پاکستان کے صوبہ پنجاب کی ہائیکورٹ نے ایک درخواست کی سماعت کے بعد احکامات جاری کیے ہیں کہ ملک کے تمام سول اور فوجی افسران کو پچھلے پانچ سالوں میں ملنے والے تحائف کی تفصیلات عدالت میں پیش کی جائیں۔
عدالت نے یہ احکامات ایک وکیل کی درخواست پر دیے ہیں جس میں انہوں نے گذشتہ مہینے ہونے والی توشہ خانہ کی نیلامی کو روکنے کی استدعا کی تھی۔
عدالت نے ابتدائی سماعت کے بعد نومبر میں ہونے والی نیلامی تو روک دی تھی تاہم سرکاری رپورٹ پر عدم اعتماد کا اظہار کیا تھا۔ مقدمے کی دوسری سماعت کے بعد عدالت نے پچھلے پانچ سالوں کے تحائف کی تفصیلات طلب کر لی ہیں جو سول اور فوجی افسران کو دیے گئے۔
مزید پڑھیں
-
غیر ملکی مہمانوں سے تحفے لینے پر پابندیNode ID: 376056
-
توشہ خانہ کیس: نواز شریف اشتہاری، زرداری پر فردِ جرمNode ID: 503976
-
پاکستان میں توشہ خانہ تحائف کی نیلامیNode ID: 513971
درخواست گزار ایڈووکیٹ عدنان پراچہ نے اردو نیوز کو بتایا کہ انہوں نے یہ درخواست عوامی مفاد میں دائر کی ہے۔ ’عوام کو پتہ ہونا چاہیے کہ ریاست کے پاس موجود قیمتی تحائف قوم کی امانت ہیں اور ان کو محض افسران میں تقسیم نہیں کیا جا سکتا۔‘

خیال رہے کہ اس سے پہلے پاکستان میں دو سابق وزرائے اعظم کے خلاف توشہ خانہ کے حوالے سے مقدمات نیب میں چل رہے ہیں۔ ایک مقدمے میں سابق صدر آصف علی زرداری جبکہ ایک مقدمے میں سابق وزیراعظم نواز شریف کو نیب نے طلب کر رکھا ہے۔ اسی طرح ان دونوں سابق سربراہان کو توشہ خانہ سے تحائف دینے کے الزام میں سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی پر بھی مقدمہ چل رہا ہے۔
جبکہ ان دو مقدمات کے علاوہ لاہور ہائیکورٹ میں چلنے والا یہ تیسرا مقدمہ ہے، جس میں ملک کے توشہ خانہ کو زیر بحث لایا گیا ہے۔
درخواست گزار کے مطابق نومبر میں 172 تحائف کی نیلامی کے لیے جو نوٹیفیکیشن جاری کیا گیا تھا اس میں یہ کہا گیا تھا کہ صرف سرکاری اور فوجی افسران کو یہ تحائف نیلامی میں فروخت کیے جا سکتے ہیں جو کہ بنیادی انسانی حقوق اور پاکستان کے شہریوں کے حقوق کی خلاف ورزی ہے۔
