پاکستان کی برسراقتدار جماعت تحریک انصاف کے رہنما جہانگیر خان ترین کو لاہور کی مقامی عدالت نے ایک مرتبہ پھر دو روز کے لیے عبوری ضمانت میں توسیع دے دی ہے۔
ان پر الزام ہے کہ انہوں نے اپنے کاروباری معاملات میں خردبرد کی اور منی لانڈرنگ کے ذریعے پیسہ باہر بھجوایا۔ اسی حوالے سے ملک کے وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف آئی اے نے ان پر تین مقدمات دائر کر رکھے ہیں۔
ماضی میں وزیراعظم عمران خان کے بہت قریب سمجھے جانے والے جہانگیر ترین اس وقت گرداب میں ہیں۔ اور ایف آئی اے کے مقدمات میں انہوں نے اپنے بیٹے سمیت عبوری ضمانت کروا رکھی ہے۔ ان مقدمات میں ان کے بیٹے علی ترین سمیت گھر کے دیگر افراد کو بھی نامزد کیا گیا ہے۔
مزید پڑھیں
-
کیا جہانگیر ترین پیپلز پارٹی میں شامل ہونے جارہے ہیں؟Node ID: 555026
-
میں تو دوست تھا دشمنی کی طرف کیوں دھکیل رہے ہیں: جہانگیر ترینNode ID: 555171
اپنی عبوری ضمانت کی توسیع کے لیے بدھ کو جب جہانگیر ترین لاہور کی بینکنگ کورٹ میں پیش ہوئے تو ان کے ساتھ حکمراں جماعت کے منتخب ایم این ایز اور ایم پی ایز بھی موجود تھے۔ اس صورتحال نے بہت سے تجزیہ کاروں کو جنوبی پنجاب میں اہم سمجھے جانے والے سیاست دان کی جانب ایک بار پھر متوجہ کیا۔
جہانگیر ترین کے ہمراہ آنے والے والوں میں پی ٹی آئی کے ایم این اے راجہ ریاض اور خاتون ایم این اے غلام بی بی بھروانہ کے علاوہ پنجاب اسمبلی کے ارکان نعمان لنگڑیال، طاہر رندھاوا، سلمان نعیم، خرم لغاری اور عبدالحی دستی بھی موجود تھے۔
جہانگیر ترین کی پیشی سے قبل ان کی رہائش گاہ پر ایک غیر رسمی اجلاس بھی ہوا جس میں حکمراں جمات کے متذکرہ بالا منتخب اراکین موجود تھے۔
وفاقی حکومت خاص طور پر وزیراعظم کے مشیر برائے انصاف شہزاد اکبر نے اشاروں کنایوں میں یہ بات کی ہے کہ ’کرپیش کے الزامات میں کسی کو بھی نہیں چھوڑا جائے گا چاہے وہ کوئی بھی ہو۔‘
ایسے میں سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا وزیراعظم کے قریبی ساتھی سمجھے جانے والے جہانگیر ترین منتخب ارکان کے ہمراہ عدالت میں پیش ہو کر پارٹی کے اندر نیا فارورڈ بلاک بنانے جا رہے ہیں؟

اس سوال کا جواب تحریک انصاف کے ایم این اے راجہ ریاض نے اردو نیوز سے بات کرتے ہوئے کچھ یوں دیا ’میں یہ تو نہیں کہہ رہا کہ ابھی کوئی فاورڈ بلاک بننے جا رہا ہے تحریک انصاف میں، مگر میں یہ کہوں گا کہ ہم وزیراعظم عمران خان کے ساتھ ہونے کے باوجود جہانگیر ترین کو اکیلا نہیں چھوڑیں گے۔‘
جب ان سے پوچھا گیا کہ فارورڈ بلاک اگر ابھی نہیں بن رہا تو کیا مستقبل میں بنے گا تو ان کا کہنا تھا ’یہ ثانوی باتیں ہیں۔ کیونکہ سب کو پتا ہے کہ جہانگیر ترین کی تحریک انصاف کے لیے کیا خدمات ہیں۔ اور یہ آج سے نہیں بلکہ ایک دہائی سے بھی زیادہ سے ہیں۔ تو ایسے شخص کو دشمنوں کے چنگل میں نہیں دھکیلا جا سکتا۔ ہمیں پتا ہے کہ خان صاحب کے نیچے ایسے لوگ ہیں جو جہانگیر ترین کا پتا صاف کرنا چاہتے ہیں لیکن ہم ایسا نہیں ہونے دیں گے۔‘
انہوں نے بتایا کہ ’ترین صاحب اس وقت بھلے پارٹی معاملات سے دور ہیں لیکن اس کے باوجود انہوں نے خان صاحب کو اسمبلی سے اعتماد کا ووٹ لینے میں اہم کردار ادا کیا۔‘
