قومی سلامتی کے خلاف یا بے بنیاد معلومات شیئر کرنا قابل سزا جرم
’غلط معلومات شیئر کرنا، معاشرے کو بھٹکانا یا رائے عامہ کو مخالف بنانا بھی قابل مواخذہ ہے‘ ( فوٹو: المواطن)
سعودی پبلک پراسیکیوشن نے سوشل میڈیا صارفین کو خبردار کیا ہے کہ قومی سلامتی کے خلاف مواد تیار کرنا یا شیئر کرنا یا اپنے ڈیسوائسز میں محفوظ کرنا جرم ہے۔
سبق ویب سائٹ کے مطابق پبلک پراسیکیوشن نے کہا ہے کہ ’سوشل میڈیا صارفین کو متنبہ کیا جاتا ہے کہ دینی و معاشرتی اقدار کو نشانہ بنانا یا دوسرے لوگوں کی نجی زندگی کو متاثر کرنا بھی قابل سزا جرم ہے‘۔
’اس طرح کا مواد تیار کرنا، شیئر کرنا یا اپنی ڈیوائس میں محفوظ کرنا قابل مواخذہ ہوگا‘۔
’مذکورہ بالا خلاف ورزیاں سائبر کرائم میں شامل ہیں جن پر 5 سال تک قید اور 30 لاکھ ریال تک جرمانہ یا دونوں میں سے کوئی ایک سزا ہوسکتی ہے‘۔
پبلک پراسیکیوشن نے کہا ہے کہ ’مختلف اوقات میں حکومتی فیصلے جاری ہوتے رہتے ہیں، ان فیصلوں کو مذاق کا موضوع بنانا، حکومتی پالیسیوں پر تنقید کرنا یا شخصیات کا استہزا کرنا بھی جرم ہے‘۔
’اسی طرح کسی چیز کے بارے میں غلط معلومات شیئر کرنا، بے بنیاد اور غیر معروف ذرائع سے آنے والی معلومات لوگوں میں پھیلانا اور معاشرے کو بھٹکانا یا رائے عامہ کو مخالف بنانا بھی قابل مواخذہ ہے‘۔