ضلع خیبر میں محکمہ صحت کے فوکل پرسن ڈاکٹر خالد خان نے اردو نیوز کو بتایا کہ زیادہ تر لشمینیا کے پرانے کیسز ہیں کیونکہ یہ مرض اس علاقے میں چھ برسوں سے موجود ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ’متاثرہ افراد میں زیادہ تر بچے شامل ہیں۔‘
ڈاکٹر خالد کے مطابق ضلع خیبر میں چار مراکز ڈی ایچ کیو لنڈی کوتل، جمرود ہسپتال، سول ہسپتال باڑہ اور بی ایچ یو جانباز میں موجود ہیں۔ جہاں علاج کی مفت سہولتیں میسر ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ اس مرض کا واحد علاج گلوکنٹائم انجکشن ہے جو کہ عام مارکیٹ میں دستیاب نہیں ہے یہ انجکشن صرف ڈبلیو ایچ او بطور عطیہ فراہم کرتا ہے۔
’اگر یہ انجکشن مارکیٹ میں دستیاب ہو جائے تو اس مرض پر جلدی قابو پایا جا سکتا ہے۔‘
ڈاکٹر خالد کا کہنا تھا کہ اس مرض کا خاتمہ مویشی رکھنے والے مقامات میں سپرے اور ان کو صاف رکھ کر کیا جا سکتا ہے۔
لشمینیا مرض کیا ہے؟
یہ ایک جلدی مرض ہے جو سینڈ فلائی نام کی مکھی کے کاٹنے سے ہوتا ہے۔ بعض علاقوں میں سینڈ فلائی کو ریت مکھی یا بھڑ مکھی بھی کہتے ہیں۔ یہ مرض خطرناک مگر قابل علاج ہے۔ مکھی کے کاٹنے سے جسم پر زخم بن جاتا ہے جو عام ادویات سے ٹھیک نہیں ہوتا یہ زخم عموماً چھ ماہ سے ایک سال تک موجود رہتا ہے۔
مقامی شہری نوید جان آفریدی نے اردو نیوز کو بتایا کہ ہر سال یہ وبا پھیلتی ہے مگر انتظامیہ کی جانب سے اس کے خاتمے کے لیے مناسب اقدامات نہیں کیے جاتے۔ گزشتہ سال یہ مرض بہت زیادہ پھیلا تھا اور اس سال بھی ایسا ہو رہا ہے اور اس سے زیادہ تر بچے متاثر ہیں۔
ان کے مطابق ’بچوں کے ہاتھ اور چہرے بری طرح متاثر ہیں جبکہ خواتین بھی لشمینیا کا شکار ہو رہی ہیں۔‘
انہوں نے نے شکوہ کیا کہ قریبی طبی مراکز میں لشمینیا سکریننگ اور مطلوبہ انجکشن کی سہولت موجود نہیں ہے۔
دوسری جانب مرض کے پھیلاؤ کا نگران وزیراعلی نے نوٹس لے لیا ہے۔ وزیراعلی اعظم خان نے سیکریٹری صحت کو فوری طور پر علاقے میں میڈیکل ٹیمیں بھیجنے کی ہدایت کی ہے۔
وزیراعلٰی نے ہدایت کی کہ مقامی سطح پر میڈیکل کیمپ لگائے جائیں اور مرض سے متعلق آگاہی مہم بھی شروع کی جائے۔