Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

تفریح کےلیے آنے والا سعودی جوڑا خیمے میں دَم گھٹنے سے ہلاک

بند جگہوں میں کوئلہ یا لکڑی جلانا انتہائی خطرناک ثابت ہوتا ہے۔ (فوٹو العربیہ نیٹ)
 سعودی عرب کے شہر القریات میں ایک المناک واقعے نے اہل قریہ کو ہلا کر رکھ دیا۔ بیابان مقام پر نصب خیمے میں سعودی جوڑے کی نعشیں برآمد ہوئیں۔
جوڑے نے سردی سے محفوظ رہنے کے لیے خیمے میں کوئلے جلائے مگر دھواں نکلنے کے تمام راستے بند کردیے۔ زہریلی گیس خیمے میں بھر جانے سے دم گھنٹے سے دونوں ہلاک ہوگئے۔
العربیہ نیٹ کے مطابق قبلان الشراری اپنی اہلیہ کے ہمراہ قدرت کے نظاروں سے لطف اندوز ہونے اور ٹرفل جمع کرنے کے لیے بذریعہ سڑک سفر کا فیصلہ کیا۔ 400 کلو میٹر  دور سکاکا شہر کے مشرق کا سفر طے کیا جو ان کی زندگی کا آخری سفر ثابت ہوا۔
ذرائع کا کہنا ہے یہ جوڑا اپنے خیمے میں مردہ پایا گیا۔  رات کو سونے سے قبل خیمے میں کوئلے جلائے تھے۔
 اس واقعے کے حوالے سے جنرل ڈائریکٹوریٹ آف سول ڈیفنس کا کہنا ہے حفاظتی تقاضوں کو مدنظر رکھے بغیر بند جگہوں میں کوئلہ یا لکڑی جلانا انتہائی خطرناک ثابت ہوتا ہے۔
 سول ڈیفنس نے خبردار کیا کہ کوئلے کے جلنے سے پیدا ہونے والی کاربن مونو آکسائڈ گیس بے رنگ، بے ذائقہ اور بدبودار ہوتی ہے جو ایک خاموش خطرہ بن جاتی ہے۔ اس سے چند منٹوں میں انسان ہوش کھو دیتا ہے اور یہی گیس اس کی موت کا سبب بن جاتی ہے۔
سول ڈیفنس کا مزید کہنا تھا حفاظتی  ذرائع سے لیس الیکٹرک اور گیس ہیٹرز استعمال کیے جائیں جو جدید اور محفوظ ہیں اور یہ جان و مال کے تحفظ کو یقینی بناتے ہیں۔

 

شیئر: