پاکستان کی وفاقی حکومت نے براڈ شیٹ انکوائری رپورٹ کو منظر عام پر لانے کا فیصلہ کیا ہے۔ فیصلہ وفاقی کابینہ کے اجلاس میں کیا گیا۔
اجلاس کے بعد وفاقی وزیر فواد چوہدری نے پریس کانفرنس کے دوران بتایا کہ براڈ شیٹ انکوائی کی رپورٹ پبلک کی جارہی ہے ’اس میں پانچ افراد کے خلاف فوجداری کاروائی کی سفارش کمیشن نے کی ہے جن میں سابق سفیر عبدالباسط اور احمر بلال صوفی بھی شامل ہیں۔ اس کے علاوہ اسی کمیشن کی رپورٹ میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ جو سوئس بینکوں کا ریکارڈ گم ہو گیا تھا وہ بھی نیب کے ریکارڈ رومز سے مل گیا ہے۔ اب حکومتی قانونی ٹیمیں اس پر کام کر رہی ہیں کیونکہ اس ریکارڈ کے سامنے آنے سے زرداری کے خلاف مقدمہ دوبارہ چلانے کا سوچا جاسکتا ہے۔‘
مزید پڑھیں
-
براڈشیٹ انکوائری کمیٹی کے سربراہ جسٹس (ر) عظمت سعید کون ہیں؟Node ID: 534411
ساٹھ سے زائد صفحات پر مشتمل اس رپورٹ کے کچھ حصے اردونیوز کو موصول ہوئے ان کے مطابق کمیشن نے دوہزار سے 2003 تک کئی ملکی شخصیات کے اثاثوں کی چھان بین کے جو معاہدے کیے ان میں کئی طرح کی پیچیدگیاں تھیں۔ اور یہ معاہدے نیب کے پہلے چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل (ر) سید محمد امجد کے دور میں ہوئے۔
مکمل رپورٹ 500 صفحات پر مشتمل ہے جن میں 62 صفحات پر انکوائری جبکہ باقی صفحات رپورٹ سے متعلق مواد پرشامل ہے۔ رپورٹ کے مطابق ’ پاکستان کے برطانیہ میں سابق ہائی کمشنرعبدالباسط ، سابق حکومتی وکیل احمربلال صوفی ، وزارت قانون کے سابق جوائنٹ سیکرٹری غلام رسول اور نیب کے ڈیسک آفیسر حسن ثاقب کو پندرہ لاکھ ڈالر حکومتی خزانے سے نکلوا کر غلط ہاتھوں میں دینے کا ذمہ دار قرار دیا ہے۔ صرف یہی نہیں بلکہ کمیشن نے کل 26 افراد کے بیانات بھی قلم بند کیے ہیں جن میں ان افراد کے نام بھی شامل ہیں جنہوں نے کمیشن کے روبرو یہ مانا ہے کہ ان سے غلطی ہوئی۔ کمیشن نے اپنی رپورٹ میں اس کو ناقابل قبول اور فاش غلطی قرار دیا ہے۔‘
رپورٹ کے ایک حصے میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ پندرہ لاکھ ڈالر کی رقم دے کر جو سیٹلمنٹ کی گئی اس کے بعد اس سیٹلمنٹ کا ریکارڈ غائب کر دیا گیا۔

’سیکریٹریز جن میں وفاقی سیکرٹری قانون، وفاقی سیکرٹری فنانس اور اٹاری جنرل آف پاکستان کے بیان بھی لف کیے گیے ہیں جنہوں نے یہ بتایا ہے کہ اس سیٹلمنٹ سے متعلق ریکارڈ چوری کیا گیا ہے۔ اسی طرح لندن ہائی کمیشن میں بھی فائل کی ایک کاپی رکھی گئی تھی وہ بھی چوری ہو گئی ہے اور لندن میں پاکستان کے ہائی کمیشن نے ویڈیو بیان میں کمیشن کو اس صورت حال سے آگاہ کیا ہے۔ صرف ایک کاپی نیب کے دفتر میں موجود تھی جس سے ساری صورت حال سامنے آئی۔ کمیشن نے واضع لکھا ہے کہ حکومت اس چوری کے سامنے آنے کےبعد اپنی مرضی سے کاروائی کر سکتی ہے۔‘
براڈ شیٹ کمیشن کا بیک گراونڈ:
پاکستان کی حکومت کو اس وقت سبکی کا سامنا کرنا پڑا جب براڈ شیٹ ایل ایل سی نامی امریکی کمپنی نے لندن ہائی کورٹ میں نیب کے خلاف ہرجانے کا مقدمہ جیت لیا۔ براڈ شیٹ کے معاملے پر لندن ہائی کورٹ کے فیصلے میں یہ بات سامنے آئی کہ براڈ شیٹ کمپنی سمجھ کر نیب نے پندرہ لاکھ ڈالر اسی نام کی ملتی جلتی کمپنی کو ادا کر دیے تھے۔ اور عدالت میں موقف اختیار کیا تھا کہ یہ ادائیگی ہو چکی ہے۔ تاہم لندن ہائی کورٹ نے حکومت پاکستان کے وکیل کی یہ بات رد کرتے ہوئے اصل براڈ شیٹ کو سود اور اخراجات سمیت 33 لاکھ ڈالر ادا کرنے کا حکم دے دیا۔
’جعلی‘ براڈ شیٹ کو ادا کیے جانے والے 15 لاکھ ڈالر الگ ہیں۔ نیب نے ایک جعلی کمپنی کو یہ رقم کیوں دی اور یہ 15 لاکھ ڈالر کی ادائیگی کیسے ہوئی اس حوالے سے حکومت پاکستان نے جسٹس ریٹائرڈ عظمت سعید کو معاملے کی انکوائری کرکے رپورٹ 45 دن میں جمع کروانے کی ہدایت کی تھی۔
کمیشن نے اپنی حتمی روپورٹ میں پانچ افراد کو ذمہ دار قرار دیا ہے۔
