ریاض میں ان فلیور ایکسپو: ’کاروبار کے آغاز کے لیے رقم کہاں سے لیں‘
تقریب کے شرکاء کو مشورہ ہے کہ 'لیزر بنیں، لائٹ ہاؤس نہیں'۔ فوٹو عرب نیوز
ریاض میں ان فلیور ایکسپو کے موقع پر فنڈ ریزنگ کی پہلی ماسٹر کلاس کا عنوان تھا ’کاروبار کے آغاز کے لیے پیسے کہاں سے حاصل کریں۔‘
عرب نیوز کے مطابق اس تقریب میں غذائی کاروبار کے ابتدائی مراحل کی وسیع معلومات رکھنے والی سرمایہ کار اور مشیر بینا خان نے شرکا کو مشورہ دیا ہے کہ ’لیزر بنیں، لائٹ ہاؤس نہیں۔‘

تقریب کے موقع پر منعقد کی گئی ماسٹر کلاس میں کاروبار کے لیے سرمایہ حاصل کرنے کے اہم پہلوؤں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
بینا خان نے وضاحت کی کہ کاروبار کے ابتدائی مراحل میں چار قسم کی فنانسنگ دستیاب ہوتی ہے جس میں (ابتدائی سرمایہ کار، مالی اعانت، رقوم جمع کرنے کے لیے آن لائن پلیٹ فارم اور کم سرمایہ کاری سے آغاز) شامل ہیں۔

بینا خان کا کہنا ہے کہ کاروبار کی ابتدا LinkedIn سے کریں اور مقامی صنعت کے لیے مخصوص نیٹ ورکنگ ایونٹس کو بھی دیکھنا چاہیے جیسا کہ سٹارٹ اپ میٹ اپس، انٹرپرینیور کانفرنسز اور دیگر مقابلے، یہ سب سرمایہ کاروں سے ملنے کے لیے بہترین ہیں۔
اس موقع پر بینا خان نے سامعین کو مشورہ دیا کہ وہ سٹارٹ اپ کے لیے تجارتی تنظیموں یا سرکاری ایجنسیوں سے مالی اعانت حاصل کریں۔
’مملکت میں اپنے ہیڈ کوارٹر منتقل کرنے کے لیے سٹارٹ اپس کے لیے درحقیقت بڑی گرانٹس کی پیشکش کی جا رہی ہے۔ اگر آپ ایسا کرتے ہیں تو آپ کو بڑی گرانٹس مل سکتی ہیں جو آپ کے (تحقیق اور ترقی) کے اخراجات، تنخواہ، کرایہ اور دیگر اخراجات پورے کرے گی۔‘

بینا خان نے سرمایہ کاروں سے رابطوں اور ممکنہ مسابقت کو شامل کرنے کے ساتھ پیشہ ور فنڈ ریزر کی خدمات حاصل کرنے کی جانب بھی اشارہ کیا۔
واضح رہے کہ گذشتہ برس فوڈ ٹیک سٹارٹ اپس نے مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ (مینا) خطے میں پانچ کروڑ 40 لاکھ ڈالر اکٹھے کیے تھے۔ اس برس اب تک یہ شعبہ 20 کروڑ ڈالر سے زیادہ حاصل کرنے میں کامیاب ہو چکا ہے۔