سپریم کورٹ نے تحریک انصاف کے امیدوار کی حلقہ این اے 75 ڈسکہ میں دوبارہ انتخابات کے الیکشن کمیشن کے فیصلے کے خلاف اپیل مسترد کرتے ہوئے الیکشن کمیشن کے فیصلے کو برقرار رکھا ہے۔
جمعے کو جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے تحریک انصاف کے امیدوار اسجد ملہی کی حلقہ این اے 75 ڈسکہ میں دوبارہ انتخابات کے الیکشن کمیشن کے فیصلے کے خلاف اپیل کی سماعت کی۔
مزید پڑھیں
-
ڈسکہ میں دوبارہ پولنگ:’اس طرح کے فیصلے کی پہلے کوئی مثال نہیں‘Node ID: 544206
-
سپریم کورٹ: ڈسکہ میں 10 اپریل کا ضمنی الیکشن مؤخر کرنے کا حکمNode ID: 551656
یاد رہے کہ پاکستان کی سپریم کورٹ نے 25 مارچ کو قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 75 ڈسکہ میں 10 اپریل کو ہونے والے ضمنی الیکشن کو مؤخر کرنے کا حکم دیا تھا۔
جمعے کو سپریم کورٹ میں این اے 75 ڈسکہ الیکشن کیس کی سماعت شروع ہوئی تو الیکشن کمیشن کے وکیل میاں عبدالرؤف نے دلائل کا آغاز کیا
وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ الیکشن ایکٹ کی تمام شقوں پر عملدرآمد نہ ہو تو الیکشن کالعدم تصور ہوتا ہے۔ حلقے میں اس وقت کی صورتحال سے واضح ہوتا ہے کہ الیکشن ایکٹ کی متعدد شقوں کی خلاف ورزی ہوئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ’عدالت کے ریکارڈ پر رکھے گئے نقشے سے واضح ہے کہ ایک بلڈنگ میں متعدد پولنگ سٹیشن تھے، علاقے میں فائرنگ یا بدامنی کا اثر ایک نہیں بلکہ سو سے زائد پولنگ سٹیشنوں پر پڑا۔‘
وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ ’صورت حال سے واضح ہے کہ حلقے میں لیول پلیئنگ فیلڈ نہیں تھی جس پر جسٹس عمر عطا بندیال نے استفسار کیا کہ ’لیول پلیئنگ فیلڈ سے آپ کی مراد ہے؟ ڈکشنری میں لیول پلیئنگ فیلڈ کا معنی دیکھیں کیا ہے۔ آپ کے خیال میں ایک فریق کے لیے حالات سازگار تھے اور دوسرے کے لیے نہیں۔‘

انہوں نے کہا کہ ’اگر بدامنی تھی تو دونوں کے حالات ناسازگار تھے۔ آپ یہ تو کہہ سکتے ہیں کہ بدامنی تھی لیکن یہ نہیں کہہ سکتے کہ لیول پلیئنگ فیلڈ نہیں تھی۔‘
وکیل الیکشن کمیشن نے اپنے جواب میں کہا کہ ’آپ درست فرما رہے ہیں ہو سکتا ہے میرے الفاظ کا استعمال درست نہ ہو۔‘
عدالت نے الیکشن کمیشن کے وکیل سے کہا کہ ’آپ احتیاط کریں اور لیول پلیئنگ فیلڈ جیسے الفاظ استعمال نہ کریں۔‘
وکیل الیکشن کمیشن نے مزید کہا کہ ’الیکشن کمیشن نے منظم دھاندلی کا کوئی لفظ نہیں لکھا۔ الیکشن کمیشن کا فیصلہ قانون کی خلاف ورزیوں پر تھا۔‘
الیکشن کمیشن کے وکیل میاں عبدالرؤف کے دلائل مکمل ہوئے تو پی ٹی آئی امیدوار علی اسجد ملہی کے وکیل شہزاد شوکت نے جواب الجواب کا اغاز کیا۔
جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ ’قانونی نکات بیان کریں جو ضروری نوعیت کے ہیں۔ صرف ان دستاویزات پر انحصار کریں جن کی بنیاد پر کمیشن نے فیصلہ دیا۔‘
اسجد ملہی کے وکیل نے موقف اپنایا کہ ’الیکشن کمیشن نے اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے کے بجائے جلدی میں فیصلہ سنایا۔ یہ تحقیقات کرنی چاہییں تھیں کہ پریزائیڈنگ افسران کو کون لے کر گیا۔‘
انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ’جن پولنگ سٹیشنز پر اعتراض اٹھایا گیا ان میں سے بیشتر کے نتائج سے ن لیگی امیدوار مطمئن تھیں۔‘
