اس موقع پر سعودی چیف آف جنرل سٹاف جنرل فیاض الرویلی نے پاکستان کی فوج کے پیشہ ورانہ امور کو سراہا۔
اس ملاقات میں یمن کی صورت حال کا بھی غور کیا گیا۔
وزیراعظم عمران خان نے یمن کی صورت حال کے حوالے سے سعودی عرب کے کردار کی تعریف کی۔
اعلامیے میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ’وزیراعظم عمران خان نے سعودی فرمانروا اور ولی عہد کے لیے بھی نیک خواہشات کا اظہار کیا۔‘
عمران خان کا کہنا تھا کہ ’پاکستان کے عوام سعودی قیادت کو احترام کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔‘
وزیراعظم کا مزید کہنا تھا کہ ’پاکستان سعودی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے لیے حمایت جاری رکھے گا۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’پاکستان سعودی عرب کے ساتھ تعلقات اور باہمی تعاون کو بہت اہمیت دیتا ہے۔‘
وزیراعظم نے یہ بھی کہا کہ ’سعودی پاکستان سپریم کونسل دونوں ممالک کے دو طرفہ تعلقات اور تمام شعبوں میں تعاون بڑھانے کے لیے اہم کردار ادا کرے گی۔‘
وزیراعظم کے ساتھ ملاقات کے بعد سعودی آرمی کے چیف آف جنرل سٹاف نے پاکستانی آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے ساتھ جی ایچ کیو راولپنڈی میں ملاقات کی۔
آئی ایس پی آر کے مطابق ملاقات میں دو طرفہ دفاعی تعاون اور ٹریننگ ایکسچینج سمیت جیو سٹریٹجک ماحول، افغانستان کی صورت حال اور باہمی دلچسپی کے امور پر گفتگو ہوئی۔
’خطے کی بدلتی سکیورٹی صورت حال کو سامنے رکھتے ہوئے سعودی آرمی کے چیف آف جنرل سٹاف نے علاقے میں امن کے لیے پاکستان کی کوششوں کی حمایت کی۔‘
پریس ریلیز کے مطابق جنرل فیاض الرویلی نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کامیابی اور علاقائی امن کے لیے کی جانے والی کوششوں پر پاکستان کی تعریف کی۔‘
’سعودی آرمی کے چیف آف جنرل سٹاف نے سعودی مسلح افواج کی تربیت کرنے پر پاکستان آرمی کا شکریہ ادا کیا اور دو طرفہ دفاعی تعاون کو بڑھانے کی خواہش ظاہر کی۔‘