سپریم کورٹ نے تحریک انصاف کے لانگ مارچ کے حوالے سے اسلام آباد ہائی کورٹ بار اور حکومتی درخواستیں نمٹا دی ہیں۔
جمعرات کو سماعت کے موقع پر چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیے کہ ’عدالت نے ایک متوازن حکم نامہ جاری کیا لیکن عدالت کے اعتماد کو ٹھیس پہنچائی گئی ہے آئندہ ٹھوس وجوہات پر ہی سیاسی معاملات میں مداخلت کریں گے۔‘
اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب سے تحریک انصاف کے لانگ مارچ کے حوالے سے دائر درخواست کی سماعت جسٹس اعجاز الاحسن کی سربراہی میں شروع ہونے سے قبل اٹارنی جنرل نے حکومت کی جانب سے درخواست دائر کی۔
مزید پڑھیں
-
پی ٹی آئی کو احتجاج کی اجازت، بحران حل ہو پائے گا؟Node ID: 671701
-
سپریم کورٹ کے حکم پر حکومت اور پی ٹی آئی میں مذاکرات نہ ہوسکےNode ID: 671781
جس میں موقف اختیار کیا گیا کہ ’عمران خان نے عدالتی فیصلے کے برعکس کارکنوں کو ڈی چوک پہنچنے کا حکم دیا۔ تحریک انصاف کے کارکنوں نے سرکاری و نجی املاک کو نقصان پہنچایا۔ فائر بریگیڈ کی کروڑوں کی گاڑیوں کو نقصان پہنچایا۔ انصاف کے تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے توہین عدالت کی کارروائی کی جائے۔‘
جسٹس اعجاز الاحسن کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے لانگ مارچ سے متعلق درخواست پر سماعت کا آغاز کیا تو جسٹس اعجاز الاحسن نے اٹارنی جنرل سے کہا کہ ’آپ کی درخواست سماعت کے لیے مقرر ہو چکی ہے۔ ہم ساڑھے 11 بجے دوبارہ سماعت کریں گے اور لارجر بینچ ان تمام معاملات پر سماعت کرے گا۔‘
عدالت نے توہین عدالت کی درخواست کی کاپی تحریک انصاف کے وکیل بابر اعوان کو دینے کی ہدایت کرتے ہوئے سماعت ملتوی کر دی۔

ساڑھے 11 کے بجائے 12 بجے چیف جسٹس کی سربراہی میں پانچ رکنی لارجر بینچ نے سماعت کا آغاز کیا۔
چیف جسٹس عمر عطا بندیال کے علاوہ جسٹس اعجاز الاحسن، جسٹس منیب اختر، جسٹس یحییٰ آفریدی اور جسٹس مظاہر علی نقوی بینچ میں شامل تھے۔
چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’ہم آپ کا موقف سننا چاہتے ہیں۔‘
اٹارنی جنرل نے کہا کہ عدالت نے کل سماعت کی جس میں تحریک انصاف کے وکیل بھی موجود تھے۔ انھوں نے عمران خان سے مشاورت کے بعد حکومت سے ایچ نائن گراؤنڈ مانگا اور عدالت نے حکم دیا کہ انھیں گراؤنڈ دینے، راستے کھولنے، گرفتار کارکنوں کی رہائی اور سکیورٹی اقدامات کا حکم دیا۔
انھوں نے کہا کہ ’جونہی عدالت کا حکم جاری ہوا اس کے فوراً بعد عمران خان نے کارکنوں کو ڈی چوک پہنچنے کی کال دی۔ یہ عدالت کے حکم کی خلاف ورزی تھی۔ سکیورٹی انتظامات کے رد و بدل کے بعد پی ٹی آئی ورکرز نے سرکاری املاک کو نقصان پہنچایا۔‘
اٹارنی جنرل نے عمران خان گزشتہ روز کا ویڈیو کلپ عدالت میں دکھایا جس کے بعد چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ’ممکن ہے کہ عمران خان کو عدالت کے فیصلے سے متعلق درست طریقے سے آگاہ نہ کیا گیا ہو۔سپریم کورٹ نے آئینی حقوق کا تحفظ کرنا ہے۔ ہمارے علم میں آیا ہے کہ جگہ جگہ آگ لگائی گئی۔ جلاؤ گھیراؤ کیا گیا۔ ہمیں یہ بھی معلوم ہے کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے مسلسل شیلنگ کی۔‘

چیف جسٹس نے کہا کہ پاکستان کے عوام کو آئین کے آرٹیکل 15، 16 اور 17 کے تحت حقوق حاصل ہیں۔ ایگزیکٹیو کوئی بھی غیر آئینی گرفتاریاں اور ریڈز نہ کریں، یہ مت بھولیں کہ اسی جماعت نے متعدد ریلیاں کی ہیں۔
اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ پی ٹی آئی کی ان ریلیوں کو مکمل سکیورٹی فراہم کی گئی تھی۔ چیف جسٹس پاکستان نے ریمارکس دیے کہ پی ٹی آئی کو پاکستان کے عوام کی طرح اپنی ذمہ داریوں کو سمجھنا چاہیے۔ پی ٹی آئی کو مثال بننا چاہیے تھا، ایسے چلتا رہا تو صورتحال مزید بگڑ جائے گی۔
چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ’موجودہ کیس میں عدالت نے عوام کے تحفظ کے لے حکم دیا تھا۔ سیاسی جماعتوں کو مذاکرات کا حکم بھی دیا گیا تھا۔ ہم نے اپنی حد سے آگے جا کر حکم دیا۔ عدالت نے عوام کے تحفظ کے لیے حکم دیا تھا۔ عدالتی حکم سے توازن پیدا ہوا لیکن عدالتی اعتماد کو ٹھیس پہنچائی گئی۔‘
جس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ اس پر کارروائی کرنی چاہیے جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ ’اس وقت پارہ بہت ہائی ہے۔ جو کچھ کل ہوا وہ ختم ہوچکا ہے۔ اب ہم اس پر مزید کارروائی نہیں کرنا چاہتے۔ عدالت کے اعتماد کو ٹھیس پہنچنے کے بعد اب عدالت اس وقت ہی کچھ کر سکتی ہے جب سیاسی جماعتیں عدالت پر اپنا اعتماد بحال کریں گی۔‘
