پاکستان میں انتخابات کا موسم تقریبا شروع ہو چکا ہے۔ پیپلزپارٹی جلسوں کی سیاست کر رہی ہے تو ن لیگ کا سارا زور ابھی تک جوڑ توڑ کی طرف ہے۔ مسلم لیگ ایک طرف نئے انتخابی اتحاد بنا رہی ہے تو دوسری جانب اپنے بیانیے کی تشکیل اور پارٹی ٹکٹوں کے ’درست استعمال‘ پر فوکس کر رہی ہے۔
جوڑ توڑ اور انتخابی اتحاد کے حوالے سے آخری بڑی خبر ن لیگ اور استحکام پاکستان پارٹی کی گزشتہ ہفتے پہلی باضابطہ میٹنگ تھی۔ اس اجلاس کے بعد دونوں طرف سے مذاکرات کو آگے بڑھانے کے لیے کمیٹیوں کی تشکیل بھی کی گئی۔
مزید پڑھیں
-
مسلم لیگ ن سے انتخابی اتحاد ہو سکتا ہے: مولانا فضل الرحمانNode ID: 810286
گزشتہ ہفتے کی میٹنگ کے دو روز بعد ہی استحکام پارٹی کے صدر علیم خان کے نیوز ٹی وی چینل پر مریم نواز کے جلالپورجٹاں میں منعقد ہونے والے یوتھ کنونشن کو ایک ناکام جلسے کے طور پر پیش کیا گیا۔
نجی ٹی وی چینل کے سوشل میڈیا کے اکاؤنٹس سے بھی جلسے کی ایسی ویڈیو جاری کی گئی جس میں مریم نواز کی تقریر کے دوران خالی کرسیاں دکھائی گئیں اور جلسے کو ناکام کہا گیا۔ سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر اس صورت حال پر کئی طرح کے تبصرے دیکھنے کو ملے۔
تحریک انصاف سے منسلک اکاؤنٹس نے ان ویڈیوز کو زور شور سے شئیر کیا گیا اور ساتھ ہی حیرت کا اظہار بھی کیا گیا۔ بعض صحافیوں نے لکھا کہ یہ وقتی طور پر ہے جیسے ہی ’مطالبات‘ پورے ہوں گے یہی جلسے کامیاب ہو جائیں گے۔
استحکام پارٹی کے رہنما نے اُردو نیوز کو نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ’میں زیادہ تبصرہ تو نہیں کر سکتا لیکن ایک بات واضح ہے کہ جہانگیر ترین والی دونوں ملاقاتوں میں علیم خان نہیں تھے۔ چاہے وہ شہباز شریف کے ساتھ ہوئی یا اس کے بعد لیگی وفد کے ساتھ۔ تواس کے بعد اس طرح کا ری ایکشن کوئی اچنبھے کی بات نہیں۔‘
انہوں نے بتایا کہ ’میرے خیال میں بگاڑ والی بات نہیں ہے۔ علیم خان کو لاہور سے قومی اسمبلی کی نشست پر ٹکٹ تو ملے گا لیکن ان کی خواہش اپنے قریبی ساتھیوں کے ٹکٹس کے لیے بھی ہے۔ کل میٹنگ ہو رہی ہے جس میں ایک پوری فہرست وفاق اور پنجاب کی سیٹوں کے حوالے سے ن لیگ کو دی جائے گی۔‘
سیاسی مبصرین کا خیال ہے کہ اس وقت ن لیگ کو تمام پارٹیوں کو ان کی مرضی کے مطابق الیکشن سے پہلے ایڈجسٹ کرنا ایک بڑا چیلنج بنتا جا رہا ہے۔

سیاسی تجزیہ نگار سلمان غنی کہتے ہیں کہ ’میرے نزدیک تو استحکام پارٹی اور ن لیگ کے درمیان معاملات ٹھیک ہیں۔ ٹی وی پر مریم نواز کے جلسے کو الٹانا بہرحال ایک عجیب صورت حال ہوئی ہے۔ اور میرے خیال میں اس بات کا تعلق ن لیگ پر پریشر بڑھانا ہے۔ تاکہ ان کے زیادہ سے زیادہ مطالبات مانے جائیں۔ میری خبر کے مطابق آئی پی پی نے اپنی فہرستیں تیار کر لی ہیں اور وہ لمبی چوڑی فہرست ہے۔‘
انہوں نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے بتایا کہ ’لیکن جتنا میں ن لیگ کی سیاست کو جانتا ہوں یہ سارا دباؤ نواز شریف پر بڑھایا جا رہا ہے لیکن وہ اپنے کارکنوں کی اتنے بڑے پیمانے پر قربانی نہیں دیں گے کہ باقی جماعتوں کو ہی ایڈجسٹ کرتے رہیں۔ مجھے یہ بھی پتا ہے کہ استحکام پارٹی توپ کا لائسنس مانگ رہی ہے لیکن انہیں ملے گا صرف پستول کا لائسنس ہی۔ سیاست میں یہ سب تو پھر چلتا ہے۔‘
