اسلام آباد ہائی کورٹ نے چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی اٹک جیل سے اڈیالہ جیل منتقلی کی درخواست اعتراضات کے ساتھ سماعت کے لیے مقرر کر دی ہے۔
اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق منگل کو اعتراضات کے ساتھ سماعت کریں گے۔
قبل ازیں پیر کو اسلام آباد ہائی کورٹ کے رجسٹرار آفس نے دائرہ اختیار نہ ہونے اور وکالت نامے پر عمران خان کے دستخط نہ ہونے کے اعتراضات عائد کیے تھے۔
مزید پڑھیں
-
عمران خان کی سزا قانون کے مطابق، اپیل کا حق ہے: وزیر قانونNode ID: 785406
-
سیاسی رہنما اٹک جیل میں: ’ایک دوسرے سے بدلے لینے کی روایت‘Node ID: 785736
عمران خان کے وکیل نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی ہے کہ وکلا، قانونی ٹیم اور فیملی سے ملاقات چیئرمین پی ٹی آئی کا بنیادی حق ہے۔
درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی کہ عمران خان کو اٹک سے اڈیالہ جیل منتقل کیا جائے جہاں اے کلاس سہولیات دستیاب ہیں اور فیملی، وکلا اور ڈاکٹر سلطان کو اُن سے ملاقات کی اجازت دی جائے۔
پی ٹی آئی کی لیگل ٹیم نے توشہ خانہ کیس میں عمران خان کو سزا سنائے جانے کے فیصلے کو سپریم کورٹ میں بھی چیلنج کر دیا ہے۔ جس میں موقف اپنایا گیا ہے کہ اس کیس میں انصاف کے تقاضے پورے نہیں کیے گئے۔
عمران خان کو دو روز قبل توشہ خانہ کیس میں تین سال قید اور ایک لاکھ روپے جرمانے کی سزا ہوئی تھی۔ عدالت کی جانب سے سزا سنائے جانے کے بعد عمران خان کو ان کی رہائش گاہ زمان پارک لاہور سے گرفتار کر کے اٹک جیل منتقل کر دیا گیا تھا۔
دوسری جانب چیئرمین پاکستان تحریک انصاف کو بہتر سہولیات دیتے ہوئے ہائی سکیورٹی سیل نمبر دو میں منتقل کر دیا گیا۔
طبی معائنے کے لیے تین شفٹوں میں میڈیکل آفیسر بھی 24 گھنٹے کے لیے تعینات کر دیا گیا۔ جیل کی اندرونی و بیرونی سکیورٹی بھی ہائی الرٹ ہے۔
’عمران خان کو جیل میں سی کلاس دی گئی ہے‘
عمران خان کے وکیل نعیم حیدر پنجوتھا نے جیل میں ان سے ملاقات بھی کی ہے۔ ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ ’عمران خان کو بہتر حالت میں نہیں رکھا گیا لیکن وہ بالکل بھی پریشان نہیں ہیں بلکہ پشاور میں پارٹی کی جیت پر خوش ہیں۔‘
