Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

پاکستان میں مقیم غیرقانونی افغان مہاجرین کو نکالنے کیلئے عید کے بعد ’نئی مہم‘

پاکستان افغان طالبان پر ٹی ٹی پی کے جنگجوؤں کو پناہ دینے کا الزام لگاتا ہے۔ (فوٹو: اے ایف پی)

پاکستان غیر قانونی طور پر ملک میں مقیم افغان مہاجرین کو نکالنے کے لیے اگلے مہینے سے تازہ مہم شروع کرے گا۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق حالیہ واقعات کے بعد دونوں ممالک کے درمیان سرحدوں پر کشدیدگی بڑھ گئی ہے۔

انٹر نیشنل آرگنائزئیشن فار مائیگریشن کے جنوری میں جاری اعداد و شمار کے مطابق پاکستان کی جانب سے گذشتہ سال غیر قانونی افغان مہاجرین کو ملک چھوڑنے کے لیے دی گئی نومبر کی ڈیڈلائن کے بعد سے اب تک پانچ لاکھ افغان پاکستان چھوڑ چکے ہیں۔

 پاکستان نے سکیورٹی خدشات اور معاشی مشکلات کی بنا پر غیرقانونی مہاجرین پر کریک ڈاؤن کا دفاع کیا ہے تاہم تجزیہ کاروں کے مطابق یہ اقدام افغانستان میں برسراقتدار طالبان پر تحریک طالبان پاکستان کے خلاف کارروائی کرنے کے لیے دباؤں بڑھانے کے لیے کیا گیا۔

خیبر پختونخوا میں ایک سینیئر سرکاری عہدیدار نے اے ایف پی کو بتایا کہ ’ملٹری اسٹبلشمبٹ  نے ہمیں بتایا کہ غیر قانونی افغان مہاجرین کو نکالنے کا دوسرا مرحلہ عید کے بعد شروع ہوگا۔‘

’تاہم اس مرحلے کی تفصیلات ابھی تک نہیں بتائی گئی ہے۔‘

پشاور میں تعینات ایک سینیئر پولیس آفیسر کا کہنا ہے کہ غیرقانونی طور پر مقیم افغانوں کو نکالنے کے لیے آپریشن کا دوسرا مرحلہ عید کے بعد شروع ہوگا۔


طالبان کےافغانستان میں اقتدار سنبھالنے کے بعد سے پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔ (فوٹو: اے ایف پی)

نام نہ بتانے کی شرط مذکورہ پولیس آفیسر نے بتایا کہ پولیس کو احکامات دیے گئے ہیں کہ غیرقانونی طور پر مقیم افغان مہاجرین کی نشاندہی کریں۔

تاہم ان کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت نے اس آپریشن کی نوعیت کے حوالے سے کوئی خصوصی ہدایات ابھی تک جاری نہیں کی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ پولیس نے علاقے میں رہائش پذیر افغانوں کا ڈیٹا جمع کرنا شروع کر دیا ہے۔

پاکستان میں رہائش پذیر افغانوں کو قانونی معاونت فراہم کرنے والی وکیل منزہ کاکڑ کا کہنا تھا کہ ’افغان خوفزدہ ہیں اور ان کو نہیں پتہ کہ ان کے ساتھ کیا ہوگا۔‘

طالبان کی جانب سے افغانستان میں اقتدار سنبھالنے کے بعد سے پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی میں آہستہ آہستہ اضافہ ہوا ہے۔

پاکستان طالبان پر ٹی ٹی پی کے جنگجوؤں کو پناہ دینے کا الزام لگاتا ہے تاہم کابل نے ان الزامات کی تواتر سے تردید کی ہے۔

پاکستان کے دفتر خارجہ کے مطابق پاکستان نے پیر کو افغان صوبے پکتیکا اور خوست میں پاکستان کے اندر دہشت گردی کے حالیہ واقعات میں ملوث دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو ٹارگٹ کیا ہے۔  تاہم طالبان کا کہنا ہے کہ پاکستانی بمباری میں آٹھ سویلین بشمول خواتین اور بچے مارے گئے ہیں۔

شیئر: