Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

زلزلے کی تنقیدی کوریج، ترکیہ میں تین ٹی وی چینلز کو جرمانہ

مقامی اور بین الاقوامی میڈیا ماہرین اور صحافیوں کی یونینز نے ان جرمانوں کی مذمت کی ہے (فوٹو: اے ایف پی)
ترکیہ کی ریڈیو اینڈ ٹیلیویژن سپریم کونسل (آر ٹی یو کے) نے حالیہ زلزلے کے بعد حکومت پر تنقید پر مبنی کوریج کرنے پر تین ٹی وی چینلز کو جرمانہ کیا ہے۔
عرب نیوز کے مطابق ہالک ٹی وی، ٹیلی 1 اور فاکس ٹی وی ترکیہ کو زلزلے کے بعد حکومت کی ریلیف کے لیے کی جانے والی کوششوں پر تنقید کرنے پر جرمانہ کیا گیا۔
آر ٹی یو کے نے فاکس ٹی وی اور ہالک ٹی وی کو صحافیوں کی جانب سے حکومت کی ریلیف مہم کو سست کہنے پر ایک ماہ کی ایڈورٹائزنگ کا تین فیصد جرمانہ کیا۔
ہالک ٹی وی کو مہینے کی ایڈورٹائزنگ کا پانچ فیصد جرمانہ کیا گیا اور ورکر پارٹی کے رکن اسمبلی احمد سک کی جانب سے تنقید پر پروگرامز کو پانچ مرتبہ بند کیا گیا۔
ٹیلی 1 کو بھی صدر رجب طیب اردوغان اور ان کی سایست پر تنقید کرنے پر یہی جرمانے کیے گئے۔
ان جرمانوں کے بارے میں کہا جا رہا ہے یہ ترکیہ کی حکومت کی جانب سے تنقید کرنے والوں کی آواز کو بند کرنے کی کوشش ہے۔
ان تین ٹی وی چینلز کو رجب طیب اردوغان پر تنقید کے حوالے سے جانا جاتا ہے جبکہ ہالک ٹی وی کا جھکاؤ اپوزیشن جماعت رپبلکن پیپلز پارٹی کی طرف بتایا جاتا ہے۔
مقامی اور بین الااقوامی میڈیا ماہرین اور صحافیوں کی یونینز نے ان جرمانوں کی مذمت کی ہے۔
میڈیا کے حقوق کے لیے کام کرنے والے ادارے ’کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس‘ نے ترکیہ کے حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ جرمانے معاف کیے جائیں اور ملک میں میڈیا کی آزادی کو تحفظ دیا جائے۔
مئی میں ہونے والے عام انتخابات سے پہلے حکومت کی جانب سے زلزلے کے بعد کیے جانے والے اقدامات پر سیاسی بحث ہو رہی ہے۔
اپوزیشن، ماہرین اور انسانی حقوق کی تنظیمیوں نے آر ٹی یو کے پر الزام لگایا ہے کہ وہ حکومت متنازع میڈیا قانون کو آزاد میڈیا کو سزا دینے کے لیے استعمال کر رہا ہے اور رجب طیب اردوغان کا آلہ کار بنا ہوا ہے۔
زلزلے کے بعد سے اب تک حکومت نے سوشل میڈیا پر تنقید کرنے پر 78 افراد کو گرفتار کیا ہے۔
رپورٹرز ود آؤٹ بارڈرز نے 2022 میں اپنی پریس فریڈم انڈیکس میں ترکیہ کو 180 میں سے 149 ویں نمبر پر رینک کیا تھا۔

شیئر: