امریکہ کے ساتھ کشیدگی کے دوران ایرانی فوج کی جانب سے مسافر طیارہ مار گرانے اور بعدازاں حکام کی طرف سے غلط بیانی کے خلاف احتجاج کرنے والے مظاہرین پر ایرانی سکیورٹی فورسز نے فائرنگ کی ہے اور ان کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کا استعمال بھی کیا گیا ہے۔
اتوار کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی ایک ٹویٹ میں ایرانی مظاہرین کی حمایت کی تھی اورایرانی حکومت کو خبردار کیا تھا کہ وہ احتجاج کرنے والے مظاہرین کو نہ مارے کیونکہ دنیا انہیں دیکھ رہی ہے۔
برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق ایرانی حکام نے صدر ٹرمپ کی ٹویٹ کو رد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایرانی عوام جانتے ہیں کہ ٹرمپ نے قاسم سلیمانی کو قتل کروایا ہے۔
مزید پڑھیں
-
عالمی رہنماؤں کا ایران سے احتساب کا مطالبہNode ID: 452521
-
’امریکہ ایرانی مظاہرین کے ساتھ کھڑا ہے‘Node ID: 452646
-
امریکہ ایران کشیدگی: ’مظاہرین کو نہ مارو، دنیا دیکھ رہی ہے‘Node ID: 452791
روئٹرز کے مطابق پیر کو احتجاج تیسرے روز بھی جاری ہے اور مظاہرین دوبارہ دارالحکومت تہران میں جمع ہونا شروع ہو گئے ہیں۔
عرب نیوز کے مطابق ایسوسی ایٹڈ پریس کی تصدیق شدہ ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ آنسو گیس کے شیل بھاگتے ہوئے لوگوں کے ہجوم میں گر رہے ہیں اور لوگ بری طرح سے کھانس رہے ہیں۔
ویڈیو میں ایک عورت کی آواز بھی سنی جا سکتی ہے جو فارسی زبان میں کہہ رہی ہے ’وہ آنسو گیس کی شیلنگ کر رہے ہیں۔ آزادی چوک پر، آمر مردہ باد۔‘
#IranProtests occurred at multiple sites today in Tehran, according to videos sent to the Center for Human Rights in Iran. Here tear gas is shot directly into a crowd outside Shademaan Metro Station in Tehran at approx 7:30pm Tehran time. pic.twitter.com/elRzY6sUfa
— IranHumanRights.org (@ICHRI) January 12, 2020
ایک اور ویڈیو میں ’خون میں لت پت ایک عورت کو لے جاتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے جس کا خون زمین پر ٹپک رہا ہے۔ اس کے ساتھی کہہ رہے ہیں کہ دیکھو لڑکی کی ٹانگ میں گولی لگی ہے۔‘
پولیس کی فائرنگ کے واقع کے بعد سامنے آنے والی تصاویر اور ویڈیوز میں سڑک کنارے فٹ پاتھ پر جگہ جگہ خون دیکھا جا سکتا ہے۔
تاہم اے ایف پی کے مطابق ایرانی حکام اس بات سے انکاری ہیں کہ پولیس نے مظاہرین پر فائرنگ کی یا ان کے خلاف آنسو گیس کا استعمال کیا گیا۔

خیال رہے کہ ایرانی مظاہرین اپنی حکومت کی جانب سے یوکرینی طیارہ گرانے اور اس کے بعد غلط بیانی کرنے پر گذشتہ دو روز سے سراپا احتجاج ہیں۔
وہ ان نوجوانوں کی ہلاکت کا سوگ بھی منا رہے ہیں جو تباہ کیے جانے والے جہاز میں سوار ہو کر تعلیم کی غرض سے کینیڈا جا رہے تھے۔
-
واٹس ایپ پر خبروں کے لیے ’اردو نیوز‘ گروپ جوائن کریں