بو اور ذائقے کی حِس ختم ہو جائے تو کیا کریں؟
بو اور ذائقہ کے نقصان کا علاج اس وجہ کا تعین کرنے پر منحصر ہوتا ہے۔ فوٹو: فری پک
سونگھنے کی صلاحیت کا احساس انسان کواس وقت ہوتا ہے جب یہ اس سے چھن جاتی ہے، اس سے پہلے اکثر لوگ اس کی اہمیت سے ناواقف ہوتے ہیں۔ سونگھنے کی صلاحیت کم ہونے کا اثر ہماری قوت ذائقہ پر بھی پڑتا ہے۔ یہ خرابی پیدا ہو جائے تو انسان کسی چیز کا ذائقہ چکھنے اور اس کی خوشبو سونگھنے میں شدید مشکلات کا سامنا کرتا ہے۔
سیدتی ڈاٹ نیٹ نے بو اور ذائقہ کی صلاحیت میں کمی کے اسباب اور ان کے علاج کے بارے میں ماہر کان، ناک، گلہ ڈاکٹر سبا جرار کے تجویز کردہ نکات پیش کیے ہیں:
بو اور ذائقہ کے احساس سے محروم ہونے کی وجوہات
بو اور ذائقہ کا احساس کھونے کی بہت ساری وجوہات ہیں ،یہ کبھی عارضی اور کم ہوتی ہیں اور بعض اوقات مستقل بھی ہوسکتی ہیں ، ان میں سب سے نمایاں یہ ہیں:
- ناک اور اوپری سانس کی نالی میں انفیکشن جیسے زکام اورنزلہ وغیرہ۔
-ناک کی جلد کا حساس ہونا یہ بو کے احساس کو کھو جانے کا سبب بن سکتا ہے ، لیکن عام طور پر یہ عارضی ہوتا ہے۔
- ایئر بیگز میں شدید اور بار بار انفیکشن ہونا۔
- ناک کے پردہ کا جگہ سے ہٹنا۔
- ناک کے اندر پولپس یا ٹیومر کی موجودگی۔
- بعض اوقات ذائقہ اور قوت شامہ کا احساس کم ہونے کی وجوہات میں دماغی اعصاب کے مسائل بھی وجہ بنتے ہیں، اسی طرح دیگر کچھ بیماریاں بھی ان کو متاثر کرنے کا باعث بنتی ہیں جیسےگردوں کی بیماریاں، جگر کے امراض ، نیز کچھ ایسی دوائیں جن کے منفی اثرات ہوسکتے ہیں اس سےبھی ذائقہ اور بو کا احساس کم ہوجاتا ہے، اس کے ساتھ کورونا وائرس یا کوویڈ 19 کو بھی فراموش نہیں کیا جاسکتا وہ بھی اس کی بڑی وجہ بن سکتا ہے۔
بو اور ذائقہ کے احساس کم ہونے کا علاج
بو اور ذائقہ کے نقصان کا علاج اس وجہ کا تعین کرنے پر منحصر ہوتا ہے، اور اگر وجہ ناک سے متعلق ہو جیسے الرجی اور انفیکشن وغیرہ تو اس کا علاج کارٹیسون سپرے یا ناک واش کرنے سے کیا جاتا ہے اس سے سونگھنے کی قوت بہتر ہونے میں مدد ملتی ہے۔
اگر کسی کے ناک کے پردے میں مسئلہ ہو یا اضافی گوشت وغیرہ بڑھ جائے تو اس کا علاج آپریشن ہوتا ہے۔ لیکن اگر اس کا سبب ولفریٹری اعصاب یا دماغ سے منسلک ہوتو اس کا علاج کورٹیسون حاصل کر کے کیا جاتا ہے۔
اگر کوئی سونگھنے کی قوت سے پیدائشی محروم ہوتوسائنسی تحقیق کے مطابق اس بیماری کو ٹھیک نہیں کیا جا سکتا۔
بو اور ذائقہ کے احساس سے محروم ہونے کے نقصانات
اس بیماری کا شکار افراد کھانے میں کم دلچسپی لیتے ہیں، جس کی وجہ سے غذائیت اور وزن میں کمی واقع ہو سکتی ہے۔
ایسے افراد کو یقینی بنانا چاہیے کہ ان کے گھروں میں دھواں کے الارم موجود ہونے چاہیے جو انہیں دھواں ہونے کی صورت میں اطلاع دیں، اسی طرح کھانا ذخیرہ کرنے اور قدرتی گیس کا استعمال کرتے وقت انہیں محتاط رہنا چاہئے۔ کیونکہ انھیں خراب کھانے اور گیس لیک کا پتہ نہیں چلے گا۔