ترکیہ، شام میں زلزلہ: 9500 سے زائد ہلاکتیں، شہری ’معجزے‘ کے منتظر
ترکیہ، شام میں زلزلہ: 9500 سے زائد ہلاکتیں، شہری ’معجزے‘ کے منتظر
بدھ 8 فروری 2023 6:15
ترکیہ اور شام میں آنے والے تباہ کن زلزلے سے ہلاکتوں کی تعداد نو ہزار 500 سے تجاوز کر گئی ہے۔ دوسری جانب ریسکیو اہلکاروں کو سخت سردی اور برفباری کی وجہ سے ملبے تلے دبے افراد کو نکالنے میں مشکلات کا سامنا ہے۔
برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق امدادی اہلکاروں کی طرف سے منہدم عمارتوں کے ملبے سے زندہ بچ جانے والوں کو نکالنے کے لیے ریسکیو آپریشن جاری ہے۔
اقوام متحدہ کے ایک اہلکار نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ہزاروں بچے اس تباہ کن زلزلے کے باعث ہلاک ہو سکتے ہیں۔
ترک صدر رجب طیب اردوغان نے 10 صوبوں میں ایمرجنسی کا اعلان کیا ہے تاہم متعدد تباہ شدہ شہروں کے رہائشیوں نے غصے اور مایوسی کا اظہار کیا ہے کہ 1999 کے بعد ترکیہ میں آنے والے سب سے تباہ کُن زلزلے پر حکام کا ردعمل ’سست اور ناکافی‘ ہے۔
مرات الینک جن کا مالتیا کے علاقے میں گھر زمین بوس ہو چکا ہے اور رشتے دار لاپتہ ہیں، نے بتایا کہ ’یہاں ایک شخص بھی نہیں ہے، ہم برفباری میں کھُلے آسمان کے نیچے ہیں۔ میں کیا کروں، کہاں جاؤں؟‘
امدادی کارکنوں کو تباہ شدہ سڑکوں، خراب موسم اور وسائل کی کمی اور بھاری سامان کی وجہ سے سب سے زیادہ متاثرہ علاقوں تک پہنچنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
امدادی اہلکاروں نے شام کی صورت حال کے بارے میں تشویش کا اظہار کیا ہے جو پہلے ہی تقریباً 12 سال کی خانہ جنگی کے بعد انسانی بحران سے دوچار ہے۔
ترک حکام کا کہنا ہے کہ مغرب میں اڈانا سے مشرق میں دیارباقر تک تقریباً 450 کلومیٹر اور شمال میں ملاتیا سے جنوب میں حاطے تک 300 کلومیٹر کے فاصلے پر پھیلے ہوئے علاقے میں تقریباً ایک کروڑ 35 لاکھ افراد متاثر ہوئے ہیں۔
ترک صدر رجب طیب اردوغان نے 10 صوبوں میں ایمرجنسی کا اعلان کیا ہے۔ (فوٹو: اے ایف پی)
شامی حکام نے زلزلے کے مرکز سے تقریباً 250 کلو میٹر دور جنوب میں حما تک ہلاکتوں کی اطلاع دی ہے۔
عالمی ادارہ صحت کے ڈائریکٹر جنرل تیدروس ادہانوم نے جنیوا میں کہا کہ ’گزرنے والا ہر منٹ، ہر گھنٹہ زندہ بچ جانے والوں کی تلاش کے امکانات کم کر دیتا ہے۔‘
ترکیہ کے عوام کسی ’معجزے‘ کے منتظر ہیں جو اُنہیں اُن کے پیاروں سے ملا سکے۔ موسلا دھار بارش اور برفباری کی وجہ سے ملبے تلے دبے ہزاروں افراد کو بچانے کی کوششوں میں رکاوٹ پیدا ہو رہی ہے۔
عرب نیوز کے مطابق جنوب مشرقی صوبے سانلیورفا کے رہائشی ایک وکیل فیرات گیرجر اپنی اہلیہ اور بچوں کو زلزلے سے بچ جانے کے بعد گاؤں لے کر گئے ہیں اور امدادی کاموں میں حصہ لینے کے لیے شہر کے مرکز میں واپس آئے ہیں۔
فیرات گیرجر نے ایک عمارت کے اندر پھنس جانے والے جانوروں کو بھی نکالا۔
اسی ایک پناہ گزین خاندان کو تیسری منزل کے اپارٹمنٹ سے باہر نکالنے کے لیے ان کی کوششیں بےسود رہیں کیونکہ عمارت کچھ ہی دیر بعد گر گئی۔
امدادی اہلکاروں نے شام کی صورت حال کے بارے میں تشویش کا اظہار کیا ہے جو پہلے ہی انسانی بحران سے دوچار ہے۔ (فوٹو: اے ایف پی)
انہوں نے بتایا کہ ’ہم نے ان کی توجہ مبذول کرانے کے لیے کھڑکی پر پتھر بھی پھینکا۔ پرانی عمارت کچھ ہی لمحوں میں دھول کے بادل میں گُم ہو گئی جیسے کسی ہارر فلم میں ہوتا ہے۔‘
انخلاء کی کال کے بعد عمارت میں صرف پناہ گزین ہی رہ گئے تھے۔ ریسکیو آپریشن کے بعد ایک خاندان کے پانچ افراد کی لاشیں نکال لی گئیں۔
لاکھوں شامی پناہ گزین جنہوں نے اپنے ملک کو خانہ جنگی کی وجہ سے چھوڑا اب اس خطے میں مقیم ہیں۔
فوٹو جرنلسٹ سردار اوزسوئے جو گذشتہ روز ساحلی شہر اسکندرون پہنچے ہیں زلزلے کے جھٹکوں کے بعد صوبہ حاطے کے سخت متاثرہ ضلع کریخان میں موجود تھے۔
انہوں نے بتایا کہ ’یہ سب سے زیادہ متاثرہ علاقوں میں سے ایک ہے۔ نقصان اتنا زیادہ ہے کہ ریسکیو ٹیموں کو مؤثر طریقے سے منظم نہیں کیا جا سکتا۔ آج انسانی امداد گذشتہ روز کے مقابلے بہت بہتر نظر آتی ہے۔ میں نے زندہ بچ جانے والوں کے لیے بہت سے خیمے آتے دیکھے ہیں۔ لیکن بارش مسلسل ہو رہی ہے اور بچاؤ کی کوششوں میں رکاوٹ بن رہی ہے۔‘