ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوغان نے کہا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ مشرق وسطیٰ سے متعلق ’غلط اندازے‘ لگا رہی ہے اور ’صیہونیوں کے جھوٹ‘ سے تنازعات صرف شدت اختیار کریں گے۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق صدر اردوغان نے غیرملکی دوروں سے واپسی پر صحافیوں سے بات چیت میں کہا کہ بدقسمتی سے امریکہ ہمارے خطے سے متعلق غلط اندازے لگا رہا ہے۔
مزید پڑھیں
-
صدر ٹرمپ کی غزہ پر تجویز، خطے میں خطرے کی گھنٹی کیوں بج رہی ہے؟Node ID: 885773
انہوں نے مزید کہا کہ کسی بھی ایسے نقطہ نظر کا حصہ نہیں بننا چاہیے جو خطے کی تاریخ اور اقدار کو نظرانداز کرتا ہے۔
ترکیہ صدر ٹرمپ کے غزہ کی پٹی سے 20 لاکھ سے زائد فلسطینیوں کو بے دخل کرنے اور علاقے کو ’مشرق وسطیٰ کے رویرا‘ میں تبدیل کرنے کے منصوبے کو مسترد کر چکا ہے۔
اس سے قبل ترکیہ نے یہ بھی کہا تھا کہ اسرائیل کا غزہ پر حملہ نسل کشی کے مترادف ہے اور نیتن یاہو کی حکومت کے خلاف بین الاقوامی سطح پر اقدامات کا مطالبہ کیا تھا۔
صدر طیب اردوغان نے امید کا اظہار کیا کہ ٹرمپ انتخابی مہم کے دوران کیے گئے وعدوں کو پورا کریں گے اور نئے تنازعات کھڑے کرنے کے بجائے امن کے لیے اقدامات کریں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیل اور حماس کے درمیان امن معاہدے کے باوجود غزہ میں جنگ بندی کی حقیقی معنوں میں علامات نہیں نظر آتیں اور مسلمان ممالک ابھی تک اس معاملے پر اجتماعی قدم نہیں اٹھا سکے۔