Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

’گھر کے بھیدی سے پرفیوم کی آفر‘، سعد رفیق اور فواد چوہدری کی گپ شپ وائرل

اجلاس کے دوران وقفے میں حکومتی و اپوزیشن ارکان کی ملاقاتوں کا سلسلہ جاری رہا (فوٹو: ویڈیو گریب)
سپریم کورٹ کے حکم پر ہونے والے قومی اسمبلی کے اجلاس میں جہاں حکومت و اپوزیشن کے درمیان تلخی دکھائی دی وہیں وفاقی وزیر فواد چوہدری اور مسلم لیگ ن کے رکن اسمبلی سعد رفیق کی گپ شپ کی ایک ویڈیو بھی خاصی وائرل ہے۔
دونوں مخالف رہنماؤں کی ملاقات کی ویڈیو پر تبصرہ کرنے والے صارفین کی خاصی تعداد نے اس ’گپ شپ‘ کو سراہا۔ کچھ کو یہ جاننے میں دلچسپی رہی کہ آخر بات کیا ہو رہی ہے۔
بظاہر قومی اسمبلی کے ایوان کے اندر پریس گیلری سے بنائی گئی ویڈیو میں چونکہ آواز شامل نہیں تھی، اس لیے یہ تو واضح نہ ہو سکا کہ دونوں کیا گفتگو کر رہے ہیں، البتہ اندازے قائم کرنے والے کسی سے پیچھے نہ رہے۔
ان اندازوں میں جہاں فوکس سیاست پر رہا وہیں مزاحیہ تبصروں اور میمز شیئر کیے جانے کا سلسلہ بھی پوری طرح فعال رہا۔
سیاسی مخالفین کا یہ انداز کچھ دیکھنے والوں کو اچھا لگا تو اسے خوبصورت‘ کہا۔ کسی کو شرارت سوجھی تو ’گھر کا بھیدی‘ کہہ ڈالا۔
بلا نامی ہینڈل نے ویڈیو کا سکرین شاٹ شیئر کرتے ہوئے کیپشن سجایا کہ ’فرح سے کہتا ہوں آپ کے لیے دبئی سے پرفیوم بھیجے۔‘

اصغر بٹ نے لکھا کہ فواد چوہدری ’بٹ کی کچوریاں زائد منگوانے‘ کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

اسمبلی اجلاس کے دوران وقفے میں پی ٹی آئی رہنما شفقت محمود بھی فواد چوہدری اور خواجہ سعد رفیق کی ملاقات میں شامل ہوئے تو یہ مناظر بھی سوشل ٹائم لائنز سے اوجھل نہ رہ سکے۔
مسلم لیگ ن کے رہنما خواجہ سعد رفیق اور فواد چوہدری، شفقت محمود کی تصاویر اور ویڈیوز شیئر کرنے والوں نے ایک اور منظر بھی ٹائم لائنز پر شیئر کیا جس میں سعد رفیق پی ٹی آئی رہنما اسد عمر سے ملاقات کرتے دکھائی دیے۔
سعد رفیق اور فواد چوہدری کی ملاقات کے ساتھ ساتھ ایوان میں ہونے والی دیگر سرگرمیاں بھی سوشل ٹائم لائنز پر شیئر کی جاتی رہیں۔
پیپلزپارٹی رہنما قاسم گیلانی سمیت بہت سے ٹویپس نے قومی اسمبلی میں مہمانوں کی گیلری سے لی گئی ایک تصویر شئیر کی۔ جس میں ایک ٹینس بال پر اردو میں ’آخری‘ لکھا دکھایا گیا ہے۔

پی ٹی آئی کے منحرف رکن نور عالم خان نے حکمراں جماعت کے ارکان اسمبلی کو ویڈیو میں دکھایا تو ان کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ’گھبرانا نہیں۔‘
سپیکر کی جانب سے ساڑھے 12 بجے تک ملتوی کیا گیا اجلاس کئی گھنٹے بعد بھی شروع نہ ہو سکا، اس دوران ارکان اسمبلی گپ شپ تک ہی محدود نہ رہے بلکہ کئی موقع دیکھ کر اپنی نیند پوری کرتے رہے۔

شیئر: