پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد کے شکرپڑیاں گراؤنڈ میں یوم پاکستان کی مرکزی تقریب کے موقع پر کارہائے نمایاں سرانجام دینے والے مردوخواتین کا خصوصی تعارف کرایا گیا۔
بدھ کو ہونے والی مرکزی تقریب میں صدر پاکستان ڈاکٹر عارف علوی، وزیراعظم پاکستان عمران خان، مسلح افواج کے سربراہوں اور او آئی سی ممالک کے وفود کی موجودگی میں متعارف کرائے گئے افراد کو خصوصی نشستیں دی گئی تھیں۔
تقریب کی کمنٹری کرنے والوں نے نام لے کر ان شخصیات کا تعارف کرایا تو ان کے کاموں سے متعلق مختصر معلومات بھی شیئر کی گئیں۔

ایک دہشت گرد حملے میں جان قربان کرنے والے ڈی ایس پی منور ترین کی اہلیہ زرغونہ منظور نے پولیس میں شمولیت اختیار کی اور اس وقت بلوچستان کی پہلی خاتون ایس ایچ او ہیں۔

ملک عدنان نے سیالکوٹ میں سری لنکن شہری کو جان کی پرواہ نہ کرتے ہوئے بچانے کی کوشش کی تھی، جس پر انہیں تمغہ شجاعت سے بھی نوازا گیا۔

اخوت فاؤنڈیشن کے ڈاکٹر امجد ثاقب نے مستحق افراد کے لیے بلاسود قرض دینے کا آغاز کیا۔ 40 لاکھ سے زائد پاکستانیوں کو 60 ارب کا قرضہ حسنہ دیا جا چکا ہے جبکہ اخوت یونیورسٹی بھی مستحق اور باصلاحیت طلبہ کو اعلیٰ تعلیم سے آراستہ کر رہی ہے۔

پروین بی بی نے شوہر کی وفات کے بعد رکشہ ڈرائیونگ کو روزگار بنایا اور نہ صرف خودکفیل زندگی گزار رہی ہیں بلکہ لاہور میں مستحق خواتین کو ڈرائیونگ کی مفت تربیت بھی دے رہی ہیں۔

ڈاکٹر ممپال سنگھ نے لاہور میں نوزائیدہ بچوں کے لیے انتہائی نگہداشت کا یونٹ قائم کیا جو ہزاروں والدین کے لیے امید کی کرن ہے۔

گولڈ میڈلسٹ مریم شمعون بلوچستان کی مسیحی برادری سے تعلق رکھنے والی پہلی خاتون اسسٹنٹ کمشنر ہیں۔
