر آتی ہے۔ پنجاب اور وفاق میں محدود اکثریت کے بعد حکومت کو شروع سے ’ایک صفحے‘ کا سہارا بھی رہا ہے۔ دوسری طرف اپوزیشن باوجود بھرپور کوشش کے عوام میں ایک احتجاجی تحریک کا جوش پیدا کرنے میں خاطر خواہ کامیاب ہوتی نظر نہیں آتی۔
نیوکلیئر آپشن کے طور پر اپوزیشن استعفے دینے کے دعوے کر رہی ہیں مگر دوسری طرف حکومتی وزرا اتنے مطمئن ہیں کہ اب تو طعنوں پر اتر آئے ہیں۔ سینیٹ الیکشن ایک ڈیڈ لائن بن چکے ہیں جن میں حکومت کی اکثریت کے بعد قانون سازی کی راہ میں حائل آخری رکاوٹ بھی دور ہو جائے گی۔
مزید پڑھیں
-
سینیٹ الیکشن وقت سے پہلے کرائیں گے: عمران خانNode ID: 525356
-
ڈاکٹروں نے نواز شریف کو پیزا کھانے سے منع تو نہیں کیا: مریم نوازNode ID: 525531
-
حکومت کی عجلت اور غفلتNode ID: 525651
پاکستان میں حالات بدلتے دیر نہیں لگتی مگر فی الحال یہ کہنا مناسب ہو گا حکومت سیاسی طور پر مضبوط پوزیشن میں ہے اور سینیٹ انتخابات کے بعد مضبوط تر ہو جائے گی۔ گلگت بلتستان کے الیکشن نے بھی حکومت کی ہمت بندھائی ہے جبکہ پی ڈی ایم کے جلسے اور سیاسی سرگرمیاں زبردستی اور بھرتی کے لگ رہے ہیں۔
اسی دوران معاشی اشاریے مثبت صورتحال دکھا رہے ہیں جس میں مزید بہتری کا امکان ہے۔ سیایسی اور معاشی طور پر سنبھلنے کے بعد ایک توقع اور ڈیمانڈ پہلے سے بڑھ کر سامنے آتی ہے اور وہ ڈیمانڈ ہے گورننس کی۔ ساری کابینہ بشمول وزیراعظم اطلاعات اور ابلاغ کے میدان میں موثر اور کامیاب ہے جس کی بعد مطالبہ یہ ہی سامنے آتا ہے کہ اب گورننس بھی ہو جائے
جی ہاں حکومت بہت محنت کر رہی ہے، یہ حکومتی جواب ضرور ہوگا مگر حکومت کی گورننس اسی طرح کمزور ہے جس طرح اپوزیشن کی سیاست کمزور ہے۔ حکومت کی گورننس بھی اس طرح بے سمت ہے جس طرح اپوزیشن کی سیاست بے سمت ہے۔ جمہوریت میں اپوزیشن کا کام صرف سیاست ہے مگر حکومت کا کام سیاست اور گورننس دونوں ہے۔ عوام اب انتظار میں ہیں کہ گورننس کا قلعہ کب سر ہوگا۔
کابینہ میں روز بروز ہونے والے تبدیلیوں پر بہت بات ہو چکی۔ یہ تبدیلیاں اس وقت پیش نظر نہیں ہوں گی اگر ان کے ساتھ گورننس میں بھی تبدیلی آئے۔ چینی مثال کہ مطابق بلی چاہے سفید ہو یا سیاہ اس سے فرق نہیں پڑتا، فرق تو صرف اس بات سے پڑتا ہے کہ وہ چوہے پکڑ سکتی ہے یا نہیں۔
