تیونس میں حکام نے شدید بارش اور برف باری کے بعد 7 گورنریٹس میں کلاسز معطل کرنے کا اعلان کیا ہے۔
سبق نیوز کے مطابق تیونس میں جنرل ڈائریکٹوریٹ آف جنرل ڈیزاسٹر ریسپانس نے حالیہ گھنٹوں میں ریکارڈ بارش ہونے اور محکمہ موسمیات کے الرٹ کے بعد القصرین، بنزرت، جندوبہ، باجہ، سلیانہ، الکاف اور نابل گورنریٹس میں سکول بند کرنے کا اعلان کیا۔
بارش سے مختلف سڑکیں زیر آب ہیں، متعدد اہم سڑکوں سے رابطہ منقطع ہوگیا۔ بعض شہروں میں پبلک ٹرانسپورٹ بھی بند ہوگئی۔ سکول کے طلبہ اور ملازمین اپنے کام تک نہیں پہنچ سکے۔
خاص طور پر دارالحکومت تیونس میں جہاں ٹرام کی لائنز اور کچھ بس ٹریکس موسمی اثرات سے متاثر ہوئے۔
مزید پڑھیں
-
تیونس کے ساحلوں پر سیاحوں کی رونقیں بحال نہ ہو سکیںNode ID: 609211
-
تیونس کے قدیم شہر قیروان کی تاریخی دیوار گرنے سے تین افراد ہلاکNode ID: 820261
-
تبوک میں جبل اللوز پر رواں ماہ کی دوسری برفباریNode ID: 837721
سوشل میڈیا پر شیئر کی جانے والی ویڈیوز اور تصاویر میں بتایا گیا ہے تیونس کی سڑکوں خاص طور پر دارالحکومت اور گورنریٹس نابل، بنزرت کی سڑکیں پانی میں ڈوبی ہوئی ہیں۔ دیگر ویڈیوز میں علاقے کی دکانوں اور گھروں میں بارش کا پانی دیکھا جاسکتا ہے۔
الجزائر کی سرحد کے قریب مغربی تیونس کے پہاڑی علاقوں میں برف باری بھی ہوئی ہے۔ جندوبہ گورنریٹ کے علاقوں تالہ، مکثر، عین، دراھم اور غار الدما میں سڑکیں، درخت اور مکان کی چھتوں نے سفید چادر اوڑھ لی۔ جبکہ درجہ حرارت میں بھی کمی واقع ہوئی ہے اور یہ صفر تک پہنچ گیا۔
نیشنل آبزرویٹری آف ایگریکلچر کی جانب سے جاری کردہ اعدادوشمار کے مطابق یہ برفباری اور بارش کا پانی بڑے ڈیموں میں جانے سے ملک میں پانی جمع کرنے کی صورتحال کو بہتر بنانے میں مدد گار ثابت ہوگا مگر یہ لیول اب بھی کم ہے۔ کل ذخیرہ 626 ملین مکعب میٹر ہے جو اب تک 26.7 فیصد ہے۔
تیونس اس سال ایک بہترین زرعی سیزن کا منتظر ہے جہاں موسم سرما کے آغاز سے اب تک بڑی مقدار میں بارشیں ہوئی ہیں۔ یہاں برسوں کی خشک سالی نے اناج اور دیگر زرعی فصلوں کی پیداوار کو کم کردیا تھا۔ خوراک کی دستیابی بھی متاثر ہوئی ہے۔