سعودی عرب کے شہر القریات میں ایک المناک واقعے نے اہل قریہ کو ہلا کر رکھ دیا۔ بیابان مقام پر نصب خیمے میں سعودی جوڑے کی نعشیں برآمد ہوئیں۔
جوڑے نے سردی سے محفوظ رہنے کے لیے خیمے میں کوئلے جلائے مگر دھواں نکلنے کے تمام راستے بند کردیے۔ زہریلی گیس خیمے میں بھر جانے سے دم گھنٹے سے دونوں ہلاک ہوگئے۔
العربیہ نیٹ کے مطابق قبلان الشراری اپنی اہلیہ کے ہمراہ قدرت کے نظاروں سے لطف اندوز ہونے اور ٹرفل جمع کرنے کے لیے بذریعہ سڑک سفر کا فیصلہ کیا۔ 400 کلو میٹر دور سکاکا شہر کے مشرق کا سفر طے کیا جو ان کی زندگی کا آخری سفر ثابت ہوا۔
ذرائع کا کہنا ہے یہ جوڑا اپنے خیمے میں مردہ پایا گیا۔ رات کو سونے سے قبل خیمے میں کوئلے جلائے تھے۔
مزید پڑھیں
-
مملکت کے صحرائی علاقے میں پائی جانے والی موسم سرما کی خاص سوغاتNode ID: 640031
-
بند کمرے میں کوئلہ جلانے میں احتیاط کی جائے: سعودی صحت کونسلNode ID: 732501
-
سعودی عرب کے شمالی علاقے میں ’کھمبیوں‘ کی تلاش کا دلچسپ مشغلہNode ID: 884992
اس واقعے کے حوالے سے جنرل ڈائریکٹوریٹ آف سول ڈیفنس کا کہنا ہے حفاظتی تقاضوں کو مدنظر رکھے بغیر بند جگہوں میں کوئلہ یا لکڑی جلانا انتہائی خطرناک ثابت ہوتا ہے۔
سول ڈیفنس نے خبردار کیا کہ کوئلے کے جلنے سے پیدا ہونے والی کاربن مونو آکسائڈ گیس بے رنگ، بے ذائقہ اور بدبودار ہوتی ہے جو ایک خاموش خطرہ بن جاتی ہے۔ اس سے چند منٹوں میں انسان ہوش کھو دیتا ہے اور یہی گیس اس کی موت کا سبب بن جاتی ہے۔
سول ڈیفنس کا مزید کہنا تھا حفاظتی ذرائع سے لیس الیکٹرک اور گیس ہیٹرز استعمال کیے جائیں جو جدید اور محفوظ ہیں اور یہ جان و مال کے تحفظ کو یقینی بناتے ہیں۔