Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

اسرائیلی فوج کا رفح کے بیشتر علاقے کو خالی کرے کا حکم، زمینی آپریشن کا عندیہ

اسرائیلی فوج کے اس حکم سے یہ عندیہ ملتا ہے کہ وہ رفح میں ایک اور بڑا زمینی آپریشن شروع کر سکتی ہے (فائل فوٹو: اے پی)
اسرائیلی فوج نے پیر کو رفح کے بیشتر علاقوں سے انخلا کے احکامات جاری کیے ہیں، اس سے یہ عندیہ ملتا ہے کہ وہ جلد ہی غزہ کی پٹی کے جنوبی شہر میں ایک اور بڑا زمینی آپریشن شروع کر سکتی ہے۔
اسرائیل نے رواں ماہ کے آغاز میں فلسطین کے عسکری گروپ حماس کے ساتھ جنگ ​​بندی ختم کر کے اپنی فضائی اور زمینی دوبارہ شروع کردی تھی۔
مارچ کے آغاز میں اسرائیل نے غزہ کے تقریباً 20 لاکھ فلسطینیوں کو خوراک، ایندھن، ادویات اور انسانی امداد کی تمام ترسیل بند کر دی تھی تاکہ حماس پر جنگ بندی کے معاہدے میں تبدیلیاں قبول کرنے کے لیے دباؤ ڈالا جا سکے۔
انخلا کے یہ احکامات تقریباً پورے شہر اور آس پاس کے علاقوں کے لیے دیے گئے ہیں۔ فوج نے فلسطینیوں کو حکم دیا کہ وہ ساحل کے ساتھ پھیلے ہوئے خیمہ کیمپوں سے مواصی کے علاقے کی طرف بڑھیں۔
اسرائیلی فوج کی جانب سے یہ احکامات ایسے موقعے پر جاری کیے گئے ہیں جب مسلمان رمضان کے روزوں کے بعد عیدالفطر کا تہوار منا رہے ہیں۔
اسرائیل نے گذشتہ برس مئی میں مصر کے ساتھ سرحد پر واقع رفح میں ایک بڑا آپریشن شروع کیا تھا جس سے اس علاقے کا بڑا حصہ تباہ ہو گیا تھا۔
اسرائیلی فوج نے سرحد کے ساتھ سٹریٹجک اہمیت کی حامل ایک راہداری اور مصر کے ساتھ رفح کراسنگ پر قبضہ کر لیا، یہ غزہ کا بیرونی دنیا کے رابطے کا  واحد راستہ تھا جس پر اسرائیل کا کنٹرول نہیں تھا۔
اسرائیل نے امریکی دباؤ پر جنوری میں حماس کے ساتھ جنگ بندی کا معاہدہ کیا تھا جس کے بعد اسے اس راہداری سے دستبردار ہونا تھا۔
تاہم اسرائیل نے بعد میں یہ یہ کہہ کر اسے خالی کرنے سے انکار کر دیا کہ ہتھیاروں کی سمگلنگ روکنے کے لیے اس علاقے میں اس کی فوج کی موجودگی ضروری ہے۔

شیئر: