پاکستان کی سپریم کورٹ نے تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کو توہین عدالت کے مقدمے میں تحریری جواب جمع کرانے کی ہدایت کی ہے۔
بدھ کو حکومت کی جانب سے عمران خان کے خلاف توہین عدالت کی دائر کی گئی درخواست کی سماعت کے بعد سپریم کورٹ نے عمران خان سے تحریری جواب طلب کیا۔
چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں پانچ رُکنی لارجر بینچ نے ہدایت کی کہ عمران خان کے علاوہ بابر اعوان اور فیصل چوہدری بھی جواب جمع کروائیں۔
مزید پڑھیں
-
ارشد شریف کو میں نے کہا تھا کہ ملک چھوڑ کر چلے جاؤ: عمران خانNode ID: 712061
-
عمران خان کا جمعے کو لاہور سے لانگ مارچ کا اعلانNode ID: 712131
سماعت کے آغاز میں ایڈیشنل اٹارنی جنرل عامر رحمان نے عدالت کو بتایا کہ پولیس، خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی اور آئی بی کی رپورٹس پر ہی سب کو انحصار کرنا پڑتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ عدالت کا پہلا سوال تھا کہ عمران خان نے ڈی چوک آنے کی کال کب دی تھی۔
ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے بتایا کہ عدالتی حکم 25 مئی کو شام 6 بجے آیا تھاجبکہ رپورٹس کے مطابق عمران خان نے 6 بجکر 50 منٹ پر ڈی چوک پہنچنے کا اعلان کیا۔
عامر رحمان نے عدالت کو بتایا کہ عمران خان نے دوسرا اعلان رات 9 بجکر 54 منٹ پر کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی نے سرینگر ہائی وے پر دھرنے کی درخواست دی تھی جبکہ عمران خان نے عدالتی حکم سے پہلے ہی ڈی چوک جانے کا اعلان کیا تھا۔
ایڈیشنل اٹارنی جنرل کے مطابق عمران خان کے بعد شیری مزاری، فواد چوہدری اور صداقت عباسی نے بھی ڈی چوک کی کال دی۔
’تینوں محکموں کی رپورٹ کے مطابق عثمان ڈار، شہباز گل اور سیف اللہ نیازی نے بھی ڈی چوک کی کال دی۔‘
عامر رحمان نے بتایا کہ وکیل فیصل چوہدری اور بابر اعوان نے عدالت کو یقین دہانی کرائی تھی۔
