پاکستان کی سپریم کورٹ نے سینیٹ انتخابات کے حوالے سے صدارتی ریفرنس پر اپنی رائے میں جہاں حکومت کی طرف سے پوچھے گئے آئینی سوال کا جواب دیا ہے وہیں الیکشن کمیشن آف پاکستان کو کئی ایک ذمہ داریوں کے بارے میں بھی آگاہی دی ہے۔
ان ذمہ داریوں میں الیکشنز کے شفاف انعقاد کو یقینی بنانا، کرپٹ پریکٹسز کو روکنا، آئین میں دیے گئے اختیارات کو بروئے کار لاکر اداروں اور اتھارٹیز سے کام لینا اور شفاف انتخابات کے انعقاد کے لیے جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کی تجویز بھی شامل ہے۔
سینیٹ الیکشن آئین کے تحت ہوں گے، بیلٹ پیپر کا خفیہ ہونا حتمی نہیں: سپریم کورٹ
سپریم کورٹ نے اپنی رائے میں الیکشن کمیشن کے کردار کے حوالے سے آئین کے تین آرٹیکلز کا حوالہ دیا ہے۔ ان میں آرٹیکل 218 (3) آرٹیکل 220 اور آرٹیکل 222 شامل ہیں۔
مزید پڑھیں
-
’الیکشن کمیشن شفافیت کے لیے بیلٹ پر بار کوڈ کا استعمال کرے‘Node ID: 545191
آئین کے آرٹیکل 218 (3) کہتا ہے کہ ’الیکشن کمیشن کا فرض ہے کہ وہ انتخاب کا انتظام اور انعقاد کروائے اور ایسے انتظامات کرے کہ جو اس امر کے اطمینان کے لیے ضروری ہوں کہ انتخابات ایمانداری، شفافیت اور انصاف کے ساتھ اور قانون کے مطابق منعقد ہوں اور یہ کہ بدعنوانیوں کا سدباب ہو۔‘
آرٹیکل 220 وفاقی و صوبائی حکومتوں، اداروں اور اتھارٹیز کو پابند کرتا ہے کہ وہ الیکشن کمیشن کے احکامات پر عمل کریں۔
’وفاق اور صوبوں کے تمام حکام عاملہ کا فرض ہوگا کہ وہ کمشنر اور الیکشن کمیشن کو ان کے کار ہائے منصبی کی ادائیگی میں مدد دیں۔‘
اسی طرح آرٹیکل 222 میں پارلیمان کو پابند کیا گیا ہے کہ وہ انتخابات کے حوالے سے اسمبلیوں کی نشستوں، حلقہ بندیوں، انتخابی فہرستوں، انتخابی تصفیوں اور بدعنوانیوں اور انتظامات کے تناظر میں کوئی بھی قانون سازی کر سکتی ہے۔ تاہم اس طرح کی قانون سازی کرتے وقت وہ کمشنر یا الیکشن کمیشن کے اختیارات یا اختیار کو کم یا سلب نہیں کر سکتی۔

سپریم کورٹ کی جانب سے الیکشن کمیشن کے کردار کے حوالے سے آنے والی اہم تجاویز اور آرا پر سابق سیکرٹری الیکشن کمیشن کنور دلشاد نے اردو نیوز سے گفتگو میں کہا کہ ’الیکشن کمیشن کی ذمہ داریوں میں کوئی اضافہ نہیں ہوا، تاہم اپنی رائے کے ذریعے سپریم کورٹ نے الیکشن کو مزید مضبوط اور فعال کر دیا ہے۔ سپریم کورٹ نے ریفرنس کی سماعت کے دوران جب چیف الیکشن کمشنر کو بلایا اور شفافیت کے حوالے سے ہدایات دیں تو این اے 75 کا جرات مندانہ فیصلہ سامنے آیا۔‘
ان کا کہنا ہے کہ ’ظاہر ہوتا ہے کہ سپریم کورٹ الیکشن کمیشن کی پشت پر کھڑی ہے۔ اب الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے کہ وہ خدشات کو نہ دیکھے بلکہ اداروں کی بالادستی کے لیے آئین و قانون کی روشنی میں اقدامات کرے۔‘
کنور دلشاد نے کہا کہ ’سپریم کورٹ نے انتخابات کی شفافیت کے لیے ٹیکنالوجی کے استعمال کا جو مشورہ دیا اس کے لیے الیکشن کمیشن کی اجتماعی دانش فیصلہ کرے گی کہ وہ اس طرف جانا چاہیں گے۔ الیکشن کمیشن نادرا، آئی ٹی کی وزارت یا ایف آئی اے سے مدد لے سکتا ہے۔ ماضی میں بیلٹ کا جائزہ لیا جاتا رہا ہے، اب بھی ضرورت پڑنے پر جائزہ لیا جائے گا۔ ووٹر کی شناخت کے حوالے سے ابھی کچھ طے نہیں کیا جا سکتا۔ صدارتی آرڈیننس تحلیل ہونے کے بعد انتخابات آئین کے آرٹیکل 226 کے تحت ہی ہوں گے اور خفیہ ہی ہوں گے۔‘
