چین کے حکام نے کہا ہے کہ عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے 10 سائنسدانوں کو اجازت دی گئی ہے کہ وہ جمعرات کو چین آ کر اس بات کا سراغ لگائیں کہ کورونا وائرس کی ابتدا کہاں سے ہوئی تھی۔
فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق ایسے وقت میں یہ دورہ بہت اہم ہے کہ جب کورونا وائرس نے دنیا کا نظام درہم برہم کر دیا ہے، 20 لاکھ کے قریب ہلاکتیں ہو چکی ہیں اور عالمی معیشت کی بری حالت ہے۔
چین کے نیشنل ہیلتھ کمیشن نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’ڈبلیو ایچ او کی ٹیم چینی سائنسدانوں کے ساتھ مشترکہ تحقیقات کرے گی۔‘
مزید پڑھیں
-
2028 تک دنیا کی سب سے بڑی معیشت کا اعزاز کس ملک کو حاصل ہوگا؟Node ID: 527561
عالمی ادارہ صحت کی ٹیم کو چین میں داخلے کی اجازت نہ دینے پر بدھ کو ڈبلیو ایچ او کے سربراہ کا کہنا تھا کہ انہیں سخت مایوسی ہوئی ہے کہ چین نے ابھی تک بین الاقوامی ماہرین کو اس علاقے تک رسائی کی اجازت نہیں دی جہاں سے کورونا وائرس نے سر اٹھایا تھا۔
تاہم چین نے کشیدگی کو کم کرنے کی کوشش کرتے ہوئے اسے ’غلط فہمی‘ قرار دیا تھا۔
ڈبلیو ایچ او کے ڈائریکٹر جنرل ٹیڈروس ادھانوم نے جنیوا میں ایک آن لائن نیوز کانفرنس میں کہا تھا کہ ’آج ہمیں معلوم ہوا ہے کہ چینی حکام نے ابھی تک ٹیم کو چین روانگی کے لیے ضروری اجازت نہیں دی۔ ’میں چین کے سینیئر حکام کے ساتھ رابطے میں ہوں اور میں نے ایک بار پھر یہ واضح کیا ہے کہ یہ مشن ڈبلیو ایچ کی ترجیح ہے۔‘
