Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

’لینڈ ریکارڈ سینٹرز‘، تارکینِ وطن جائیداد کی منتقلی آن لائن کروا سکیں گے

فیصلہ وفاقی وزیر برائے اوورسیز چوہدری سالک حسین کی زیرصدارت اجلاس میں کیا گیا (فوٹو: سکرین شاٹ)
پاکستان کی وزارت اوورسیز پاکستانیز نے سعودی عرب و دیگر ممالک میں پاکستانی سفارت خانوں میں لینڈ ریکارڈ کی آن لائن فراہمی اور خریدوفروخت کی صورت میں انتقال کی سہولت کا زیرالتوا منصوبہ فوری طور پر شروع کرنے کے احکامات جاری کیے ہیں۔
اس سلسلے میں ایک اجلاس وفاقی وزیر برائے اوورسیز پاکستانیز چوہدری سالک حسین کی زیرصدارت ہوا جس میں فیصلہ کیا گیا کہ ابتدائی طور پر سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، امریکہ، برطانیہ اور سپین میں لینڈ ریکارڈ سروسز کی آن لائن فراہمی منتخب مشنز پر اراضی کی منتقلی کا پائلٹ پروجیکٹ شروع کیا جائے گا۔
اس کا سلسلہ چند ماہ کے اندر دیگر ممالک تک بھی بڑھایا جائے گا۔
اس موقع پر چوہدری سالک حسین نے متعلقہ اداروں پر زور دیا ہے کہ وہ منصوبے کو عملی جامہ پہنانے میں انتہائی مستعدی اور پیشہ ورانہ مہارت کو یقینی بنائیں۔
ان کے مطابق ’منصوبے کے تحت سفارت خانوں اور قونصل خانوں میں خصوص کاونٹرز قائم کیے جائیں گے۔‘
وفاقی وزیر کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’منصوبہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی بہت سی غیرضروری پریشانیوں کو دور کرے گا اور ذاتی طور پر تمام پہلوؤں کو یقینی بنانے کے لیے نگرانی کروں گا۔‘
خیال رہے کہ 2021 میں پنجاب لینڈ ریکارڈ اتھارٹی نے یہ منصوبہ تجویز کیا تھا اور اس مقصد کے لیے اوورسیز پاکستانیز کمیشن پنجاب نے چار ملکوں میں لینڈ ریکارڈ سینٹرز بنانے کا فیصلہ کیا تھا۔
امریکہ، برطانیہ، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات میں پاکستانی سفارت خانوں اور قونصل خانوں میں یہ خصوصی کاونٹرز قائم کیے جانے تھے۔ امریکہ میں واشنگٹن، شکاگو، ہیوسٹن، لاس اینجلس اور نیو یارک جبکہ برطانیہ میں لندن، مانچسٹر، برمنگھم، گلاسگو اور بریڈ فورڈ میں یہ سہولت فراہم کی جانی تھی۔

چوہدری سالک حسین کا کہنا تھا کہ اقدام سے نہ صرف فراڈ وغیرہ میں کمی آئے گی بلکہ سرکاری واجبات میں بھی اضافہ ہو گا (فوٹو: اے پی پی)

سعودی عرب میں ریاض اور جدہ جبکہ متحدہ عرب امارات میں ابوظبی اور دبئی میں خصوصی کاؤنٹرز کے ذریعے پنجاب لینڈ ریکارڈ سینٹرز تک رسائی دی جانی تھی۔
چوہدری سالک حسین کا کہنا ہے کہ ’ان کاؤنٹرز پر بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو روایتی اور غیر روایتی فردات کے اجرا، نادرا ریکارڈ سے تصدیق کے بعد زمین جائیداد کی ڈیجیٹل منتقلی، فوری طور پر لینڈ ریکارڈ میں خریدار کے نام پر ریکارڈ اپ ڈیٹ کی سہولت، انتقال نامے کی کاپی کے پرنٹ اور سرکاری واجبات کی وصولی جیسے اہم کام کیے جائیں گے۔‘
اس سے نہ صرف فراڈ وغیرہ میں کمی آئے گی بلکہ سرکاری واجبات میں بھی اضافہ ہوگا اور ملک میں سرمایہ کاری کو فروغ ملے گا۔
تاہم حکومت کی تبدیلی کے بعد یہ سلسلہ آگے نہ بڑھ سکا اور یہ کام رک گیا۔ اس سلسلے میں پنجاب کے علاوہ دیگر صوبوں کو بھی کہا گیا ہے کہ وہ لینڈ ریکارڈ کی آن لائن فراہمی کو یقینی بنائیں تاکہ بیرون ملک مقیم تمام پاکستانی ایک ہی چھت تلے اس سہولت سے فائدہ اٹھا سکیں۔
پنجاب لینڈ ریکارڈ اتھارٹی کے مطابق ’پنجاب میں کسی بھی زمین کی خرید و فروخت یا زمین جائیداد کے کاغذات کے حصول کے لیے اراضی مراکز جانا لازمی ہے۔ جہاں فوٹو اور فنگر پرنٹ کے ذریعے تصدیق کے بعد ہی یہ دستاویزات دی جاتی ہیں۔ دوسرا طریقہ بیرون ملک مقیم فرد کی جانب سے مختار نامہ بھیج کر زمین جائیداد کی منتقلی کا ہے جس کی سفارت خانے اور متعلقہ حکام سے تصدیق ہو کر آنے میں تین سے چار ماہ لگ جاتے ہیں۔‘
اس حوالے سے پنجاب لینڈ ریکارڈ اتھارٹی کا کہنا ہے کہ ابتدائی طور پر اس مقصد کے آئی ٹی سے متعلق ساز و سامان بھجوایا جا چکا تھا۔ تمام عملے کا انتخاب اور تعیناتیوں کا عمل مکمل کر لیا گیا تھا۔ عملے کی ٹریننگ بھی مکمل کر لی گئی تھی لیکن بعض وجوہات کی بنیاد پر یہ سلسلہ آگے نہیں بڑھ سکا تھا۔

شیئر: