صوبہ خیبرپختونخوا کے ضلع سوات میں پاکستان تحریک انصاف کے سابق وزرا اور وزیر اعلٰی کے خلاف تحریک زور پکڑ رہی ہے جس میں عام شہری ان کے احتساب کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ اسی سلسلے میں گزشتہ روز ایک مظاہرہ مینگورہ شہر کے نشاط چوک میں منعقد ہوا جو تھوڑی ہی دیر میں جلسے کی شکل اختیار کر گیا۔
مظاہرے میں سیاسی ورکر، سول سوسائٹی، تاجر برادری اور طلبہ کی ایک بڑی تعداد شریک تھی جن میں چند شخصیات نے خطاب کیا اور احتساب کا مطالبہ کیا۔
مظاہرین نے پلے کارڈ اٹھائے ہوئے تھے جس پر ’پہلے احتساب پھر انتخاب‘ کے علاوہ دیگر نعرے درج تھے۔
مزید پڑھیں
-
15 کروڑ روپے کی کرپشن، پشاور میں جج ملازمت سے برطرفNode ID: 742396
خیبرپختونخوا اسمبلی تحلیل ہونے کے بعد سابق حکمران جماعت کے خلاف مہم کا آغاز سوشل میڈیا سے ہوا ہے۔
سماجی رابطوں کی ویب سائٹ فیس بک پر ’تور گل‘ کے نام سے موجود پیج نے احتساب کے نام سے ایک ٹرینڈ چلایا اور گزشتہ روز11 فروری کو کرپشن کے خلاف مینگورہ کی عوام کو سڑکوں پر نکلنے کا کہا۔
اس فیس بک پیچ کے 68 ہزار فالوورز ہیں اور اس پر ملاکنڈ بالخصوص سوات میں مبینہ کرپشن سے متعلق پوسٹس شیئر کی جا رہی ہیں۔
تور گل کی کال پر بڑی تعداد میں شہری سڑکوں پر نکل آئے اور نشاط چوک پر جمع ہو گئے۔
مظاہرے میں شریک سماجی کارکن ہلال دانش نے اردو نیوز کو بتایا کہ احتساب کا نعرہ پورے صوبے میں لگایا جارہا ہے، یہ حکمرانی کرنے والی جماعت سے احتساب لینے کا وقت ہے جنھوں نے 9 سال اس صوبے میں حکومت کی.
’پی ٹی آئی کے وزراء اور ایم پی اے کی ماضی کی زندگی کو دیکھا جائے اور اب دیکھیں تو فرق صاف ظاہر ہوجائے گا۔ پہلے ان کے پاس کٹھارا گاڑیاں ہوتی تھیں اور اب وہ نئی قیمتی گاڑی میں پھر رہے ہیں۔‘
ہلال دانش کے مطابق سوات کی عوام اب جاگ چکی ہے، نگران حکومت اور نیب سے درخواست ہے کہ ان سب کا کڑا احتساب ہو تاکہ حقیقت سامنے آجائے۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ ’مینگورہ میں بیوٹفکیشن کے نام پر ایک ارب روپے خرچ کیے گئے مگر زمین پر کچھ نظر نہیں آرہا۔ اسی طرح واٹر چینل کے نام پر دو ارب روپے ہڑپ کر لیے جن کا حساب دینا پڑے گا۔‘
مقامی شہری محمد ظریف کا کہنا ہے کہ’ تور گل نامی فیس بک پیچ نے عوام کو نیند سے جگایا ہے اور اسی کی وجہ سے ہم سب یہاں کرپشن کے خلاف جمع ہوئے ہیں۔‘
ان کا کہنا تھا کہ فیس بک پر حقائق پر مبنی پوسٹس کی جاتی ہیں اور ان الزامات کی تحقیقات ہونی چاہیے۔
’نشاط چوک پر لوگوں کا مجمع اکٹھا ہونا اس بات کی گواہی ہے کہ لوگ اب ووٹ سے پہلے احتساب چاہتے ہیں۔‘
محمد ظریف کا کہنا ہے کہ یہ جلسہ کسی سیاسی جماعت کا نہیں اور نہ ہی اس میں شامل افراد کسی جماعت کے ورکرز ہیں بلکہ عام عوام ہیں اور احتساب مانگنا ان کا حق ہے۔
