پشاور سینٹرل جیل میں 11 اپریل کو دو گروپوں کی لڑائی میں 11 قیدی اور 4 جیل اہلکار بھی زخمی ہوئے۔
پشاور سینٹرل جیل میں آئے روز ناخوش گوار واقعات رونما ہو رہے ہیں۔ گذشتہ ایک ہفتے کے دوران لڑائی جھگڑے، منشیات اور موبائل فون برآمد ہونے کے متعدد واقعات رپورٹ ہوئے۔
مزید پڑھیں
-
سر میں کیل ٹھونکنے کا واقعہ، ’خاتون ڈپریشن کی مریضہ ہیں‘Node ID: 643836
جیل میں دو خطرناک قیدی گروپوں کے درمیان دو سے زائد بار تصادم ہو چکا ہے۔ دو روز قبل بھی ان گروپوں کے درمیان خون ریز لڑائی ہوئی۔
بیچ بچاؤ کے دوران جیل عملے پر بھی حملہ کیا گیا، قیدیوں کو منتشر کرنے کے لیے پولیس فورس طلب کرکے آنسو گیس کی شیلنگ کرنا پڑی۔
اس لڑائی کے دوران 11 قیدی زخمی ہوئے جبکہ جیل کے چار اہلکار زخمی ہوئے جنہیں ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔
جیل حکام کے مطابق دو گروپوں میں تنازع چل رہا تھا جو اس سے پہلے بھی ہنگامہ آرائی کرچکے ہیں۔ ان قیدیوں پر جیل کے اندر توڑ پھوڑ کا الزام بھی ہے۔
رواں برس 21 مارچ کو پشاور سینٹرل جیل میں سرعام منشیات کی دستیابی کی ویڈیو وائرل ہوئی تھی جس میں قیدی قطار میں کھڑے ہوکر نشہ آور اشیا خرید کر رہے تھے۔ اس ویڈیو کے بعد دو جیل اہلکاروں کے خلاف انکوائری بھی شروع کردی گئی۔
جیل انتظامیہ کا موقف
پشاور سینٹرل جیل کے سپرنٹنڈنٹ مقصود خان نے اردو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے موقف اپنایا کہ ’جیل میں لڑنے والے چار قیدیوں کو مردان جیل جبکہ ایک کو نوشہرہ سب جیل منتقل کردیا گیا ہے۔‘
انہوں نے بتایا کہ ’لڑائی جھگڑے کے واقعات کے بعد قیدیوں کے خلاف ایف آئی آر درج کر لی گئی ہے۔‘

’اس وقت جیل کے اندر صورت حال معمول کے مطابق ہے، وہاں اہلکاروں کی تعداد بڑھا دی گئی ہے، تاہم کسی بھی قسم کی سکیورٹی کا مسئلہ نہیں ہے۔‘
سپرنٹنڈنٹ جیل مقصود خان کے مطابق ’منشیات کی فراہمی سے متعلق خبروں میں صداقت نہیں ہے۔ جن جیل اہلکاروں کے خلاف شکایت تھی ان کے خلاف کارروائی کی گئی ہے، کسی کو بھی قانون کو ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں ہوگی چاہے وہ میرا سٹاف ہی کیوں نہ ہو۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ ’ہم جیل میں وقتا فوقتاً سرچ آپریشن کرتے رہتے ہیں اور دوران قیدیوں سے موبائل فونز کے علاوہ مختلف اوزار وغیرہ بھی برآمد ہوئے ہیں۔‘
مقصود خان نے بتایا کہ ’گذشتہ دس ماہ میں سرچ آپریشن کے دوران قیدیوں سے 600 موبائل فون برآمد کیے جا چکے ہیں، تاہم کوتاہی برتنے پر جیل عملے کے چار اہلکاروں کے خلاف ایف آئی آر بھی درج کر لی گئی ہے۔‘
انہوں نے کہا کہ ’جیل میں گنجائش سے زیادہ قیدی موجود ہیں، اس وقت تین ہزار 500 قیدی موجود ہیں جبکہ جیل کی گنجائش تین ہزار ہے۔‘
