پنجاب کے ضلع گجرات کی تحصیل کھاریاں کے محمد عابد 9 بیٹیوں کے والد ہیں لیکن ان کی 2 بیٹیوں کے کامیاب آپریشن کے بعد وہ سات بیٹیوں اور 2 بیٹوں کے والد بن گئے ہیں۔
17 سالہ بشریٰ اور 15 سالہ وافیہ اسلام آباد کے پمز ہسپتال میں جنس تبدیلی کے کامیاب آپریشن کے بعد ولید عابد اور مراد عابد بن چکے ہیں۔
محمد عابد نے اردو نیوز سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ’صرف ہمارا خاندان نہیں بلکہ پورا گاؤں خوش ہے۔ میری نو بیٹیاں تھیں اور ہمارے معاشرے میں ہر انسان کی خواہش ہوتی ہے کہ اولاد نرینہ ہو لیکن اللہ نے مجھے محروم رکھا تھا لیکن اب اللہ نے میری سن لی۔‘
مزید پڑھیں
-
جڑواں بچیوں کی پیدائش جڑواں نرسیں کے ہاتھوںNode ID: 438796
-
کورونا: ’اکثر سائنسی تحقیقات غلط تھیں‘Node ID: 508801
-
'موت کا انتظار'، 74 سالہ شخص مُردوں کے ڈبے میں بندNode ID: 511121
ولید اور مراد کے کامیاب آپریشن کرنے والے پمز ہسپتال کے ڈاکٹر امجد چوہدری نے اردو نیوز کو بتایا کہ یہ اپنی نوعیت کا ایک منفرد کیس ہے کیونکہ اس میں دو سگی بہنوں میں ایسے جینز پائے گئے جس کے بعد آپریشن ممکن ہوا۔ ’ایسا بہت کم ہوتا ہے کہ دو سگی بہنوں کی جنس تبدیلی کا آپریشن ممکن ہوسکے اس لیے یہ میڈیکل سائنس کے اعتبار سے اپنی نوعیت کا منفرد کیس تھا۔‘
بشریٰ اور وافیہ کی جنس تبدیلی کا اس وقت معلوم ہوا جب وہ بارہویں اور نویں جماعت میں پڑھ رہی تھیں اور اساتذہ نے ان میں دیگر بچیوں سے ہٹ کر عادات دیکھیں تو ان کے والدین کی توجہ اس جانب دلوائی۔
بچوں کے والد محمد عابد بتاتے ہیں کہ بچپن سے ہی ان کی عادتیں اور شوق لڑکوں والے تھے، گھر میں دیگر بہنوں کے ساتھ برتنوں اور گڑیوں سے کھیلنے کے بجائے یہ کرکٹ وغیرہ کھیلنے کو زیادہ ترجیح دیتے تھے لیکن ہم نے کبھی ایسا نہیں سوچا تھا کہ ان کی جنس تبدیلی بھی ممکن ہے۔

’اب دوستوں کے ساتھ کرکٹ بھی کھیل سکوں گا‘
17 سالہ بشریٰ جو کامیاب آپریشن کے بعد ولید عابد بن چکے ہیں، کہتے ہیں کہ بچپن میں مجھے کبھی لڑکیوں والی کھیلوں سے زیادہ لگاؤ نہیں تھا۔ ہمیشہ لڑکوں والے کھیل کھیلتے تھے۔ ’مجھے کرکٹ کھیلنے کا بہت شوق تھا لیکن معاشرے کے دباؤ کی وجہ سے گھر والے گھر سے باہر کھیلنے کی اجازت نہیں دیتے تھے لیکن ہم گھر میں کرکٹ کھیلا کرتے تھے اب میں باہر جا کر کرکٹ بھی کھیل سکوں گا۔‘
جب کالج میں داخلہ ملا تو اساتذہ نے بھی کہا کہ ان کی عادتیں دیگر لڑکیوں سے مختلف ہیں۔ ’والدہ نے پھر والد صاحب سے کہا کہ ان کا چیک اپ کرواتے ہیں جس کے بعد گجرات میں لیڈی ڈاکٹر سے رجوع کیا تو انہوں نے پمز ہسپتال میں ڈاکٹر امجد چوہدری کو ریفر کیا جہاں مختلف ٹیسٹ کروانے کے بعد آپریشن ہوا جس میں تقریبا تین سے چار ماہ لگے۔‘
ولید عابد کہتے ہیں کہ میرے دل میں کبھی کبھی یہ خیال آتا تھا کہ ہم 9 بہنیں ہیں اگر ہم میں سے کوئی ایک بھائی ہوتا تو والدین کا ہاتھ بٹا سکتا تھا۔ ’ہماری ماں نے سب سے ہمیشہ ایک جیسی محبت اور برتاؤ کیا لیکن مجھے احساس تھا کہ ان کو بیٹا نہ ہونا کا دکھ ضرور ہے۔ اب ہم سات بہنوں کے دو بھائی بن گئے ہیں جس پر بہنیں اور والدہ انتہائی خوش ہیں۔‘
15 سالہ مراد عابد کہتے ہیں کہ ’اکثر سکول میں مجھے بچیاں چھیڑا کرتیں کہ تمہاری آواز اور حرکتیں لڑکوں والی ہیں، جب ان کو پتہ چلا کہ میرا جنس کی تبدیل کے لیے آپریشن ہوگا تو میری سکول کی سہیلیاں ہی مجھ سے دور رہنے لگیں۔‘
