Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

’عالمی امن و خوشحالی میں جی سی سی ممالک کا کردار اہم‘

مشترکہ مفادات کےلیے نیٹو کے ساتھ  تعاون کا ہاتھ بڑھانا چاہتے ہیں ( فوٹو: ٹوئٹرجی سی سی)
خلیجی تعاون کونسل (جی سی سی) کے سیکریٹری جنرل جاسم البدیوی نے کہا ہے کہ ’جی سی ممالک پرامن طریقوں سے  تنازعات کے حل کی کوشش اور امن و استحکام  کے لیے بین الاقوامی برادری کے ساتھ  مکالمے کو آگے بڑھانا چاہتے ہیں‘۔ 
سرکاری خبررساں ادارے ایس پی اے کے مطابق جی سی سی کے سیکریٹری جنرل نے بدھ کو نیٹو کی نارتھ اٹلانٹک کونسل استنبول انشیٹو کے پارٹنرز کے نمائندوں پر مشتمل اجلاس سے وڈیوکال کے ذریعے خطاب کیا ہے۔ 
اجلاس میں برسلز میں نیٹو میں شامل ممالک کے سفرا، فن لینڈ، سویڈن، متحدہ عرب امارات، بحرین، قطر اور کویت کے سفرا شریک ہوئے۔ 
جاسم البدیوی نے کہا کہ’ دنیا کے سب سے بڑے عسکری اتحاد نیٹو کے ساتھ جی سی سی ممالک کے درمیان ممکنہ تعاون اہمیت رکھتا ہے‘۔  
انہوں نے  نیٹو کے ساتھ بحرین، قطر، کویت اور متحدہ عرب امارات کے تعاون کی تعریف کی۔ 
البدیوی نے کہا کہ نیٹو کے سیکریٹری جنرل کا وہ بیان جو مختلف مواقع خصوصا دورہ کویت کے موقع پر دیا گیا تھا اہم ہے۔ جس میں ان کا کہنا تھا کہ ’خلیج کا امن نیٹو کا امن ہے‘۔ 
جی سی سی کے سیکریٹری جنرل نے اپنے خطاب کے دوران علاقائی و بین الاقوامی مسائل سے متعلق خلیجی  ممالک اقدامات کا جائزہ لیا اور واضح کیا کہ’ عالمی امن و خوشحالی میں جی سی سی ممالک کا کردار اہم ہے‘۔
ان کا کہنا تھا کہ ’خلیجی ممالک ترقی، خوشحالی اور استحکام پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں‘۔ 
جاسم البدیوی نے کہا کہ ’عالمی سطح پر جی سی سی ممالک کی توانا آواز ہے اور دنیا کے تمام بڑے پلیئرز کے ساتھ مضبوط شراکتی تعلقات استوار کیے  ہوئے ہیں‘۔
’خلیجی ممالک کی یہ حیثیت انہیں علاقائی و بین الاقوامی تنازعات کے حل میں کردار ادا کرنے کی پوزیشن میں لائے ہوئے ہے‘۔ 
انہوں نے مزید کہا کہ’ جی سی سی جنرل سیکریٹریٹ مشترکہ مفادات کےلیے نیٹو کے ساتھ  تعاون کا ہاتھ بڑھانا چاہتاہے۔ علاقائی و عالمی امن و استحکام کے لیے نیٹو کے ساتھ ہیں‘۔
’جی سی سی ممالک متفقہ شعبوں میں تعاون کی کوششوں کے حوالے سے نیٹو کی طرف سےکسی بھی تجویز کا خیر مقدم  کریں گے‘۔ 

شیئر: