Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

داعش کیخلاف فتوحات کیلئے شہریوں کو نہ مارا جائے، انسانی حقوق

  بیروت ....اقوام متحدہ کے ماتحت انسانی حقوق کے ہائی کمشنر شہزادہ زید رعد الحسین نے مطالبہ کیا ہے کہ الرقہ شہر میں محصور ایک لاکھ بے قصور نہتے شہریوں کو داعش کے خلاف فوری فتوحات کے چکر میں موت کے گھاٹ نہ اتارا جائے۔ داعش کے خلاف برسر جنگ تمام افواج اپنے اپنے عسکری آپریشن پر نظر ثانی کریں۔ زید رعد الحسین نے الرقہ میں پھنسے ہوئے شہریوں کی زندگی کے حوالے سے گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ الرقہ شہر پر داعش کے جنگجو قابض ہیں۔ ایک طرف شامی افواج شہر کو داعش کے چنگل سے آزاد کرانے کی جنگ لڑ رہی ہے تو دوسری جانب کئی ممالک کی افواج بھی داعش کی سرکوبی کیلئے آپریشن کررہی ہیں۔ اقوام متحدہ نے خبردار کیا کہ وہاں ایک لاکھ شہریوں کی زندگیاں خطرے میں ہیں۔ ایک رپورٹ یہ بھی ہے کہ داعشی جنگجو بے قصور شہریوں کو باہر نکلنے میں مدد کے بہانے بھاری رقمیں وصول کررہے ہیں اور اس حوالے سے اپنے وعدے بھی پورے نہیں کررہے۔ ایک اور رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بعض شہری داعشی جنگجوﺅں اور انکے خلاف برسرپیکار افواج کی گولہ باری اور بمباری سے جان بچانے کیلئے بھاگنے کی کوشش کے دوران بارودی سرنگوں کی نذر ہورہے ہیں۔ الرقہ کے شہری ایک طرف داعش اور دوسری جانب مخالف افواج کے درمیان پھنسے ہوئے ہیں۔

شیئر: