Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

ڈیزائن میں خرابی، جادو یا کچھ اور، ’پیسا ٹاور‘ کی حقیقت کیا ہے؟  

ٹاور کی تعمیر 1173 کو شروع ہوئی، اس کی آٹھ منزلیں ہیں اور 294 سیڑھیاں ہیں: فوٹو فری پکس
’جب اس کی تعمیر شروع ہوئی تو کوہ قاف کے دیوؤں نے اسے چُرانے کی منصوبہ بندی کی اور ایک رات پہنچ کر عمارت کو اٹھا لیا تاہم ایک دربان جو عمارت کے اندر موجود تھا، نے مشعل جلائی تو دیو ڈر کر بھاگتے ہوئے جلدی میں واپس رکھ گئے، اس لیے یہ عمارت آج بھی ٹیڑھی ہے۔‘
یہ واقعہ بچپن میں دور پرے کے ایک انکل نے اس وقت سنایا تھا جب ٹی وی پر ایک ایسی گول عمارت دکھائی جا رہی تھی جسے دیکھ کر لگتا تھا کہ ایک طرف کو جھکی ہوئی ہے اور گرنے والی ہے۔
اس کے بعد کئی سال تک یہ کہانی ذہن میں تازہ رہی تاوقتیکہ سچائی کا علم نہیں ہو گیا۔
ذکر ہو رہا ہے اٹلی کی اس بلندوبالا عمارت کا جس پر پراسراریت کے بادل تاحال موجود ہیں۔ اس کا نام سنتے ہی پہلا خیال ذہن میں ’پیسے‘ کا آتا ہے اور دوسرا کچھ نیا کر دکھانے کے لیے کوشاں کسی انجینیئر کی اختراع کا، اس کے بعد کچھ دیومالائی داستانیں بھی دامن تھامنے کی کوشش کرتی ہیں لیکن یہ معاملہ ہے کیا، آئیے دیکھتے ہیں۔
ایک عجوبہ سمجھی جانے والی یہ عمارت ویسی ہی ہوتی جیسی تعمیر کرنے کی منصوبہ بندی کی گئی تھی تو شاید گمنام ہوتی دیگر بے شمار عمارتوں کی طرح۔ تاہم ذرا سا ’جھکاؤ‘ ہی اس کی شہرت کا باعث بنا اور آج اسی کو دیکھنے کے لیے ہر سال لاکھوں سیاح اٹلی کا رخ کرتے ہیں۔
یہ دارالحکومت روم سے 400 کلومیٹر دور پیسا شہر، جسے پیزو یا پیزہ بھی کہا جاتا ہے، میں واقع ہے جو کہ 12ویں صدی میں تعمیر ہونے والے چرچ کی عمارت کا حصہ ہے یہ دراصل ایک گھنٹہ گھر تھا جس کو چرچ کی عمارت کے ڈیزائن میں ہی تعمیر کیا جا رہا تھا۔
اس کی تعمیر آٹھ اگست 1173 کو شروع ہوئی، اس کی آٹھ منزلیں ہیں اور 294 سیڑھیاں ہیں۔ یہ جھکی ہوئی جانب سے 183 اعشاریہ تین فٹ جبکہ دوسری جانب سے 186 اعشاریہ دو فٹ بلند ہے۔
اس میں ابھی تک وہ پرانی گھنٹیاں موجود ہیں جو تعمیر کے وقت لگائی گئی تھیں تاہم اب وہ استعمال نہیں کی جاتیں۔
نامعلوم آرکیٹکٹ
ٹاور کی افیشل ویب سائٹ ’ٹاور آف پیسا ڈاٹ او آر جی‘ پر دی گئی معلومات کے مطابق عمارت میں نیچے کی منزل کے چاروں طرف سنگ مر مر سے 15 محراب بنائے گئے ہیں جبکہ اوپر کی چھ منزلوں میں 30 محراب موجود ہیں۔
سب سے اوپری منزل پر دیوہیکل گھنٹہ نصب ہے۔
1920 میں عمارت کی بنیادوں میں سیمنٹ اور کچھ دوسرا مواد ڈالا گیا تھا جس کی بدولت اس کی حالت میں بہتری آئی تھی۔
ویب سائٹ پر اگرچہ ٹاور کے حوالے سے دیگر تمام معلومات موجود ہیں تاہم اس کے آرکیٹکٹ کا نام یہ کہتے ہوئے ظاہر نہیں کیا گیا کہ وہ کسی کو نہیں معلوم۔
دو صدیاں اور جھکاؤ

1920 میں عمارت کی بنیادوں میں سیمنٹ اور کچھ دوسرا مواد ڈالا گیا تھا جس کی بدولت اس کی حالت میں بہتری آئی تھی: فوٹو اے ایف پی

رومن فن تعمیر کا شاہکار سمجھے جانے والے ٹاور کو مکمل ہونے میں دو صدیاں لگیں، اس کی وجہ یہ تھی کہ ہر کچھ عرصے بعد کوئی نہ کوئی مسئلہ سر اٹھا لیتا جن میں دو جنگیں بھی شامل تھیں۔
جب اس کی تین منزلیں مکمل ہوئیں تو تعمیراتی ٹیم کو احساس ہوا کہ عمارت ایک جانب کو جھک رہی ہے۔ فوری طور پر اس کو محفوظ کرنے کا انتظام کیا گیا اور معلوم کرنے کی کوشش کی گئی کہ اس کی وجہ کیا ہے۔ پتہ چلا کہ جس جگہ عمارت کی بنیاد رکھی گئی تھی اس کے نیچے کچھ مٹی نرم ہے جس کی وجہ سے بنیاد دھنس رہی ہے۔
یہ نکتہ سامنے آتے ہی کام روک دیا گیا جو ایک نہیں دو نہیں بلکہ 100 سال تک رکا رہا اور اس کی وجہ وہ خیال تھا جو بعض ماہرین نے یہ کہتے ہوئے پیش کیا تھا کہ عین ممکن ہے کہ کچھ عرصے میں نیچے مٹی سخت ہو جائے اور عمارت کا جھکاؤ رک جائے۔ اس دوران ہر کچھ عرصہ بعد عمارت کا جائزہ لیا جاتا رہا اور بنیادوں کو بھی چیک کیا جاتا رہا تاہم 100 سال تک یہی رپورٹ سامنے آتی رہی کہ ابھی مٹی سخت نہیں ہوئی۔
اس دوران 1275 میں یہ کوشش بھی ہوئی کہ اس کا جھکاؤ روکا جائے جو کامیاب رہی اور اس کے بعد پھر کام شروع کیا گیا۔ 1301 تک اس کی چھ منزلیں تعمیر کر لی گئیں جبکہ باقی کی منزلیں 1350 تک مکمل ہوئیں۔
جھکاؤ نہ رک سکا
اگرچہ تعمیر مکمل ہونے سے قبل یہ واضح ہو چکا تھا کہ ٹاور مزید نیچے نہیں جائے گا تاہم ایسا 100 فیصد نہ ہو سکا اور کچھ برس بعد ہی دھیرے دھیرے جھکاؤ کا سلسلہ پھر شروع ہوا، جس کے بعد بھی اسے روکنے کی مسلسل کوششیں ہوتی رہیں۔
حیرت انگیز بات یہ بھی ہے کہ جھکاؤ کے باوجود بھی یہ عام لوگوں کی رسائی میں رہا لوگ وہاں سیر کے لیے جاتے رہے جس کا سلسلہ 1990 تک جاری رہا اور اس کے بعد خظرناک قرار دیتے ہوئے بند کر دیا گیا اور اگلے 10 سال تک ٹاور کے جھکاؤ کو روکنے کی کوششیں ہوتی رہیں۔
یہ کوششیں کسی حد تک کامیاب رہیں اور ایک بار پھر جھکاؤ کو روک لیا گیا اور 2001 میں اس کو پھر سے عوام کے لیے کھول دیا گیا۔
تقریباً نو سو سال پرانے اس ٹاور کے جھکاؤ کو روکنے کے لیے کام کرنے والی ٹیم کے انچارج اینٹن سٹر کا کہنا ہے کہ ’عمارت کے ساڑھے 24 ہزار سے زائد بلاکس صاف کیے گئے ان کی حالت بہت خراب تھی۔ ہوا کے ساتھ آنے والا سمندری نمک اور بارش کا پانی بھی ٹاور کے جھکاؤ کی وجہ بن رہا تھا۔‘
عالمی تاریخی ورثہ
1987 میں اقوام متحدہ کے ادارے یونیسکو نے پیسا ٹاور کو عالمی تاریخی ورثہ قرار دیا۔ ہر سال 10 لاکھ سے زائد سیاح اس مینار کو دیکھنے پیسا کا رخ کرتے ہیں اور اس سے حاصل ہونے والی رقم ٹاور کی صفائی اور بحالی کے کام پر خرچ کی جاتی ہے۔
پیسا ٹاور اور گیلیلیو کے تجربات
اس عمارت کے بارے میں یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اسی کی اوپری منزل پر سائنسدان گلیلیلیو گیلیلی نے کشش ثقل کے بارے میں تجربات کیے تھے اور وہاں سے مختلف چیزیں نیچے پھینک کر مشاہدہ کرتے رہے تھے۔
سیاحوں کی مستیاں اور زلزلے

جھکاؤ‘ ہی اس کی شہرت کا باعث بنا اور آج اسی کو دیکھنے کے لیے ہر سال لاکھوں سیاح اٹلی کا رخ کرتے ہیں: فوٹو اے ایف پی 

پیسا جانے والے سیاح ایسی تصاویر کھنچوانا نہیں بھولتے جن میں وہ کبھی ٹاور کو سہارا دے کر گرنے سے بچانے کی کوشش کر رہے ہوتے ہیں تو کبھی دوسری طرف سے زور لگا کر سیدھا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ تاہم اس عجوبے سے متعلق ایک حیرت انگیز بات یہ بھی ہے کہ بظاہر گرنے کے قریب یہ ٹاور شدید زلزلوں کے دوران بھی اسی طرح کھڑا رہا ہے۔
ایک تحقیق کے مطابق 1280 سے لے کر ابھی تک اٹلی میں چار بڑے اور کئی معمولی زلزلے آ چکے ہیں جبکہ بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ زلزلوں کے دوران اس کے نہ گرنے کی وجہ وہی نرم مٹی ہے جس کی وجہ سے یہ جھکا ہے۔
گرنے کا امکان ہے؟

ہر سال 10 لاکھ سے زائد سیاح اس مینار کو دیکھنے پیسا کا رخ کرتے ہیں اور اس سے حاصل ہونے والی رقم ٹاور کی صفائی اور بحالی کے کام پر خرچ کی جاتی ہے: فوٹو اے ایف پی

 ماہرین کا کہنا ہے کہ جدید آلات اور طریقہ کار کی بدولت اس کو اگلے 300 برس تک گرنے سے محفوظ بنا لیا گیا ہے۔
اس وقت ٹاور اپنی جگہ سے چھ میٹر تک نیچے جھک چکا ہے اور سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ یہ ہر سال زیرو اعشاریہ 25 انچ کی رفتار سے جھک رہا ہے اور بالآخر کسی روز وہ لمحہ بھی آ سکتا ہے جب یہ زمین بوس ہو جائے۔
 
 

شیئر: