ملک کی سیاسی صورتحال ہو یا کوئی سماجی معاملہ، اپنی رائے اکے اظہار کے لیے سوشل میڈیا کا سہارا لیا جاتا ہے۔ کوئی بھی مسئلہ ہو سوشل میڈیا پر بھرپور مہم چلا کر ہزاروں لوگوں کو آسانی کے ساتھ اپنی رائے سے ہم آہنگ کرلیا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سوشل میڈیا پرآئے روز ہی کسی نہ کسی موضوع پر بحث چھڑی ہوتی ہے جس پر صارفین تبصرے کر رہے ہوتے ہیں.
پنجاب میں تحریک انصاف حکومت کی جانب سے نون لیگ کے رہنما اسحاق ڈار کے گھر ہجویری ہاؤس کو نیلام کرنے کی کوشش میں ناکامی کے بعد مستحق افراد کے لیے پناہ گاہ میں تبدیل کیا گیا تو سوشل میڈیا صارفین بھلا کیسے خاموش رہ سکتے تھے۔
مزید پڑھیں
-
چینی صدر مسجد میں، اصل معاملہ کیا ہے؟Node ID: 457226
-
’جان نکلے تو انسان زندہ نہیں رہتا‘Node ID: 457381
-
’ہزار شکایات مگر یہاں میں خاموش ہو گئی‘Node ID: 457446
پی ٹی آئی کے حامیوں نے اسے حکومت کا ’بہترین اقدام‘ قرار دیا تو حکومت کے ناقدین نے اسے تنقید کا نشانہ بنایا۔ بعض صارفین یہ بحث کرتے دکھائی دیے کہ ہجویری ہاؤس یا بنی گالہ میں سے کون سی جگہ پناہ گاہ کے طور پر زیادہ بہتر رہے گی۔
عامر لغاری نامی صارف نے حکومتی اقدام کو سیاسی انتقام قرار دیتے ہوئے لکھا کہ مکافات عمل کے لیے نیازی صاحب بھی تیار رہیں۔ کسی دن کسی نے بنی گالہ محل کو اصطبل بنا دیا تو پھر گلہ نہ کریں۔
سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے گھر کو پناہ گاہ بناکر عمران نیازی سیاسی انتقام کا نشانہ بنا رہا ہے
مکافات عمل کے لئے نیازی صاحب بھی تیار رہیں کسی دن کسی نے بنی گالا محل کو اصطبل بنادیا تو پھر گلہ نہ کریں اقتدار اور حالات تبدیل ہوتے رہتے ہیں pic.twitter.com/LS2EeV8QV5— Muhammad Amir Leghari (@mamir6544) February 8, 2020
رکن قومی اسمبلی مائزہ حمید گجر نےوزیراعظم عمران خان کی ذاتی رہائش گاہ بنی گالہ کو پناہ گاہ کے فوائد گنوا دیے۔ انہوں نے لکھا کہ ’اگر اسے پناہ گاہ بنایا جائے تو وفاقی دارالحکومت کی ساری کچی آبادی کے غریبوں کو سر چھپانے کی جگہ مل جائے گی۔‘
"
اسحاق ڈار کے 4 کنال کے آبائی گھر کو پناہ گاہ بنا کر بغلیں بجانے والوں کو کوئی بتائے کہ عمران خان کے 300 کنال کے غیر قانونی محل کو پناہ گاہ بنایا جائے تو وفاق کی ساری کچی آبادی کے غریبوں کو سر چھپانے کی جگہ مل جائے گی "— Maiza Hameed Gujjar (@MaizaHameed) February 7, 2020
صابر محمود ہاشمی نامی صارف نے چٹکلہ چھوڑا کہ ’رہائش گاہ کو پناہ گاہ میں تبدیل کرتے ہی پیٹرول 46 روپے لیٹر، آٹا 35، گھی 120 روپے کلو، گیس بجلی ادویات کی قیمتوں میں حیرت انگیز طور پر کمی ہوئی اور ڈالر110 روپے جبکہ سٹاک مارکیٹ 55 ہزارپوائنٹس کے ساتھ دنیا کی چوتھی بڑی مارکیٹ بن گئی۔‘
اسحاق ڈار کی رہائش گاہ کو پناہ گاہ میں تبدیل کرتے ہی پیٹرول 46 لیٹر آٹا 35 گھی 120 روپے کلوگیس بجلی ادویات کی قیمتوں میں حیرت انگیز طور پر کمی ہوئی ڈالر110روپے اسٹاک مارکیٹ 55 ہزارپوائنٹس کے ساتھ دنیا کی چوتھی بڑی مارکیٹ بن گئی گڈ گورننس کےساتھ بہترین انفراسٹرکچر دیکھنے کوملے گا
— M.Sabir Mehmood Hashmi (@SabirMehmood26) February 8, 2020
اسحاق ڈار کے بیٹے سے منسوب ٹوئٹر ہینڈل نے پناہ گاہ بنائے جانے کے اقدام کو غیرقانونی قرار دیا۔ انہوں نے لکھا کہ ’یہ گھر اسحاق ڈار صاحب نے سیاست میں آنے سے پہلے 1988 میں لیا تھا۔‘
جوکر بھی ہجویری ہاؤس کو پناہ گاہ بنائے جانے پر ہونے والی بحث کا حصہ بنا۔ یہ جوکر ہالی وڈ فلم کا کردار نہیں بلکہ ٹوئٹر ہینڈل ہے۔ خبر کی تفصیل شیئر کرتے ہوئے انہوں نے گلبرگ لاہور کے گھر کو ماضی میں اسحاق ڈار اور اب غریب افراد کے ہاتھوں استعمال ہونے پر بات کی۔
وفاقی وزیر مراد سعید اور علی حیدر زیدی نے اپنی ٹویٹ میں حکومت کے اس اقدام کو سراہا۔ علی حیدر زیدی نے اسے ’سال کی سب سے اچھی خبر‘ قرار دیا تھا۔
عنبرین فاطمہ نامی ٹوئٹر صارف نے تو وفاقی وزرا کو اس اقدام کی حمایت کرنے پر کھری کھری سنادیں۔ انہوں نے لکھا کہ ’ بنی گالہ محل اتنا بڑا ہے وہاں تھوڑی سی جگہ غریبوں کے لیے کیوں مختص نہیں کی جا سکتی؟‘
اسحاق ڈار کی جانب سے سامنے آنے والے ایک ویڈیو پیغام میں حکومتی اقدام کو توہین عدالت کہا گیا ہے۔ ان کے مطابق گھر کی نیلامی میں ناکامی کے بعد وزیراعظم اور پنجاب حکومت کے گٹھ جوڑ سے ہونے والا یہ اقدام اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کے منافی ہے۔
جب یہ میری رہائشگاہ کی نیلامی میں ناکام ہوئے تو عمران نیازی اور پنجاب حکومت کے گٹھ جوڑ نے میری رہائشگاہ کو بے گھر لوگوں کے لیے پناہ گاہ بنادیا ہے اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلے کے بعد انکا یہ اقدام توہین عدالت ہے.@MIshaqDar50 pic.twitter.com/BExPGCn7zN
— PML(N) (@pmln_org) February 8, 2020
-
واٹس ایپ پر پاکستان کی خبروں کے لیے ’اردو نیوز‘ گروپ جوائن کریں