Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

بارش اور برفباری کا سلسلہ جاری، شاہراہِ قراقرم پر ٹریفک کئی گھنٹوں سے معطل

ملک کے بیشتر حصوں میں گزشتہ 24 گھنٹوں سے بارشوں کا نیا سلسلہ جاری ہے، برفباری اور لینڈ سلائیڈنگ کی وجہ سے شاہراہ قراقرم پر ٹریفک معطل ہے جبکہ صوبہ خیبرپختوںخوا میں جانی نقصان کی بھی اطلاعات ہیں۔
محکمہ موسمیات کے مطابق مغربی ہواؤں کی طاقتور لہر ملک کے بیشتر حصوں کو متاثر کر رہی ہے جو دو دنوں تک بالائی علاقوں میں موجود رہ سکتی ہے۔
صوبہ خیبرپختونخوا میں گھروں کی چھت گرنے کے واقعات میں دو افراد ہلاک جبکہ چھ زخمی ہوئے ہیں۔
خیبرپختونخوا کے ضلع کرک میں گزشتہ رات گھر کی چھت منہدم ہونے کی وجہ سے 2 بچے ہلاک جبکہ گھر کے 2 افراد زخمی ہوئے۔ ریسکیو ترجمان کے مطابق پشاور کوہاٹ روڈ میں گھر کی دیوار گرنے سے 4 افراد ملبے تلے دب گئے تھے تاہم ریسکیو آپریشن کر کے سب کو بحفاظت نکالا گیا ہے۔
پہاڑوں پر برفباری کا سلسلہ جاری، شاہراہیں بند
بارشوں اور لینڈ سلائیڈنگ کی وجہ سے بالائی علاقوں میں مختلف شاہراہیں بھی ٹریفک کے لیے بند ہیں۔ 
مقامی پولیس کے مطابق کوہستان داسو کےمقام پر لینڈ سلائیڈنگ کی وجہ سے گلگت بلتستان جانے والی شاہراہ قراقرم پر ٹریفک گزشتہ رات سے معطل ہے۔ تین مقامات پر گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگی ہوئی ہیں تاہم روڈ کو صاف کرنے کے لیے مشینیں موقع پرموجود ہیں۔
دوسری جانب بالائی علاقوں میں برفباری کی وجہ سے کچھ مقامات کے زمینی راستے منقطع ہو چکے ہیں۔ اپر چترال تورکہو میں لینڈ سلائڈنگ کی وجہ سے بونی کا راستہ بند ہے جبکہ تریچ اور موڑکہو کے کچھ علاقوں میں آمد و رفت معطل ہے۔

لینڈ سلائیڈنگ کی وجہ سے شاہراہ قراقرم پر ٹریفک کئی گھنٹوں سے معطل ہے۔ فوٹو: بشکریہ عبدالرزاق

صوبہ خیبر پختونخوا کے سیاحتی مقامات کالام اور مالم جبہ میں بھی برفباری کے بعد راستے بند ہیں۔ انتظامیہ کے مطابق سیاحوں کی آمد و رفت میں آسانی کے لیے سنو چین اور مشینری روڈ پرموجود ہے جبکہ ٹوارزم پولیس کے اہلکار بھی تعینات ہیں۔
گزشتہ 24 گھنٹوں میں سب سے زیادہ برفباری کالام میں 16 انچ برف ریکارڈ کی گئی ہے جبکہ دوسرے نمبر پر ضلع چترال میں 6 انچ برف پڑی ہے۔
پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں بھی دو روز سے مسلسل بارش جاری ہے اور پہاڑوں پر بھی برفباری ہو رہی ہے۔
بالائی وادی نیلم، وادی گریس، وادی لیپہ کرناہ، میں برفباری ہوئی ہے جبکہ مظفرآباد کے نواحی پہاڑوں مکڑا، پیر چناسی، پیر ہسی مار اور پیر چیلہ برف سے ڈھک گئے ہیں۔
مرکزی پولیس کنٹرول روم مظفر آباد کے مطابق پنجال گلی، شیڑ گلی، وادی لیپہ برفباری کے باعث بند ہیں جبکہ سدھن گلی، لسڈنہ، شیرو ڈھارا، محمود گلی میں برفباری جاری ہے تاہم ہلکی ٹریفک کے لیے روڈ کھلی ہوئی ہے اور برف ہٹانے کا کام جاری ہے۔
مظفرآباد میں کہیں کہیں رابطہ سڑکوں پر مٹی کے تودے گرنے کی بھی اطلاعات ہیں۔
محکمہ موسمیات کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں میں اپر دیر میں 61 ملی لیٹربارش ہوئی جبکہ تیمرگرہ میں 48، سیدو شریف 40 اور پشاور میں 35 ملی لیٹر بارش ریکارڈ کی گئی ہے۔ سب سے کم درجہ حرارت منفی 5 سینٹی گریڈ پاڑس چنار میں ریکارڈ کیا گیا۔
محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ آئندہ چوبیس گھنٹوں میں مزید بارش اور برفباری کا امکان ہے۔
حکام نے سیاحوں کو سفر کے دوران احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کی ہے۔
بارشوں اور تیز ہواؤں سے بجلی کی ترسیل متاثر

بالائی علاقوں میں برفباری سے چند مقامات کو ٹریفک کے لیے بند کیا گیا ہے۔ فوٹو: اے ایف پی

بارش کے باعث صوبہ بلوچستان اور خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں سمیت سیاحتی علاقے مری میں بھی کئی گھنٹوں سے بجلی کا نظام متاثر ہے۔
صوبہ خیبر پختونخوا میں بھی گزشتہ روز سے جاری بارش کے باعث پشاور ریجن کے 71 فیڈر سے بجلی کی ترسیل متاثر ہے۔
ترجمان پیسکو کا کہنا ہے کہ پشاور میں 19، بنوں میں 15، ضلع خیبر میں 17 اور ڈیرہ اسماعیل خان سرکل میں 12 فیڈرز سے بجلی کی ترسیل متاثر ہے جبکہ دیگر سرکلز میں بھی بیشتر فیڈرز ٹرپ ہوئے ہیں۔
ترجمان کے مطابق متعدد علاقوں کو متبادل روٹ سے بجلی فراہم کر دی گئی ہے اور بارش کی کمی کے ساتھ ہی بجلی کی بحالی کا عمل شروع کر دیا جائے گا۔
صوبہ خیبر پختونخوا کے علاقے کالام اور مالم جبہ میں برف باری کی وجہ سے روڈ  ٹریفک کے لیے بند ہے جبکہ اپر دیر اور چترال میں برف ہٹانے کا عمل شروع ہو گیا ہے۔ 
صوبہ بلوچستان کے شہر کوئٹہ میں تیز ہواؤں کے باعث متعدد فیڈر ٹرپ کر گئے ہیں اور بجلی کی فراہمی متاثر ہے۔
صوبہ بلوچستان کے مختلف علاقوں میں بھی بارش کا سلسلہ وقفے وقفے سے جاری ہے- گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران کوئٹہ، مستونگ، پشین، زیارت، چمن، قلعہ عبداللہ، قلعہ سیف اللہ، خضدار، قلات، موسی خیل، بارکھان اور دیگر اضلاع میں بارش ہوئی ہے- اس دوران تیز ہوائیں چلنے سے موسم سرد ہو گیا ہے-
محکمہ موسمیات کے مطابق مجموعی طور پر خیبر پختونخوا، کشمیر، گلگت بلتستان، بالائی/وسطی پنجاب، اسلام آباد اور شمالی بلوچستان میں تیز ہواؤں یا آندھی اور گرج چمک کے ساتھ وقفے وقفے سے بارش اور پہاڑوں پر برفباری جبکہ چند مقامات پر ژالہ باری کی توقع ہے۔ اس دوران بالائی خیبرپختونخوا اور کشمیر میں بعض مقامات پر موسلادھار بارش اور شدید برفباری کا امکان بھی ہے۔    

بارش اور برفباری کے بعد ملک کے یبشتر حصوں میں موسم سرد ہو گیا ہے۔ فوٹو: اے ایف پی

آج بدھ کو ریکارڈ کیے گئے کم سے کم درجہ حرارت کے مطابق پاڑہ چنار میں منفی 5، لہہ میں منفی 3، گوپس میں منفی 2، کلام، مالم جبہ اور سکردومیں منفی 1 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

 

شیئر: