سعودی عرب میں جازان ریجن میں ’سلا‘ پہاڑ کی سیڑھی نما ڈھلوانوں پر شریفہ کے خودرو درخت بڑی تعداد میں پائے جاتے ہیں۔ شریفہ دیگر پھلوں سے منفرد ہوتا ہے۔ اس کی کاشت میں کسی انسان کا عمل دخل نہیں۔ یہاں کیلے، پپیتے بھی کاشت کیے جاتے ہیں۔

العربیہ نیٹ کے مطابق جازان سعودی عرب کے جنوب مغرب میں واقع ہے۔ العارضہ کمشنری میں سلا پہاڑ کے قریب سعودی کاشتکار یحیی الودعانی نے بتایا کہ ہمارے یہاں شریفہ پھل کا درخت بہت زمانے سے بڑی تعداد میں ہیں۔ ہمارے آباؤ اجداد بھی شریفہ بڑے شوق سے کھاتے تھے۔ ہمیں بھی بزرگوں سے شریفہ کا پیار ورثے میں ملا ہے۔ اس کی خوبی یہ ہے کہ یہ خودبخود پیدا ہوتا ہے- اس کی پیداوار میں کسی کاشتکار کا عمل دخل نہیں ہوتا۔ دوسری بات یہ ہے کہ یہ بڑی تعداد میں ہوتا ہے اتنا زیادہ کہ ہر طرف شریفہ کا جنگل نظر آتا ہے۔
مزید پڑھیں
-
مدینہ میں کھجوروں کی ناپید ہونے والی اقسام پر تحقیقNode ID: 438561
الودعانی نے بتایا کہ شریفہ کا پھل زیادہ اس لیے ہوتا ہے کیونکہ اس کے بیج زمین پر گر جاتے ہیں۔ جب ہوائیں چلتی ہیں اور بارش ہوتی ہے تو اس کے بیج جہاں جہاں پہنچے ہوتے ہیں یہ وہاں اگ آتے ہیں۔ ہمارا یہ علاقہ کاشتکاری کے حوالے سے بڑا زرخیز بھی ہے۔
الودعانی کا کہنا تھا کہ شریفے کا درخت سلا پہاڑ میں ہی اگتا ہے۔ ہمارے علم کے مطابق یہاں یہ درخت اگانے والا کوئی نہیں۔ ایک زمانے سے اسے ہم اسی طرح اگتا ہوا دیکھ رہے ہیں۔ یہ پھل مہنگا ہوتا ہے۔ ایک ٹوکری 150 اور 200 ریال میں فروخت ہوتی ہے۔ کبھی کبھار قیمت اس سے زیادہ بھی ملتی ہے۔