اسرائیل اور حماس کے درمیان 15 ماہ سے زائد عرصے سے جاری جنگ کے بعد غزہ میں جنگ بندی کا معاہدہ طے پا گیا ہے۔
امریکہ، مصر اور قطر نے فلسطینی سرزمین میں جنگ کو روکنے کی طویل مدّت سے جاری کوششوں کے لیے ثالثی کی ہے۔
مزید پڑھیں
-
غزہ جنگ بندی معاہدے پر عالمی ردعمل، ٹرمپ اور بائیڈن کا خیرمقدمNode ID: 884492
-
سعودی عرب کی جانب سے غزہ میں جنگ بندی کے معاہدے کا خیرمقدمNode ID: 884494
خبر رساں ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق مذاکرات کا تازہ ترین دور رواں ہفتے کامیاب ثابت ہوا جس کے بعد قطر کے وزیراعظم نے دوحہ میں اعلان کیا کہ حماس اور اسرائیل جنگ بندی اور یرغمالیوں کی رہائی کے معاہدے پر متفق ہو گئے ہیں۔
اس معاہدے تک پہنچنے کے لیے کن مذاکرات کاروں نے اپنا کردار نبھایا آئیے جانتے ہیں۔
ڈیوڈ برنیا
اسرائیل کی مذاکراتی ٹیم کی سربراہی ملک کی خفیہ ایجنسی کے سربراہ ڈیوڈ برنیا نے کی۔
ڈیوڈ برنیا اسرائیلی مذاکراتی ٹیم کے اعلیٰ ترین رُکن تھے جنہوں نے اسرائیل کی شن بیٹ سکیورٹی ایجنسی کے سربراہ اور وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو کے اعلیٰ سیاسی وعسکری مشیروں کے ساتھ کام کیا جبکہ بائیڈن انتظامیہ سے ملاقات کی۔
رونن بار
اسرائیل کی داخلی سکیورٹی کی ذمہ دار ایجنسی شن بیٹ کے سربراہ رونن بار بھی کئی ماہ سے مذاکرات میں شامل ہیں۔
ان کی ایجنسی فلسطین کے قیدیوں سے متعلق معاملات کو دیکھتی ہے جن میں سے کچھ کو طےشدہ معاہدے کے تحت یرغمالیوں کے بدلے اسرائیل رہا کرے گا۔
رونن بار 2021 سے ایجنسی کی قیادت کر رہے ہیں۔ سات اکتوبر 2023 کو حماس کے حملے کے بعد غزہ میں جنگ کا باقاعدہ آغاز ہو گیا تھا اور ان کی ایجنسی نے عسکریت پسندوں کو پسپا کرنے میں اپنی ناکامی کا اعتراف کیا تھا۔

خلیل الحیا
حماس کے سیاسی بیورو کے قائم مقام سربراہ اور عسکریت پسند گروپ کے چیف مذاکرات کار قطر میں مقیم ہیں تاہم، وہ اسرائیلی یا امریکی حکام سے براہِ راست ملاقات نہیں کرتے بلکہ مصری اور قطری ثالثوں کے ذریعے بات چیت کرتے ہیں۔
اسرائیلی فوج کی جانب سے غزہ کی پٹّی میں حماس کے رہنما یحیٰ سنوار کی ہلاکت کے بعد خلیل الحیا کا کردار نمایاں ہوا۔
یحیٰ سنوار کی ہلاکت سے پہلے بھی خلیل الحیا عسکریت پسند گروپ کے معاملات سنبھال رہے تھے۔ انہیں یحیٰ سنوار کی نسبت کم سخت گیر رہنما سمجھا جاتا ہے اور وہ ان کے نائب کے طور پر بھی ذمہ داریاں نبھا چکے ہیں۔
خلیل الحیا نے 2014 میں بھی جنگ بندی کے لیے مذاکرات میں کردار ادا کیا تھا۔
وہ تنظیم میں ایک طویل عرصے سے عہدے پر فائز ہیں اور 2007 میں وہ غزہ میں اپنے گھر پر ہونے والے اسرائیلی فضائی حملے میں بچ گئے تھے جس میں ان کے خاندان کے کئی افراد مارے گئے تھے۔
شیخ محمد بن عبدالرحمان الثانی
قطر کے وزیراعظم اور وزیر خارجہ نے مذاکرات میں ثالثی کی اہم کوششوں کی قیادت کی۔ انہوں نے پورے مذاکراتی عمل میں حماس کے ساتھ ایک اہم رابطہ کار کا کردار نبھایا کیونکہ اسرائیل اور حماس نے براہِ راست بات چیت نہیں کی۔
مذاکرات کا سب سے نتیجہ خیز مرحلہ ان کے ملک کے دارالحکومت دوحہ میں ہوا۔
شیخ محمد بن عبدالرحمان الثانی نے کہا کہ جنگ بندی کا اطلاق اتوار سے ہوگا۔

حسن رشاد
مصر کی جنرل انٹیلی جنس ایجنسی کے ڈائریکٹر بھی مذاکراتی عمل کے دوران حماس کے ساتھ رابطے میں رہے۔
انہوں نے سابق چیف انٹیلی جنس اہلکار عباس کامل کی جگہ پر اکتوبر 2024 میں عہدہ سنبھالا۔
قاہرہ میں مذاکرات کے کئی دور ہو چکے ہیں اور ثالث معاہدے پر عمل درآمد کے لیے مزید بات چیت کی غرض سے جمعرات کو مصری دارالحکومت جائیں گے۔
بریٹ میک گرک
امریکی صدر جو بائیڈن کے مشرق وسطیٰ کے اعلیٰ مشیر معاہدے کا مسوّدہ تیار کر رہے ہیں۔
بریٹ میک گرک ڈیموکریٹک اور ریپبلکن دونوں انتظامیہ کے تحت نیشنل سیکورٹی کونسل اور وائٹ ہاؤس میں دو دہائیوں سے زیادہ عرصے سے مشرق وسطیٰ کی پالیسی میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔
وہ حماس اور حزب اللہ کے ساتھ تنازعات کے حوالے سے سینیئر حکام کے ساتھ بات چیت کے لیے اکثر مشرق وسطیٰ جاتے رہتے ہیں۔
سٹیو وٹکوف
نومنتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مشرق وسطیٰ کے لیے خصوصی ایلچی نے حالیہ ہفتوں میں نیتن یاہو اور ایک اور اہم ثالث قطری وزیراعظم شیخ محمد بن عبدالرحمان الثانی سے الگ الگ ملاقات کی۔