Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

’پہلے احتساب پھر انتخاب،‘ سوات میں فیس بک سے شروع ہونے والی مہم کیا ہے؟

تور گل کی کال پر بڑی تعداد میں شہری سڑکوں پر نکل آئے اور نشاط چوک پر جمع ہو گئے۔ فوٹو: بشکریہ محمد ظریف
صوبہ خیبرپختونخوا کے ضلع سوات میں پاکستان تحریک انصاف کے سابق وزرا اور وزیر اعلٰی کے خلاف تحریک زور پکڑ رہی ہے جس میں عام شہری ان کے احتساب کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ اسی سلسلے میں گزشتہ روز ایک مظاہرہ مینگورہ شہر کے نشاط چوک میں منعقد ہوا جو تھوڑی ہی دیر میں جلسے کی شکل اختیار کر گیا۔
مظاہرے میں سیاسی ورکر، سول سوسائٹی، تاجر برادری اور طلبہ کی ایک بڑی تعداد شریک تھی جن میں چند شخصیات نے خطاب کیا اور احتساب کا مطالبہ کیا۔
مظاہرین نے پلے کارڈ اٹھائے ہوئے تھے جس پر ’پہلے احتساب پھر انتخاب‘ کے علاوہ دیگر نعرے درج تھے۔
خیبرپختونخوا اسمبلی تحلیل ہونے کے بعد سابق حکمران جماعت کے خلاف مہم کا آغاز سوشل میڈیا سے ہوا ہے۔
سماجی رابطوں کی ویب سائٹ فیس بک پر ’تور گل‘ کے نام سے موجود پیج نے احتساب کے نام سے ایک ٹرینڈ چلایا اور گزشتہ روز11 فروری کو کرپشن کے خلاف مینگورہ کی عوام کو سڑکوں پر نکلنے کا کہا۔
اس فیس بک پیچ کے 68 ہزار فالوورز ہیں اور اس پر ملاکنڈ بالخصوص سوات میں مبینہ کرپشن سے متعلق پوسٹس شیئر کی جا رہی ہیں۔
تور گل کی کال پر بڑی تعداد میں شہری سڑکوں پر نکل آئے اور نشاط چوک پر جمع ہو گئے۔
مظاہرے میں شریک سماجی کارکن ہلال دانش نے اردو نیوز کو بتایا کہ احتساب کا نعرہ پورے صوبے میں لگایا جارہا ہے، یہ حکمرانی کرنے والی جماعت سے احتساب  لینے کا وقت ہے جنھوں نے 9 سال اس صوبے میں حکومت کی.
’پی ٹی آئی کے وزراء اور ایم پی اے کی ماضی کی زندگی کو دیکھا جائے اور اب دیکھیں تو فرق صاف ظاہر ہوجائے گا۔ پہلے ان کے پاس کٹھارا گاڑیاں ہوتی تھیں اور اب وہ نئی  قیمتی گاڑی میں پھر رہے ہیں۔‘
ہلال دانش کے مطابق سوات کی عوام اب جاگ چکی ہے، نگران حکومت اور نیب سے درخواست ہے کہ ان سب کا کڑا احتساب ہو تاکہ حقیقت سامنے آجائے۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ ’مینگورہ میں بیوٹفکیشن کے نام پر ایک ارب روپے خرچ کیے گئے مگر زمین پر کچھ نظر نہیں آرہا۔ اسی طرح واٹر چینل کے نام پر دو ارب روپے ہڑپ کر لیے جن کا حساب دینا پڑے گا۔‘
مقامی شہری محمد ظریف کا کہنا ہے کہ’ تور گل نامی فیس بک پیچ نے عوام کو نیند سے جگایا ہے اور اسی کی وجہ سے ہم سب یہاں کرپشن کے خلاف جمع ہوئے ہیں۔‘
ان کا کہنا تھا کہ فیس بک پر حقائق پر مبنی پوسٹس کی جاتی ہیں اور ان الزامات کی تحقیقات ہونی چاہیے۔
’نشاط چوک پر لوگوں کا مجمع اکٹھا ہونا اس بات کی گواہی ہے کہ لوگ اب ووٹ سے پہلے احتساب چاہتے ہیں۔‘
محمد ظریف کا کہنا ہے کہ یہ جلسہ کسی سیاسی جماعت کا نہیں اور نہ ہی اس میں شامل افراد کسی جماعت کے ورکرز ہیں بلکہ عام عوام ہیں اور احتساب مانگنا ان کا حق ہے۔

تو گل نامی فیس بک پیج سے احتجاج کی کال دی گئی تھی۔ فوٹو: بشکریہ محمد ظریف

دوسری جانب پشاور اور صوابی میں شہریوں کی جانب سے دیواروں پر پی ٹی آئی کے خلاف اور احتساب کے نعرے لکھے ہوئے ہیں۔
تحریک انصاف خیبرپختونخوا کے صوبائی ترجمان شوکت یوسفزئی نے اردو نیوز کو بتایا کہ ’تورگل نامی پیچ ایک منظم سازش ہے جس کے پیچھے پی ڈی ایم کی جماعتیں ہیں۔ وہ یہ چاہتے ہیں کہ الیکشن میں تاخیر ہو اس لیے الزامات پر مبنی تحریک شروع کر کے عوام کو گمراہ کر رہے ہیں۔‘
’سوات کے جلسے میں شامل زیادہ تر چہروں کو ہم جانتے ہیں ہمیں پتا ہے کہ ان کا تعلق کس جماعت سے ہے۔ احتساب کا نعرہ ہمارا ہے ہم بھی اس کے حق میں ہیں اگر ہماری پارٹی میں سے کسی نے کرپشن کی ہے تو متعلقہ اداروں کے سامنے ثبوت لائیں۔‘
انہوں نے کہا کہ سوات کے جلسے میں عوام نگران حکومت سے مطالبہ کر رہے تھے جبکہ یہ نگران حکومت کا مینڈیٹ نہیں ہے، ان کا ایک ہی مقصد ہے اور وہ  صاف شفاف الیکشن وہ بھی نوے دنوں کے اندر۔  
’کرپشن اور احتساب کے نام پر پی ڈی ایم اپنی ناکامی کو چھپانا چاہتی ہے جو کہ ہم ہونے نہیں دیں گے۔‘
واضح رہے کہ تورگل فیس بک پیج پر سابق وزیر اعلی محمود خان، مراد سعید، سابق وزرا اور مشیروں پر کرپشن اور اقربا پروری کے الزامات لگائے جا رہے ہیں۔

شیئر: