غاضب اسرائیل کے جرائم کے خلاف غیر متزلزل موقف
28جنوری 2018ءکو سعودی عرب سے شائع ہونے والے اخبار ”الریاض“ کا اداریہ:
القدس سے متعلق اسرائیلی موقف اور یکطرفہ فیصلہ نافذ کرنے والے اسرائیلی انداز کو سعودی عرب پوری قوت سے مسترد کررہا ہے۔ سعودی عرب کا یہ موقف نیا نہیں بلکہ اسلامی عرب مسائل خصوصاً مسئلہ فلسطین کی نصرت کے سلسلے میں مملکت کا یہ تاریخی موقف ہے اور اسکی یہ غیر متزلزل پالیسی ہے۔ سعودی عرب کے سفیر نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے سامنے مملکت کا مذکورہ موقف پوری قوت کیساتھ پیش کرتے ہوئے واضح کیا کہ اونے پونے حل ناقابل قبول ہیں۔ عالمی برادری القدس کے اسلامی عرب تشخص کو مٹانے اور فلسطینی عوام کو اپنی سرزمین پر اپنے جائز حقوق برتنے سے روکنے پر اسرائیل کے خلاف ٹھوس اقدامات کرے۔ اسکے غلط اقدامات پر اسے لگام لگائے۔
عرب جس امن کے خواہاں ہیں اور جس کےلئے انہوں نے بڑی جدوجہد کی ہے اورجس کی خاطر انہوں نے 2002ءمیں تاریخی امن فارمولا سعودی عرب کی تجویز پر منظور کررکھا ہے اور جو امن فارمولا بین الاقوامی قانونی قراردادو ں کے عین مطابق ہے،اس کے نفاذ سے مسئلہ ٹھوس اور منصفانہ بنیادوں پر حل کیا جاسکتا ہے۔
کوئی بھی سمجھدار انسان یہ تصور نہیں کرسکتا کہ مشرق وسطیٰ امن عمل جزوی حل کی صورت میں کامیاب ہوسکے گا۔ مشرق وسطیٰ بحران کے تمام متنازعہ عناصر کو شامل حل کرنا پڑیگا۔ اسکے بغیر بات نہیں بنے گی۔
جب بھی عالمی برادری امن کاررواں کے حرکت میں آنے اور عصر حاضر کے بدترین غاصبانہ قبضے کے خاتمے کا خواب دیکھتی ہے تب تب اسرائیل یکطرفہ اقدامات کرکے امن عمل کا کاررواں کے غبارے سے ہوانکال دیتا ہے۔ جان بوجھ کر اشتعال انگیز حرکتیں کرتا ہے۔اسرائیل جغرافیائی نقوش تبدیل کرنے اور تاریخ کو مسخ کرنے میں لگا ہوا ہے۔اسرائیل تینوں آسمانی مذاہب کے سنگم کی تصویر کو داغدار بنانے کے درپے ہے۔
اسرائیل کے اشتعال انگیز اقدامات اور بین الاقوامی قانونی قراردادوں کی پے درپے خلا ف ورزیوں پر عالمی برادری کی خاموشی مشرق وسطیٰ میں امن و سلامتی اوراستحکام کی ہر امید پر پانی پھیر رہی ہے۔
٭٭٭٭٭٭٭٭